کیا حکمرانوں کی خوشامد کرنے والے ملا ایمان فروش ہیں؟

 

 

 

 

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ علمائے حق حکمرانوں کے دربار میں حاضریاں نہیں دیتے بلکہ حکمران خود رہنمائی کے لیے علمائے حق کے پاس جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی عالم جبہ و دستار پہن کر حکمرانِ وقت کے سامنے بیٹھ کر اس کی شان میں قصیدے پڑھے اور اسے خوش کرنے کے لیے نعرے لگائے تو حکمران کو جان لینا چاہیے کہ وہ عالم نہیں بلکہ ایسا شخص ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دین فروشی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے حکمران فتویٰ فروش مولویوں کی خوشامد کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ وہ صرف اللہ کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر لکھتے ہیں کہ علمائے حق کو انبیاء کرامؑ کا وارث اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے علم کو عمل کے ساتھ جوڑا۔ ایک حدیث نبویؐ کے مطابق انبیاء کرامؑ نے اپنی وراثت میں درہم و دینار نہیں بلکہ علم چھوڑا، اور جس نے اس علم کو حاصل کیا اس نے عظیم میراث پا لی۔ ایک اور حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ علمائے حق زمین میں ان ستاروں کی مانند ہیں جن کے ذریعے اندھیروں میں راستہ تلاش کیا جاتا ہے۔

 

حامد میر کے مطابق قرآن مجید بار بار اللہ سے ڈرنے، سچ بولنے اور وعظ و نصیحت پر اجرت نہ لینے کی تلقین کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کو بہترین جہاد اس لیے قرار دیا تھا کہ میدانِ جنگ میں جان بچنے کا امکان ہوتا ہے، لیکن ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا جان کے یقینی جانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ان کے بقول علم کو عمل کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے اور محض گفتار کو کلمۂ حق نہیں کہا جا سکتا۔

 

حامد میر کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں بعض لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر خود کو حق گو سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ حقیقی کلمۂ حق وہی ہے جو جابر سلطان کے سامنے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جائے۔ حامد میر کے مطابق حضرت امام حسینؓ کا یزید کی بیعت سے انکار کلمۂ حق کی سب سے روشن مثال ہے، جنہوں نے اپنا انجام جانتے ہوئے بھی حق اور سچ کی جنگ سے دستبردار ہونے سے انکار کیا اور اپنی جان قربان کر دی۔

 

حامد میر کہتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کی اس روایت کو بعد کے ادوار میں امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام جعفر صادقؒ اور امام احمد بن حنبلؒ جیسے عظیم علماء نے زندہ رکھا۔ عباسی خلیفہ منصور نے امام ابو حنیفہؒ کو قاضی القضاۃ بنانے کی کوشش کی، انکار پر انہیں قید اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کا جنازہ جیل سے اٹھا۔ اسی طرح امام مالکؒ اور امام جعفر صادقؒ کو بھی جابر حکمرانوں کے ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ امام احمد بن حنبلؒ کا ذکر کرتے ہوئے حامد میر کہتے ہیں کہ عباسی خلیفہ مامون اور بعد ازاں معتصم باللہ نے انہیں سرکاری فتویٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، انکو انکار کرنے پر دربار میں کوڑے مارے گئے، مگر انہوں نے حکمرانوں کی اطاعت قبول نہیں کی۔

 

ان علماء نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اللہ کی کتاب مومن کو غلامی نہیں سکھاتی بلکہ ظلم سے آزادی کا شعور دیتی ہے۔

حامد میر تاریخ کے ایک اور باب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف حافظِ قرآن ہونے کے باوجود ظلم و جبر کی علامت بن گیا، جبکہ حضرت سعید بن جبیرؒ جیسے بزرگ نے اسی جابر حکمران کے سامنے اسے ظالم کہنے کی جرات کی۔ حجاج کے حکم پر سعید بن جبیرؒ کو شہید کیا گیا، لیکن ان کی شہادت کے بعد خود حجاج بن یوسف عبرت کا نشان بن گیا اور چند ہی دنوں میں ذلت آمیز انجام سے دوچار ہوا۔

پنجاب میں بسنت کی اجازت لوگوں کے قتل کا لائسنس قرا

حامد میر کہتے ہیں کہ تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ علمائے حق کبھی حکمرانوں کی خوشامد نہیں کرتے اور نہ ہی اقتدار کے ایوانوں کے چکر لگاتے ہیں۔ ان کے بقول جب کوئی عالم دین حکمرانِ وقت کی تعریفوں میں مصروف ہو جائے تو وہ علمائے حق نہیں بلکہ علمائے سوء بن جاتا ہے، جبکہ اللہ سے ڈرنے والے حکمران کبھی فتویٰ فروشوں کے محتاج نہیں ہوتے اور اپنے ہر فیصلے میں صرف اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہیں۔

Back to top button