پاکستانی میں سولر پینلز کا بڑھتا استعمال: حکومت خوفزدہ کیوں ہو گئی؟

سستی بجلی حاصل کرنے کی خاطر سولر پینلز کی خرید میں پاکستانی عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے وفاقی حکومت کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ سولر پینلز کی تنصیب کے رجحان میں زبردست اضافے کی وجہ سے پاور سیکٹر میں اربوں ڈالرز کے قرضے تلے دبی حکومت اس لیے خوفزدہ ہو رہی ہے کہ عوام اب نیشنل گرڈ سے مہنگی بجلی خریدنے کی بجائے شمسی توانائی سے سستی بجلی پیدا کر کے اسے استعمال کر رہے ہیں۔
ماضی قریب میں وفاقی حکومت پاکستانی عوام کو سولر پینلز خریدنے اور ان سے بجلی پیدا کرنے کا مشورہ دے رہی تھی، لیکن اب جبکہ اس رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے تو حکومت نے نہ صرف سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ ان سے بننے والی بجلی کی قیمت خرید بھی کم کر دی ہے تاکہ لوگ نیشنل گرڈ سے ہی زیادہ سے زیادہ بجلی خریدیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کا خاموش انقلاب متمول آبادیوں سے لے کر متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں تک پھیل چکا ہے، کیونکہ صارفین بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور بجلی کے طویل کٹوتیوں سے پریشان ہیں۔
پاکستان کے بڑے شہر کراچی کی ایک تنگ گلی میں، شدید گرمی سے لڑتے ہوئے رہائشی، فریدہ سلیم کے معمولی گھر میں اب وہ چیز موجود ہے جس کا انہوں نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا، یعنی بلا تعطل بجلی کی فراہمی۔ فریدہ سلیم سولر پینلز کے تنصیب کی لاگت کے متعلق کہتی ہیں’’سولر سے زندگی آسان تو ہو جاتی ہے، لیکن ہم جیسے لوگوں کے لیے یہ ایک مشکل انتخاب ہے۔‘‘ فریدہ سلیم کے گھر کی بجلی گزشتہ سال منقطع کردی گئی تھی کیونکہ انہوں نے 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے بعد بطور احتجاج بل ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بیوہ اور دو معذور بچوں کی ماں فریدہ نے اپنے زیورات فروخت کیے اور رشتہ داروں سے ایک لاکھ 80 ہزار روپے قرض لے کر دو سولر پینلز، ایک سولر انورٹر اور توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بیٹری خریدا۔
اب صورتحال مکمل تبدیل ہو چکی ہے کیونکہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جاتا ہے، تو خاندان کے بچے فریدہ کے گھر کے دروازے کے نیچے سے آتی ٹھنڈی ہوا لینے کے لیے وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔24 کروڑ آبادی والے پاکستان میں گھروں کے اوپر کھمبوں پر نصب سولر پینلز ایک عام منظر بن چکے ہیں، جس کی تنصیب کی لاگت عام طور پر دو سے پانچ سال کے اندر وصول ہو جاتی ہے۔
سال 2020 میں پاکستان میں توانائی کے مجموعی ذرائع میں دو فیصد سے بھی کم حصہ ہونے کے باوجود، 2024 میں شمسی توانائی 10.3 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔تاہم، 2025 کے پہلے پانچ مہینوں میں یہ غیر معمولی تیزی کے ساتھ دوگنا ہو کر 24 فیصد ہو گئی، اور توانائی کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی۔ اب پاکستان میں شمسی توانائی نے گیس، کوئلے اور جوہری بجلی کے ذرائع کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو پاور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس میں گزشتہ کئی دہائیوں میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ہے پاکستان غیر متوقع طور پر اپنے قابل تجدید توانائی کے ہدف کی طرف تیزی سے بڑھا ہے، جس کا مقصد 2030 تک اسے اپنی توانائی کا 60 فیصد بنانا ہے۔ پاکستان اس وقت سولر پینلز سے شمسی توانائی حاصل کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کے حصول کی دوڑ کسی حکومت کی پالیسی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ لوگوں نے ہمارے روایتی پاور سسٹم سے واضح طور پر مایوس ہوکر یہ فیصلہ کیا، جس کا ہر شخص کو فائدہ ہی ہوا ہے۔
پاکستان شمسی توانائی کا اپنا زیادہ تر سامان ہمسایہ ملک چین سے حاصل کرتا ہے، جہاں قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ زیادہ پیداوار اور تکنیکی ترقی ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی گرڈ کے صارفین میں کمی نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے جس پر پاور سیکٹر کا آٹھ ارب ڈالر کا قرض ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پریشانی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان مہنگی گیس کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جسے وہ قومی توانائی فراہم کنندگان کو نقصان پر فروخت کرتا ہے۔ بجلی پیدا کرنے والے ان آئی پی پیز میں سے کچھ چین کی ملکیت ہیں، جھکے ساتھ پاکستان طویل مدتی معاہدوں میں بندھا ہوا ہے، ان معاہدوں کے تحت پاکستان کو بجلی کی حقیقی طلب سے قطع نظر ایک مقررہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل گرڈ سے عوام کو بہت زیادہ مہنگی بجلی حاصل ہوتی ہے۔
کیا پنجاب میں نئی پولیس فورسز بنانے کا مقصد PTI کو قابو کرنا ہے؟
دوسری جانب ایک تازہ حکومتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمسی توانائی کے استعمال میں اضافے سے نیشنل گرڈ کے صارفین مالی بوجھ کا شکار ہو گے ہیں کیونکہ ان کے زیراستعمال بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے گزشتہ ماہ، حکومت نے تمام درآمد شدہ شمسی توانائی پر 10 فیصد نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسکے علاوہ توانائی کی وزارت نے سولر پینلز استعمال کرنے والے بجلی صارفین سے اضافی شمسی توانائی خریدنے کی شرح کم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
تاہم اس حکومتی فیصلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ”گھریلو شمسی توانائی کا عروج بجلی کے بحران کا جواب تھا، اس کی وجہ نہیں تھا، جیسا کہ تاثر دیا جا رہا ہے‘‘۔ ماہرین نے گرڈ کے مسائل سے بھی خبردار کیا، جس میں شام کے وقت ہونے والا اضافہ بھی شامل ہے جب شمسی توانائی استعمال کرنے والے لوگ جو توانائی ذخیرہ نہیں کر سکتے، روایتی بجلی کے استعمال پر واپس آ جاتے ہیں۔
