کیا سپریم کورٹ کاموجودہ طرز عمل خلاف اسلام ہے؟

کیا سپریم کورٹ کے موجودہ طرز عمل خلاف اسلام ہے، سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئینی معاملات دو ، تین جونیئر ججز کیساتھ مل کر نافذ کئے جا رہے ہیں ۔ جونیئر ججز بھی وہ جو ہائیکورٹس سے سنیارٹی کے اُصولوں کو روندتے ہوئے سپریم کورٹ پہنچے۔اس سارے عمل میں عمران خان شریک جُرم ہے ، وہ بطور مہرہ استعمال ہوا اور مستفید بھی ہوا، سپریم کورٹ کے موجودہ طرز عمل پر اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ چاہئے۔
اپنے ایک کالم میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ آج آئین کا نفاذ، انتشار اور افراتفری کو ہوا دے چکا ہے۔ مملکت کی بد نصیبی یہ ہے بحران کا حل ہی کئی مزید بحران پیدا کرنے کو ہے۔ سپریم کورٹ کے پاس سیاسی بحرانوں سے نکلنے کا حل موجود نہیں ہے۔ بحران سے نبٹنے کیلئے دانشمندی، فہم و فراست، قومی اتفاق رائے چاہئے تھا۔ سب سے بڑھ کر صاف شفاف نیت درکار تھی۔ مگر یہ سب موجود نہیں ۔ پارلیمان یعنی سیاستدانوں نے آئین بناکر عدلیہ کو اُسکا رکھوالا بنایا۔ سپریم کورٹ کا رہنما اُصول قران کے سورہ ص کی آیات ہیں۔
’’اے داؤد، ہم نے تجھے زمین میں بادشاہ بنایا ہے، پس تم لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کیا کرو، اور نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا دیں گی، بے شک جو اللہ کی راہ سے گمراہ ہوتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے، یہ رہنما اصول آئین کی روح ہے اور سپریم کورٹ کی عمارت پر چسپاں ہے ، کیا سپریم کورٹ اس آیت پر عمل پیرا ہے؟ اور کیا اس قرانی آیت کی خلاف ورزی کے نتائج سے باخبر ہے؟ رہنما اُصول سے رُوگردانی یا نفسانی اور ذاتی خواہشات کی پیروی، اللہ کے عذاب کی خبر دیتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ یوم حساب سے غافل ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرکشی کہلائے گی۔حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ دو صوبوں میں نوے دن میں الیکشن کروانے کا سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ، بظاہر آئین کی پاسداری اور حاکمیت ہے مگر اس فیصلے میں انصاف کے تقاضے چکنا چور نظر آئے ۔ سپریم کورٹ 15 رُکنی فُل کورٹ بینچ نہ بنا پائی ، حکومتی معاملات کی ادائیگی میں تو سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو کابینہ سے منظوری کا پابند بنا رکھا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بنفس نفیس چند ججوں کی مدد سے پچھلے 14 برسوں سے ساتھی ججوں کو غیر موثر کر رکھا ہے۔ آئین کا مدعا تھا کہ سپریم کورٹ کا فُل کورٹ بوقت ضرورت مل کر آئین کے اوپر طبع آزمائی کرے۔
ایک عرصہ سے خصوصاً جسٹس افتخار چوہدری کے وقت سے تاک تاک کر سپریم کورٹ کے 17 ججز میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر، مرضی کا بینچ بنانا اور پھر آئینی معاملات پر فیصلے صادر کرنا ،رواج بن چکا ہے۔کئی مواقع ایسے بھی آئے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلوں کی نفی کی ۔ آئین کی ایسی توجیہات ہوئیں کہ بینچ پر بیٹھے ساتھی ججز کہہ اُٹھے کہ آئین دوبارہ لکھا جا رہا ہے ۔چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا نے میں یہی کچھ دیکھنے کو ملا۔ انتخابات کے ازخود نوٹس کیس میں جب 9 رُکنی بینچ تشکیل ہوا، تو دو متنازع ججوں کی بینچ پر موجودگی کیخلاف آوازیں بلند ہوئیں۔ چیف جسٹس صاحب نے احتجاج کے باوجود مناسب یہی سمجھا کہ دونوں جج لازمی حصہ رہیں گے۔تب بینچ فکسنگ کا لفظ متعارف ہوا۔ بینچ اس حساب سے بنا کہ سارے ملک میں چار .. پانچ کا تناسب فیصلے سے پہلے سے طے نظر آیا۔ 9 رُکنی بینچ میں دو سنیئر ججوں کی غیر موجودگی نے مزید شکوک و شبہات پیدا کئے۔
حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ثاقب نثار کے وقت سے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تعیناتی کیلئے سنیارٹی کا اُصول پامال رکھا گیا ہے ۔ الجہاد ٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے سے روگردانی کرتے ہوۓ اس کی دھجیاں اڑائی گئیں، تاک تاک کر حساب کتاب کیساتھ ایسے ججز تعینات ہوئے کہ کس تاریخ کو کون سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بن پائے گا۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی کی آہ وبکا صدا بہ صحرا رہی۔ نو رُکنی بینچ کے متنازعہ دو ممبران نے دباؤ میں جب علیحدگی اختیارکی توطے شدہ توازن برقرار رکھنے کیلئے بینچ کو پُر اسرار طریقہ سے 5 تک محدود کردیا گیا ، دو موثر ججوں کو بینچ سے علیحدہ کر دیا گیا تاکہ ترازو حسب منشا تولے ۔۔ ایک واردات یہ ہوئی کہ دو سینئر ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا بینچ بغیر وجہ کے توڑ دیا گیا جبکہ ججز عدالت میں اور کازلسٹ موجود تھی ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس کے باوجود بینچ کیا اور ایک تاریخی فیصلہ دے ڈالا۔ مجھے نہیں معلوم کہ قاضی فائز عیسیٰ کا دو رُکنی فیصلہ غیر موثر کرنے کیلئے اقدامات ہونگے یا سپریم کورٹ اپنے ماتھے پر لاقانونیت کا سہرا باندھے اسے نظر انداز رکھے گی۔جہاں سپریم کورٹ فیصلہ سُننے سے پہلے چند پسندیدہ ججوں پر انحصار کرے، اپنے ادارے اور برادر ججوں کیساتھ ناانصافی کرے تو اس کا اپنا رہنما اُصول’’پس تم لوگوں میں انصاف کیساتھ فیصلہ کرو ‘‘کہاں فٹ ہوگا ؟سپریم کورٹ کے موجودہ طرز عمل اور رہنما اُصول پر اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ چاہئے۔حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ۔ میری ہمیشہ سے تکرار یہی ہے کہ ، سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی انتشارو افراتفری بے قابو ہو جائیں گے۔سپریم کورٹ انصاف کو زبردستی نافذ کرے یا سپریم کورٹ کے فیصلے کے نفاذ کو زور زبردستی روکا گیا، دونوں صورتوں میں خانہ خرابی و بربادی ہوگی، رہے نام اللہ کا۔
