حکومت نے بیرسٹر گوہر کو سنگجانی میں بیٹھنے کے بدلے عمران خان کی رہائی کی پیش کش کی تھی : علیمہ خان

عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے حکومت نے بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ سنگجانی میں بیٹھیں عمران خان کو رہا کر دیں گے۔
علیمہ خان نے کہاکہ قافلے پہنچ گئے تو حکومت دباؤ کا شکار ہوگئی،لوگ احتجاج کےلیے آنا شروع ہوئےتو حکومت نےخوف زدہ ہوکر بیرسٹر گوہر کو بلایا تھا۔
انہوں نےکہا کہ حکومت نے دباؤ میں آ کر بیرسٹر گوہر کو بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کےلیے جیل بھجوایا،حکومت نے کہا تھاکہ عمران خان کو 20 دن کے اندر رہا کردیا جائے گا۔
علیمہ خان نے مطالبہ کیا کہ کیسز ٹرائل کے اندر لےکر آئیں،ٹرائل شروع ہوں گے تو لوگوں کی زندگیوں کےکئی سال ضائع ہونےسے بچ جائیں گے۔
ان کاکہنا تھا کہ آج تین چار مقدمات میں پیشی تھی،جناح ہاؤس کا ٹرائل شروع نہیں ہورہا،ہم ضمانت نہیں چاہتے،9 مئی کا ٹرائل شروع کرانا چاہتےہیں۔
پی ٹی آئی قیادت نے 9 مئی کو عوام کو اکسایا : جے آئی ٹی رپورٹ
علیمہ خان نے کہاکہ پراسکیوٹر کے پاس شواہد موجود نہیں ہیں،ٹرائل میں شرمندگی ہوگی کہ لوگوں کا ڈیڑھ سال ضائع کیا،ہمارےخلاف 5 اکتوبر کے مقدمے میں کردار کا پولیس کو پتہ نہیں تھا۔
