گوادر کا ماہی گیر ایک مچھلی بیچ کر کروڑ پتی بن گیا

مہنگائی کےموجودہ طوفان زدہ ماحول میں کسی شخص کے راتوں رات امیر ہونا کسی دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے لیکن گوادر کے ماہی گیر کی قسمت میں کچھ ایسا ہی لکھا تھا جس کے ہاتھ لگنے والی 48 کلو کی کروکرمچھلی ایک کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوئی، مچھلی کا گوشت فی کلو دولاکھ 80 ہزار روپے میں فروخت ہوا۔
چند روز قبل ماہی گیروں کی اس سے کچھ روز پہلے بھی ماہی گیروں کی ایک ٹیم نے 18 کروکر مچھلیاں پکڑی تھیں لیکن یہ مجموعی طور پر 8 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی تھیں، لیکن اب پکڑی جانے والی مچھلی کا شکار 26 مئی کے روز جیونی کے علاقے میں ہوا جو کہ ایرانی سرحد کے قریب ماہی گیروں کی ایک بستی ہے۔
سدھیر بلوچ نامی ماہی گیر نے 48 کلو وزنی مچھلی کو پکڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوئی، اس سے قبل ساجد عمر نامی ماہی گیر اور ان کے ساتھیوں نے گوادر کے علاقے گنز سے 18 کروکر مچھلیاں پکڑی تھیں لیکن وزن کم ہونے کے باعث وہ 8 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی تھیں۔ مقامی ماہی گیر سدھیر بلوچ نے بتایا کہ ان مچھلیوں کی قیمت کا انحصار ان کے ایئر بلیڈر پر ہوتا ہے جس میں ہوا بھرنے کی وجہ سے وہ تیرتی ہیں، جس مچھلی کا حجم بڑا اور وزن زیادہ ہوگا، اس کا بلیڈر بھی بڑا ہوگا اور قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اس مچھلی کو کر کر کی آواز نکالنے کی وجہ سے کروکر کہا جاتا ہے۔ یہ آواز تب نکلتی ہے جب مچھلی دوسرے ساتھیوں سے رابطے کے لیے بولتی ہے۔ اردو میں اس کا نام ’’سوا‘‘ ہے۔کاسمیٹکس اور سوپ میں استعمال ہونے کے علاوہ اس کا بلیڈر شراب کی صفائی کے کام آتا ہے، کروکر مچھلی کا ایئر بلیڈر انسانی جسم کے اندرونی اعضا میں دورانِ سرجری لگائے جانے والے ٹانکوں بالخصوص دل کے آپریشن میں سٹچنگ وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے، سرجری میں استعمال کے لیے کروکر مچھلی کے ایئر بلیڈر کے دھاگے بنائے جاتے ہیں۔
مئی سے جون ان مچھلیوں کے عروج کا موسم ہوتا ہے، یہ انڈے دینے کا وقت ہوتا ہے جس کے لیے ایران اور پاکستان کا درمیانی سمندری علاقہ موزوں ترین ہے، اسی لیے یہ یہاں بڑی تعداد میں پکڑی جاتی ہیں لیکن اس مچھلی کا شکار بھی آسان نہیں، کروکر کے شکار کے مختلف طریقے ہوتے ہیں لیکن اس کی آواز کی مدد سے اس کی موجودگی کا پتہ چلایا جاتا ہے۔
عمران کے کہنے پر فوج مخالف سوشل میڈیا ٹریندز میں کمی
اسکے شکار کے مقامی طریقے کے مطابق پورے غول کو ہی جال میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کو بلوچی زبان میں ’’اڑنگا‘‘ کہا جاتا ہے، اس کے لیے ایک پائپ کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے منہ پر ایک بوتل باندھ دی جاتی ہے۔ماہر شکاری اس پائپ کو سمندر میں ڈال کر اس کا دوسرا سرا اپنے کان سے لگا کر کروکر کی آواز سنتے ہیں، اس سے وہ اندازہ لگاتے ہیں کہ مچھلی کہاں اور کتنے فاصلے پر ہے اور کتنی تعداد میں ہے۔ بعض لوگ جو ماہر نہیں ہوتے، وہ اوپر سے ہی سننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی آواز آ رہی ہے یا نہیں۔ یہ لوگ ادھر جاتے ہیں جہاں لہریں ٹوٹ رہی ہوتی ہیں اور ان لہروں سے کچھ فاصلے پر جال پھینکتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس فائبر کی بنی سپیڈ بوٹس ہیں جو اپنے جال شام کو پھیکتے ہیں اور پھر اگلے روز نکالتے ہیں۔ اگر ان کے جال میں کچھ نہ ہو، تو وہ جال دوبارہ پھینکتے ہیں اور اس عمل کو شکار کے موسم کے دوران دہراتے رہتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کروکر کا شکار ایک ایسے وقت میں کیا جاتا ہے جب مچھلی کے شکار پر پابندی ہوتی ہے، یہ مچھلی صرف اسی موسم میں ہی ساحلی علاقوں میں انڈے دینے کے لیے آتی ہے لیکن یہ مچھلی معدومی کا شکار ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے باعث اس نایاب مچھلی کے نسل کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔
