بے سرے اور بے تا ل پاکستان کا با جا کس نے توڑا ؟

پاکستان میں آج تک اگر کسی طبقے نے مسلسل احتساب کا سامنا کیا ہے تو وہ سیاست دان ہیں ، یہ معاملہ پروڈا اور ایبڈو سے شروع ہو کر، نیب سے گزرتا ہوا، توشہ خانے تک آ پہنچا ہے۔احتساب کی ان چھلنیوں سے جج، جرنیل اور بیوروکریٹ نہیں گزارے گئے، یہ سیاست دانوں کا مقسوم رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے اپنے کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ توشہ خانے کی جاری شدہ تفصیلات کا یہی پیغام ہے یعنی اس حمام میں سب سیاست دان ننگے ہیں جو چمچ کانٹے سے گاڑیوں تک سب کچھ سمیٹ کر لے گئے۔ جب کہ باقی سب سادھو ہیں، مہنت ہیں۔یہ ملک آج تک سیاست دانوں نے نہیں چلایا، انہی سادھوئوں نے چلایا ہے، انہی جوگیوں نے اس ریاست کو اس حال تک پہنچایا ہے۔کنٹرولڈ جمہوریت کا حساب سیاست دان سے مانگنا بھی نادانی ہے، جواب تو کنٹرول قائم رکھنے کے شوقین ہی دے سکتے ہیں۔ اور یہ بھی تو سچ ہے کہ سارے لیڈر آپ ہی کی پیش کش ہیں۔آپ بتائیں یہ ملک اس حال کو کیسے پہنچا؟ ایسا ہمہ گیر زوال، معیشت، معاشرت، سیاست سب کچھ تباہ کر دیا گیا۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا راگ دبی دبی آواز میں گانے کی محدود اجازت دی جاتی ہے، کبھی سیاست دان گھڑے میں منہ ڈال کر سیاسی ریاض کرتے ہیں اور کبھی لے بٹھا کر آئینی ترانے گنگناتے ہیں، یعنی کنٹرولڈ ریاض کہئے یا کنٹرولڈ جمہوریت، ایک ہی بات ہے۔ کبھی کبھی ضیا الحق جیسے ’ابا جی‘ سے بھی واسطہ پڑ جاتا ہے جو چاہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو جمہوریت کا راگ الاپنے کے بہ جائے خود کو صرف ثنا خوانی تک محدود کر لینا چاہئے۔اور اس تمام کنٹرول کے باوجود کئی مرتبہ برہمی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ جمہوریت کا باجا ہی اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ کچھ وقت گزرتا ہے تو باجا مرمت کے لئے دوبارہ گوال منڈی کے کاری گر سے ٹھیک کروایا جاتا ہے۔اور پھر سے چھوٹے کمرے سے ڈھولکی کی پولی پولی تھاپ سنائی دینے لگتی ہے۔ پچھتر سال سے یونہی چل رہا ہے۔ پہلی مرتبہ ایوب خان نے باجا اٹھا کر گلی میں پھینکا تھا، بھٹو صاحب نے بچے کھچے باجے کے کالے سفید سُر اکٹھے کئے، باجا مرمت کر کے ہلکا ہلکا تان پلٹا شروع ہی کیا تھا کہ ضیاالحق صاحب آن دھمکے، حیف اُس باجے کی قسمت۔چار دفعہ جمہوریت کا باجا بجایا گیا، اور باقی وقت کنٹرولڈ جمہوریت۔ جن سیاست دانوں کو روزِ اول سے اس ریاست میں مطعون قرار دیا گیا آخر انہی سے ٹوٹا پھوٹا باجا ٹھیک کروایا جاتا ہے حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ ملک کے حوالے سے اچھی خبر سنے ہوئے بھی مدت گزر گئی، دوستوں کی ہر محفل ناامیدی کے نقطے پر تمام ہوتی ہے، یہاں سے ہجرت کرنے والوں کا ذکر رشک سے کیا جاتا ہے۔ایسا کیوں ہوا؟ ایسی بے سُری ریاست، ایسا بے تال ملک۔آپ نے سب کچھ آزما کے دیکھ لیا، کنٹرول کر کے بھی دیکھ لیا، باجا گلی میں پھینک کر بھی دیکھ لیا، یہ سب سٹرم پٹرم نسخے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔اب ایک دفعہ، صرف ایک دفعہ، ہماری درخواست پر آئین کو بھی آزما کر دیکھ لیں۔ وقت ختم ہو رہا ہے۔ اب کے یہ باجا ٹوٹا تو شاید اسے کوئی بھی نہ جوڑ سکے!

کیا ڈاکٹر یاسمین راشد کو ”تہمینہ دولتانہ پلس“ کہنا درست ہے؟

Back to top button