سانحہ گل پلازہ: لائٹ بند نہ ہوتی تو جانیں بچ سکتی تھیں: چیف فائر افسرکاانکشاف

چیف فائر آفیسر نے سانحہ گل پلازہ پر بنے جوڈیشل کمیشن کے روبرو انکشاف کیا کہ اگر پلازہ کی بجلی بند نہ ہوتی اور اعلان ہوتا تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا جس میں ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا اس رات کیا ہوا کچھ بتائیں گے، جس پر ڈی جی ریسکیو نے بتایا ہمیں رات 10 بج کر 35 منٹ پر گل پلازہ میں آگ کی اطلاع ملی، 10 بج کر52 منٹ پر فائر بریگیڈ پہنچ گئی تھی۔
جوڈیشل کمیشن نے پوچھا گل پلازہ میں آپ نے کیسے آگ بجھائی، جس پر واجد صبغت اللہ کا کہنا تھا ہم نے سیڑھی کے ذریعے آگ بجھانا شروع کی جس کی ویڈیو موجود ہے، اس کے بعد کے ایم سی کی فائربریگیڈگاڑیاں اوراسنارکل پہنچے۔
ڈی جی ریسکیو 1122 کا کہنا تھا کےالیکٹرک کو بھی بجلی منقطع کرنے کا کہا تھا، جس پر کمیشن نے پوچھا کیا آپ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شریک تھے؟ انہوں نے بتایا کہ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا جس وقت پہنچے گراؤنڈ پر آگ لگی ہوئی تھی، دوسری اور تیسری منزل والوں کو بچانے کی کوشش شروع کی، گراؤنڈ سے اندر جانے کا راستہ نہیں تھا، میز نائن فلور سے بھی داخلی راستہ نہیں تھا۔
عدالتی کمیشن نے استفسار کیا آپ کے پاس گرل کاٹنے کے آلات تھے، جس ڈی جی ریسکیو نے کہا ہمارے پاس آلات تھے، کھڑکیاں بند اور کچھ پر لوہے کی گرل تھیں۔
جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا متاثرین کے مطابق آگ نیچے تھی ونڈو گرل توڑی جاتی تو لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا؟ جس پر ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا گراؤنڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور والے سمجھ رہے تھے کہ آگ بجھ جائے گی تو نکل جائیں گے جبکہ دکان دار سامان نکال رہے تھے، لیکن اے سی ڈکٹ سے آگ میزنائن اور فرسٹ فلور پر پہنچی۔

ڈی جی ریسکیو کا کہنا تھا گل پلازہ کے اندر قدرتی روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، دھواں اتنا تھا کہ موبائل فون کی ٹارچ سے کچھ بھی نہیں نظر نہیں آرہا تھا، تنگ راستے کی وجہ سے لوگ پھنس گئے تھے۔

Back to top button