حکومت کا صحت کارڈ منصوبہ ایک دھوکہ کیوں ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت کے بعد پنجاب کی بزدار سرکار نے بھی عوام کو صحت کارڈ کے ذریعے ہیلتھ کئیر کی مفت سہولت فراہم کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن ناقدین اس منصوبے کو ایک دھوکہ قرار دے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ صحت کارڈ کے کھاتے میں انشورنس کمپنیوں کو سالانہ 4 سو ارب روپیہ ادا کرنے سے پنجاب میں صحت کا محکمہ کنگال ہو جائے گا اور عوام کے لئے سستا علاج بھی ناپید ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ حکومت پنجاب نے یکم جنوری 2022 سے صوبے کے تین کروڑ 11 لاکھ خاندانوں کو نیا پاکستان صحت کارڈ کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ناقدین کی جانب سے کپتان حکومت کے اس منصوبے کو ایک دھوکا قرار دیا جا رہا ہے اور اسکی کئی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق انصاف ہیلتھ کارڈ کا ظاہری چہرہ تو یہ ہے کہ ہر گھرانے کے سربراہ کے پاس دس لاکھ روپے مالیت کا صحت کارڈ آ جائے گا جس سے وہ فیملی کا علاج کروا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دھوکہ ہے کیونکہ کہا جا رہا کہ اب تو عام آدمی پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی علاج کروا سکتا ہے جنہیں وہ پہلے افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کارڈ پر او پی ڈی میں علاج کی سہولت میسر نہیں یعنی، صحت کارڈ کو صرف اسپتال میں داخل ہو کر ہی علاج کروانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیز، اسے استعمال نہ کرنے کی صورت میں کارڈ ہولڈرز کو کسی بھی قسم کی رقم ادا نہیں کی جائے گی۔

یعنی نوے فیصد سے زائد مریض تو ویسے ہی اس سکیم سے آوٹ ہو گئے جو ہسپتال میں داخل نہیں ہوتے، لہٰذا وہ علاج کہاں سے اور کیسے کروائیں گے۔ حکومت کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ اس کارڈ کے عوض سرکار انشورنس کمپنیوں کو سالانہ 400 ارب روپیہ ادا کرے گی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر 400 ارب انشورنس کمپنیوں کو دے دیا جائے گا تو پنجاب حکومت صحت کا موجودہ انفراسٹرکچر چلانے کے لئے بجٹ کہاں سے لائے گی۔

ناقدین ایک اور اعتراض بھی کر رہے ہیں کہ شہری کو کارڈ میں ملنے والا دس لاکھ کسی وزیراعظم یا حکومتی پارٹی کا نہیں، بلکہ آپ کا اپنا ہی پیسہ ہے۔ لیکن اب یہ پیسہ پہلے انشورنس کمپنی کے ٹھیکیدار کے پاس جائے گا جس میں سے وہ اپنا حصہ رکھنے کے بعد ہی شہریوں کا علاج کروائے گا۔ یعنی ایک طرف انشورنس کمپنی اور کرپٹ ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے جعلی بل بنیں گے اور فراڈئیے لوٹیں گے دوسری طرف ٹھیکیدار کی بچت یہی ہو گی کہ وہ مستحق مریضوں کے جائز بلز پر بھی اعتراض لگائے۔ قابل غور بات ہے کہ پہلے جو بھی خرچ ہوتا تھا براہ راست ہوتا تھا اب اس کا ایک اور لیگل پارٹنر بنا لیا گیا ہے۔

ناقدین کے مطابق اس کا تیسرا قومی نقصان یہ ہو گا کہ ستر برسوں میں اب تک بنایا گیا صحت کا اچھا یا برا سرکاری انفراسٹرکچر تباہ ہو جائے گا جو کئی سو کھرب مالیت کا ہے اور جب دو چار برس بعد کوئی حکومت پریمیم کی رقم ادا نہیں کر پائے گی تو یہی پرائیویٹ سیکٹر اپنی خدمات کی فراہمی روک دے گا اور پیچھے بیک اپ میں سرکاری ہسپتال بھی موجود نہیں ہوں گے۔ صحت کارڈ کے حوالے سے چوتھا بڑا سوال یہ ہے کہ جن بیماریوں کا علاج ہیلتھ کارڈ پر دستیاب نہیں کیا وہ بیماریاں ہی نہیں ہیں یا ان کے مریض، مریض ہی نہیں ہیں؟ ستم تو یہ ہے کہ اس میں کورونا، ڈینگی جیسی وبائیں بھی شامل نہیں ہیں اور ٹیسٹ؟ بہت ساری بیماریوں میں دواوں سے مہنگے تو ٹیسٹ ہو جاتے ہیں۔ ناقدین کو اس اصول پر بھی اعتراض ہے کہ یہ کروڑ پتی کو بھی وہی مفت علاج دے رہا ہے یعنی اس سے بنیادی طور پر اشرافیہ کو نوازا جا رہا ہے جو پرائیویٹ علاج افورڈ کر سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں علاج اتنا ہی مشکل اور ناممکن ہونے جا رہا ہے جتنا خیبر پختونخوا میں ہو چکا اور وہاں کے مریضوں سے پنڈی سے لاہور اور ڈیرہ غازی خان کے ہسپتال تک بھرے پڑے ہیں۔ یہ یورپ کا وہ ماڈل جس کی وجہ سے تارکین وطن علاج وطن واپس آ کر ہی کرواتے ہیں۔

فارن فنڈنگ:حزب اختلاف کا پی ٹی آئی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر حکومت کے پاس انشورنس کمپنیوں کو صرف صحت کارڈ پر دینے کے لئے 400 ارب موجود ہے تو وہ، ملک چلانے کے نام پر، ایک ارب ڈالر کی قسط یعنی 180 ارب روپوں کے لئے ساڑھے تین سو ارب کے ٹیکس کیوں لگا رہی ہے، 200 ارب کے ترقیاتی منصوبے کیوں ختم کر رہی ہے؟ ماہر معیشت ڈاکٹر پرویز طاہر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’انسانی زندگیاں بچانے کی حکمت عملی سب سے بہتر ہوتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورت حال میں حکومت نے 400 ارب کے قریب فنڈز مختص کر دیے مگر اسے پورا کرنے کا کوئی فارمولہ نہیں بتایا ہے۔‘ پرویز طاہر کے بقول پنجاب کا ترقیاتی اور صحت کا بجٹ دیکھا جائے تو اتنی خطیر رقم خرچ کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ’حکومت نے ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کسی قسم کا کٹ یا بچت کا فارمولا نہیں دیا نہ ہی اضافی بجٹ کے بندوبست کا کوئی اعلان کیا ان حالات میں انشورنس کی رقم ادا کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب صحت کارڈ امیر غریب کے لیے بلاامتیاز جاری کرنے کا اعلان کیا گیا جس سے بجٹ پر کافی دباؤ پڑے گا۔ ’مستحقین کے علاوہ سرمایہ دار بھی مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ اس پالیسی کی وجہ سے اس منصوبہ میں سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ آمدن تو وہی ہے اخراجات بھی پہلے جتنے ہوں گے تو پھر اضافی رقم کہاں سے آئے گی جب قرض لے کر ملک چلانا پڑ رہا ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل یہ اعلان کیا ہے ہوسکتا ہے یہ سیاسی نعرہ ہو اور بعد میں آنے والی حکومتوں کے لیے اس منصوبے کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو۔

Back to top button