گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ مریم کیخلاف بلاول بھٹو سے مدد مانگ لی

پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے سلسلے میں پنجاب حکومت سے صف آراء گورنر سردار سلیم حیدر نے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کیخلاف پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مدد مانگ لی ہے۔ جس کے بعد جہاں ایک طرف دونوں اتحادی جماعتوں کے مابین کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے وہیں دوسری جانب نون لیگ کے قریبی حلقوں کے مطابق بلاول بھٹو کے اس معاملے میں مداخلت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پنجاب میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا معاملہ بھی باہمی افہام و تفہیم سے حل ہو جائے گا۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق حکمران اتحاد، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے باوجود پنجاب میں صورتحال نطر آتی یے جہاں مسلم لیگ نکی وزیر اعلیٰ مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے گورنر سردار سلیم حیدر خان ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئینی طاقت کے ہتھیار لئے صفِ آرا دکھائی دیتے ہیں۔ اس’ جنگ‘ میں حمایت کی ’کمک‘ حاصل کرنے کیلئے گورنر پنجاب نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کر لیا ہے۔ تاکہ تمام حل طلب معاملات بارے پنجاب حکومت سے دو ٹوک بات کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اس اختلافِ رائے کو پارٹی کے کچھ حلقوں میں انتہائی سنجیدہ لیا جا رہا ہے اور گورنر کی طرف سے مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی معاملات پر نظر ثانی یا پھر کسی مرحلے پر پنجاب میں الگ ہونے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ لیکن پارٹی رہنما اس حوالے سے ہائی کمان کے فیصلے کےمنتظر دکھائی دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین پنجاب میں شراکتِ اقتدار کے فارمولے کے تحت ایوان وزیراعلیٰ میں پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر کو ایک دفتر اور ایک ایڈیشنل سیکریٹری سمیت سرکاری عملہ فراہم کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی طرف سے مریم نواز حکومت بارے شکایات اور بیانات جاری رہے ۔ پیپلز پارٹی کے سردار سلیم حیدرخان کو گورنر بنائے جانے کے بعد کچھ عرصے کے لئے ان شکوئوں میں تعطل آیا تاہم پنجاب میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے تقرر کے معاملے پر شکایات اختلافات کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوئیں تو دو آئینی عہدوں یعنی وزیراعلیٰ و گورنر میں اختلافات شدت اختیارات کرگئے جس کے بعد اب پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماؤں نے یہ معاملہ مرکزی قیادت کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وائس چانسلروں کے تقرر کے معاملے پر مبینہ طور پر فی کس دو کروڑ روپے کا معاملہ سامنے آیا تھا اور نجی محفلوں میں طرفین کی طرف سے ایک دوسرے پر یہ رقم لینے کے الزامات دہرائے جاتے رہے ہیں لیکن کھلے عام نام لینے سے گریز کیا گیا جس پر گورنر پنجاب نے چند روز قبل پیپلز پارٹی کے رہنمائوں اسلم گل اور میاں عزیزالرحمان چن کے ساتھ گورنر ہائوس میں پریس کانفرنس میں ان الزامات کی تردید کی۔ ساتھ ہی یونیورسٹیوں میں میرٹ پر وائس چانسلرز کے تقرر پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں جماعتوں کی اتحادی کِشتی چلتی رہنا چاہیئے۔ لیکن اگلے روز ہی گورنر کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگر صوبائی حکومت نے ہمارے تحفظات دور نہ کئے تو وہ اپنی قیادت سے بات کریں گے کہ نون لیگی حکومت کے ساتھ ایسے چلنے سے بہتر ہے کہ پنجاب میں حکومت سے باہر آجائیں اور اپوزیشن میں بیٹھنے کا کڑوا گھونٹ پی لیں۔
اس ضمن میں گورنر ہائوس کی ترجمان نے بتایا کہ گورنر کی جانب سے پارٹی قیادت کو اپنے تحفظات بارے آگاہ کرنے کے حوالے سے خبر درست ہے۔ تاہم اس ضمن میں پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک صوبائی تنظیم نے گورنر کے بیان کی روشنی میں کوئی باقاعدہ مشاورت نہیں کی اور نہ ہی کوئی رائے قائم کی ہے۔ بلکہ گورنر کی طرف سے پارٹی چیئرمین کو آگاہ کیے جانے اور اس پر ملنے والے جواب کے بعد ہی پارٹی کوئی لائحہ عمل بنائے گی یا رائے کا اظہار کرے گی۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صوبے میں میرٹ کی تقرریوں کا ہے۔ اگر مسلم لیگ ن اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کو نوازنے کیلئے اداروں کا وائس چیئرمین مقرر کرسکتی ہے تو اسی اصول اور میرٹ پر پیپلز پارٹی کو بھی حصہ ملنا چاہیے جو کہ نہیں مل رہا بلکہ حکومت پیپلز پارٹی کو اکاموڈیٹ ہی نہیں کررہی ، یہاں تک کہ کچے کے علاقے سے منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ممتاز چانگ کو کچے کے حوالے سے معاملات پر گفتگو کرنے کیلئے بھی وزیراعلیٰ نے بار بار باور کروائے جانے کے باوجود وقت نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر پیپلز پارٹی پنجاب میں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومتی اتحاد میں رہنے سے اپوزیشن میں رہنا بہتر ہے اور وہ پارٹی کی جانب سے بھی یہی توقع کررہی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں گورنر کو طرف سے بلاول بھٹو کو آگاہ کیے جانے کے بعد بھی پارٹی چیئرمین کی جانب سے حسبِ خواہش کوئی ایسا رسپانس ملنے کا امکان کم ہے جو پیپلز پارٹی پنجاب توقع کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے قائدین جب مل بیٹھیں گے تو یہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے حکومتی اتحاد کو چھوڑنا کوئی دانشمندی نہیں۔
