ایران میں بڑھتا بحران، مغربی میڈیا نے خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا دعویٰ کر دیا

ایران اس وقت دو بڑے بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، جہاں ایک جانب بڑھتی ہوئی داخلی بے چینی نے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، وہیں دوسری طرف بیرونی فوجی خطرات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ ان حالات میں مغربی میڈیا میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق ایک مبینہ خفیہ متبادل منصوبہ سامنے آیا ہے۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ اسی پس منظر میں برطانوی میڈیا نے ایک انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بدترین صورتحال کی صورت میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماسکو منتقل ہونے کا پلان بی تیار کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر سکیورٹی فورسز احتجاج پر قابو پانے میں ناکام رہیں یا اپنی وفاداری چھوڑ دیں تو آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی ساتھیوں، اہلِ خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ہمراہ ایران چھوڑ سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تہران سے نکلنے کے ممکنہ راستوں کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے، جبکہ محفوظ انخلا کے لیے بیرون ملک اثاثے، جائیدادیں اور نقد رقم جمع کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق خراب معاشی حالات، مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی، امریکی پابندیاں، بدعنوانی اور بدانتظامی نے عوامی غصے میں اضافہ کیا ہے۔ ان حالات کا دباؤ سکیورٹی فورسز پر بھی واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت اور فوجی مداخلت کی دھمکیوں، جبکہ اسرائیلی حکام کے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور شام کی مثالیں ایرانی قیادت کے لیے ایک انتباہ ہیں، جہاں معاشی بدحالی نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ ایسے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کا سخت مؤقف اور مظاہرین کو شرپسند قرار دینا حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس نہ تو بگڑتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی جوہری پروگرام پر ایسے کسی سمجھوتے کے آثار نظر آ رہے ہیں جو امریکا اور اسرائیل کو مطمئن کر سکیں۔
