گرینڈ الائنس: مولانا اور عمران سچے پریمی کیوں نہیں بن پائیں گے؟

پی ٹی آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے تحفظات اور اعتراضات کا ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے حزب اختلاف کا گرینڈ الائنس کھٹائی میں پڑگیا ہے، جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے عارضی طور پر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے طویل غیر ملکی دورے پر روانگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کے مابین کسی بڑے اتحاد کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

جے یو آئی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے کئی روز گزر جانے کے باوجود مولانا کے استفسارات اور تحفظات کا کوئی جواب نہیں دیا، جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے اتحاد کے حوالے سے ڈیڈ لاک جاری ہے۔ مولانا کے مطالبات کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت نے چپ سادھ رکھی ہے۔ جس کے بعد جے یو آئی سربراہ نے بھی اس حوالے سے بے مروتی برتنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بیرون ملک روانگی کا پلان بنا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کے روپے کی وجہ سے گاحال  جمعیت العلمائے اسلام اور تحریک انصاف کے درمیان حزب اختلاف کا گرینڈ الائنس قائم کرنے کے سوال پر کوئی مفاہمت طے نہیں پاسکی جبکہ سربرہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس گرینڈ الائنس کی قیادت سنبھالنے کی پیش کش کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں مولانا نے اپنے تحفظات اور اندیشوں سے تحریک انصاف کے رابطہ کار رہنماؤں اور مجوزہ الائنس کے دوسرے قائدین کو آگاہ کردیا ہے جس کا جواب تاحال انہیں نہیں ملا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن آئندہ آئندہ ایک دو روز میں طویل غیر ملکی دورے پرجارہے ہیں اور اس دوران ملکی سیاست کے حوالے سے مشاورت کے لئے وہ دستیاب نہیں ہونگے۔ جس کے بعد مجوزہ گرینڈ اپوزیشن الائنس کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے بھی گرینڈ الائنس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ "ابھی یہ بھی معلوم نہیں کہ گرینڈ الائنس بن بھی رہا ہے یا نہیں”۔

مبصرین کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دھتکارے جانے اور پی ٹی آئی قیادت کی بے مروتی کی وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن مایوس ہو چکے ہیں۔قومی اسمبلی میں مولانا کا حالیہ خطاب بھی ان کے سیاسی غم و غصے ، مایوسی اور احساس محرومی کی غمازی کرتا تھا۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے’’ ہیرو‘‘ کاموجودہ سیاسی صورتحال میں ’’زیرو‘‘ ہونے کا تاثر کیوں پیدا ہو رہا ہے؟حکومت کو سیاسی ، پارلیمانی اور آئینی طور پر مضبوط و مستحکم کرنے والے آج اسے سبوتاژ کرنے پر کیوں مجبور ہورہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گھاس نہ ڈالنے کے بعد ماضی قریب میں ایک دوسرے کو برے برے القابات اور الزامات سے نوازنے والے مولانا فضل الرحمان اور عمران خان نے شہباز حکومت کی نفرت میں ایک بار پھر شیر و شکر ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے ماضی کے اختلافات اور بیانات اور پی ٹی آئی قیادت کی بے مروتی کی وجہ سے مولانا ڈیزل اور اڈیالہ کا عمرانڈو سچے پریمی نہ بن سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جمیعت علماء اسلام اور تحریک انصاف نے ایک سٹیج پر مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہو ۔اس سے قبل پرویز مشرف دور میں امریکہ مخالف احتجاج اور عدلیہ بحالی تحریک کے دوران بھی مولانا فضل الرحمان اور عمران خان سٹیج شیئر کر چکے ہیں۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق اس وقت عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں اور خیبر پختونخوا میں انہیں مولانا فضل الرحمان سے اب کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ ’اب ان کی جماعت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس قیادت کا فقدان ہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان اس وقت مقتدر حلقوں پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تحریک انصاف مولانا فضل الرحمان کی قیادت جب کہ فضل الرحمان تحریک انصاف کی مقبولیت کو اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘ اس وجہ سے دونوں جماعتیں محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اس بات کا دکھ ہے کہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو تو ان کا حصہ دیا گیا ہے تاہم جمیعت علماء اسلام کو ان کے جائز حصے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے اس لیے وہ نون لیگ، پیپلز پارٹی اور مقتدر حلقوں سے برابر نالاں ہیں۔’مولانا کا شکوہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں ان کی جماعت اور ان کے اپنے صاحبزادے بھی شامل تھے اور یہ مشکل وقت تھا جب لوگوں نے حکمران اتحاد کو صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور پی ڈی ایم کے سربراہ بھی مولانا فضل الرحمان تھے۔ مشکل وقت میں ساتھ دینے کی وجہ سے ان کا خیال تھا کہ جس طرح نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو عام انتخابات میں حصہ ملا ہے انہیں بھی حصہ ملے گا لیکن صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی۔ ‘

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے اور بائیکاٹ نہ کرنےکا مشورہ دیا  : بیرسٹر گوہر

مبصرین کے مطابق اگرچہ مقتدر حلقوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے مایوس ہونے کے بعد ہی مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کا آپشن استعمال کرنے پر غور شروع کیا تھا۔’تاہم دونوں جماعتوں کے گزشتہ ایک دہائی کے تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد ہو سکے گا یا نہیں اس بارے میں کوئی بھی پیشگوئی کرناممکن نہیں کیونکہ دونوں کے درمیان نفرت کی حد تک مخالفت رہی ہے۔‘ تاہم اگر مستقبل میں بھی یہ اتحاد ہوتا ہے تو ملکی سیاسی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ نقصان مولانا کا ہی ہوگا کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف کے خلاف بہت زیادہ مذہبی کارڈ کا استعمال کیا تھا اور مولانا عمران خان کو ریاست دشمن فتنہ قرار دیتے رہے ہیں۔

Back to top button