ججز نے عمران کے ساتھ "گڈ ٹو سی یو” پالیسی کیوں اپنا رکھی ہے؟

یہ سپریم کورٹ اف پاکستان کے جج حضرات بھی عجیب و غریب مخلوق ہیں۔ آصف زرداری گرفتار کے کر عدالت میں پیش کیے جائیں تو انہیں مسٹر 10 پرسنٹ بنا کر 11 برس کے لیے زندان میں ڈال دیا جاتا یے۔ نواز شریف کو پانامہ کیس میں عدالت مین گھسیٹا جاتا ہے اور پھر بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے کے جرم میں وزارت عظمی سے فارغ کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن جب باری لاڈلے عمران خان کی آتی ہے اور انہیں بطور ملزم عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو جج حضرات نہ صرف انہیں "گڈ ٹو سی یو” کہہ کر ویلکم کرتے ہیں بلکہ قید سے نکلنے کے لیے مذاکرات کے مشورے بھی دیتے ہیں۔ یہ خان صاحب کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی  مذاکرات کی تجویز تسلیم کرتے ہوئے ہاں کر دی ہے لیکن اسکا کوئی نتیجہ نکلتا مشکل یے۔ اسکی بنیادی وجہ کپتان کے بار بار کے یو ٹرن ہیں جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی لیے جا سکتے ہیں۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ ذرا سوچئے کہ اگر جہانِ عشق کے اصولوں کا اطلاق دنیائے سیاست پر کر دیا جائے تو کیا دلچسپ بلکہ مضحکہ آمیز منظر ابھرے گا۔ قمر جاوید باجوہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہم پر عمران خان کے عشق کا بھوت سوار ہو گیا تھا۔ اور اُس کے بعد ایک عالم نے اس لو سٹوری کی ایک ایک قسط غور سے دیکھی اور بھگتی، یعنی بہ قولِ شاعر ’اس نقشِ پا کے سجدے نے کیا کیا کِیا ذلیل۔ ‘ تاریخ بتاتی ہے کہ عمران خان روزِ ازل سے معشوق رہے ہیں، یعنی عشاق کے جتھوں کے نرغے میں رہے ہیں، اور جب بھی کسی عاشق سے دل بھر جاتا، بانی صاحب اُسے فارغ کر دیتے۔ عمر بھر، ہر تعلق میں ترکِ تعلق کا فیصلہ ہمیشہ انہوں نے خود فرمایا ہے۔ اسی ذہنی ساخت کا شاخسانہ ہے کہ انہیں اب تک یقین نہیں آ رہا کہ اس بار، یعنی پہلی مرتبہ، اُن کے عشاق نے ان سے منہ موڑ لیا ہے۔ پس یہ ثابت ہوا کہ کائناتِ عشق کے انوکھے آئین کا اطلاق جہانِ سیاست پر نہیں ہو سکتا۔

حماد غزنوی کے مطابق سیاست دانوں کو آپس میں بات چیت کرنا ہو گی، اس نکتے پر مختلف الخیال لوگ متحد نظر آ رہے ہیں، اب تو سپریم کورٹ بھی واضح لفظوں میں مشورہ دے رہی ہے کہ ہرمسئلے کے حل کے لیے منہ اٹھا کر عدالتوں میں نہ آ جایا کریں، آخر پارلیمنٹ کس مرض کی دوا ہے، وہاں جائیے، اکٹھے بیٹھیے، بات چیت کیجیے، اور قوم کو اس کے مسائل کا حل دیجیے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ عمران خان کے اعتزاز احسن جیسے مخلص ہم درد بھی انہیں سیاست دانوں سے بات چیت کا مشورہ دے رہے ہیں۔ میڈیا کی ہر جمہوری آواز تو مسلسل مفاہمت اور ڈائیلاگ کی افادیت اجاگر کر ہی رہی ہے۔ جب کہ دوسری طرف عمران مسلسل انکاری تھے ‘۔ کبھی کہتے کٹھ پتلیوں سے بات نہیں کروں گا، کبھی کہتے فارم 47 والی ناجائز حکومت سے مذاکرات نہیں کروں گا، ان کی ہدایات پر عارف علوی بھی بولے کہ کپتان مالیو اور ٹھیلے والوں سے بات نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے بھی ہم ان سے کئی سال یہی سنتے رہے کہ ’کرپٹ لوگوں سے بات نہیں کروں گا۔‘ یعنی دلیل بدلتی رہی مگر نتیجہ وہی نکلا کہ ’بات نہیں کریں گے۔ ‘

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اگر 2018 میں RTS والی حکومت کو شہباز شریف چارٹر آف اکانومی پر بات کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں، اگر 190 ملین پائونڈ اسکینڈل میں ملوث شخص سے بات چیت ہو سکتی ہے، اور اگر عمران خان کی دھاندلی زدہ بے اختیار حکومت سے بات ہو سکتی تھی، تو آج بھی سیاست دانوں کے درمیان گفتگو ہونی چاہیے۔ حماد کہتے ہیں کہ میں نے یہاں تک کالم لکھا تھا کہ خبر ملی کہ عمران خان مذاکرات پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ سبحان اللہ۔ بہت ہی پیارا یو ٹرن لیا یے ہمارے خان نے  غالباً ججوں کی جانب سے قیمتی مشورہ ملنے کے بعد عمران خان بھانپ گئے تھے کہ معاشرے میں سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر تیزی سے اتفاقِ رائے پیدا ہو رہا ہے، اور انہیں اس سلسلے کی واحد رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے ’نیچی ذات کے‘ سیاستدانوں سے مذاکرات کا فیصلہ یقیناً تاخیر سے کیا ہے، مگر ہم اسے بھی غنیمت تصور کرتے ہیں۔ لیکن موصوف مذاکرات میں 9 مئی پر کمیشن بنانے کی بات کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنی 180 سیٹوں پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، یا پارٹی راہ نمائوں کی رہائی کی راہ تلاش کرنا چاہتے ہیں، تو ضرور کریں۔ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتیں اپنے ایجنڈے کے ساتھ ابتدائی گفتگو کریں ۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں ان ممکنہ مذاکرات سے کوئی فوری اور عظیم الشان توقعات وابستہ نہیں ہیں۔ مگر یہ صحیح سمت ہے، یہ نارمل معاشرے کی طرف ایک قدم ہے، یہ منظر آنکھوں کو بھلا لگے گا۔ عمران نے اس محمود اچکزئی کو سیاسی عناصر سے رابطے کی سربراہی سونپی ہے جن کا وہ ماضی میں جلسوں میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔اچکزئی صاحب کا سیاسی حلقوں میں احترام ہے، وہ اس ذمہ داری کے لیے موزوں شخص ہیں خصوصا اب جب خان صاحب بھی ان کا احترام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ویسے بھی عمران موجودہ حکومت سے براہِ راست بات کرنے سے شرما رہے ہوں گے، سو اچکزئی صاحب کے پیچھے چھپ رہے ہیں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں، انہیں اپنی سیاست اور بیانیہ بھی بچانا ہے۔

بلوچستان میں اب تک کتنے پنجابی شہریوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے؟

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر خوب لڑے، انہوں نے ایک دوسرے کی حکومتیں الٹائیں، وہ آخری حد تک گئے اور جب دونوں اس ’کھیل‘ کو سمجھ گئے تو دونوں نے ایک دوسرے سے رابطہ کیا، معافی تلافی ہوئی، اور چارٹر آف ڈیموکریسی وجود میں آیا۔ دونوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف ایک دوسرے سے قوت حاصل کی، اور وطن واپس لوٹ آئے۔ اگر بڑی تصویر پر نظر رکھی جائے تو تاریخ شاہد ہے کہ اس ملک کے سب سیاست دان آخرش ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ حماد غزنوی کے بقول وہ امید کرتے ہیں کہ عمران خان اب عشق معشوقی کے چکر سے نکل آئیں گے اور اپنے پرانے یاروں کو بھلا کر نئے سویلین دوست بنائیں گے۔

Back to top button