کون نواز شریف کو اگلے الیکشن سے بھی باہر رکھنا چاہتا ہے

جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کہتے ہیں ہم پر عمران خان کے عشق کا بھوت سوار تھا۔اب آپ ہی بتائیے آئینِ عشق کے آگے 73 کے آئین کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی، عشق میں تو سو خون معاف ہوتے ہیں، یہ آئین شائین کیا بیچتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھوت اب بھی انصاف کے ایوانوں میں طبلِ عشق کی تھاپ پر دھمال ڈال رہا ہے، ابھی دل بھرا نہیں، اب بھی یہی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن نواز شریف کے بغیر کروا دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے اپنے کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے دو مقبول ترین سیاسی راہ نمائوں میں سے ایک کو وزارتِ عظمیٰ سے نکالا گیا، اسے نااہل کیا گیا، پھر اسے تا حیات نااہل کیا گیا، پھر اسے پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا، پھر اسے جیل میں ڈالا گیا، اور یہ سب کچھ 2018 کے الیکشن سے پہلے کرنا ضروری سمجھا گیا۔باجوہ صاحب سے جج ارشد ملک تک بہت سے شرکائے جرم ہمیں وضاحت سے بتا چکے ہیں کہ یہ سب کس ’آئین‘ کے تحت کیا گیا تھا۔
حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ کسی فلم کو کبھی بھی درمیان سے نہ دیکھیں، نہ آپ کو کرداروں کی سمجھ آئے گی نہ کہانی کی۔ مثلاً، ادھوری فلم دیکھنے والے کبھی یہ نہیں سمجھ سکیں گے ایک کردار کو اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فلم بین نعرے لگا رہے ہیں ’اور مارو‘۔ اس لئے کہ ادھوری فلم دیکھنے والوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ کردار ہیروئن کی آبرو ریزی کا مرتکب ہو چکا ہے۔ اوریہ اصول صرف فلموں پر لاگو نہیں ہوتا، سیاست و عدالت کا بھی ہو بہو یہی معاملہ ہے۔جیسے ہمارے کچھ دوست ہیں جنہوں نے ملک میں جاری سیاسی و عدالتی فلم ’آئین کہتا ہے 90 دنوں میں انتخاب‘ والے سِین سے دیکھنی شروع کی ہے۔یہ دوست ادھوری فلم پر تبصرہ کر رہے ہیں، نہ یہ کرداروں کی اصلیت سے آگاہ ہیں، نہ کہانی کی بڑھت سے۔ آئین کی ایک شق تو فلم کے ایک سِین کی طرح ہوتی ہے، اس کے سیاق و سباق کے بغیر تو اسے سمجھا ہی نہیں جا سکتا ۔یہ جو فلم ہے اس کے 280 سِین ہیں، اور ہر ہر سِین اہم ہے۔ہم نے یہ فلم ٹائٹلز سے دیکھ رکھی ہے تو آئیں آپ کو یہ کہانی شروع سے سناتے ہیں۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آئین کی ایک شق ہے تریسٹھ اے، اس کی سات سب کلاز ہیں، اس شق کو تفصیل سے، اچھی طرح تسلّی سے پڑھئے، دنیا کا کوئی سائنس دان اس شق کی یہ تشریح نہیں کر سکتا کہ ممبر کا ووٹ سرے سے شمار ہی نہیں کیا جائے گا۔آپ شریف الدین پیرزادہ کی طرح مکاری پر اتر آئیں تو بھی یہ استنباط نہیں کر پائیں گے۔لیکن آئین کے ساتھ یہ نازیبا حرکت دھڑلے سے کی گئی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کروائی کہ پہلے یہ غور کر لیجئے کہ کیا پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں آئین کے مطابق توڑی گئیں، مگر آئین کے رکھوالے نوے دن کی تسبیح کے منکے پھیرتے رہے۔ کیا اب یہ کوئی راز ہے کہ پچھلے پانچ سات سال عملی طور پر آئین کو مفلوج کر کے ملک چلایا گیا۔ باجوہ، فیض، ثاقب نثار، آصف کھوسہ کیا آئین کی حرمت بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے تھے؟ آئین کی کس شق کے تحت ہائی برڈ نظام کا سومنات تراشا گیا تھا؟ کیا ہم فیض حمید کی ’دو سالہ محنت‘ کا جواز آئین کے کن اصولوں میں تلاش کریں؟ کیا فائز عیسیٰ کی پشت میں آئینی چُھرا گھونپا گیا تھا؟ جسٹس شوکت صدیقی کو بس کے نیچے پھینکتے ہوئے کسی کو آئین کا خیال آیا؟ پاناما بینچ کے ایک فیصلے پر ہی غور کر لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ سپریم کورٹ کو آئین کا کتنا ’شوق‘ ہے۔
حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ تماشا دیکھئے، جب پچھلے سال انہی دنوں عمران خان نے پے در پے پانچ مرتبہ آئین توڑا تو کچھ دوستوں نے چھت پر چڑھ کر بغلیں بجانے کا اہتمام کیا تھا، کیسا سرپرائز دیا، سب مخالفین ہکا بکا رہ گئے، کپتان جیت گیا ، وغیرہ وغیرہ۔اب وہی حضرات آئین اور’ نوّے دن‘ کی محبت میں گھلے جا رہے ہیں۔ عمران خان بھی صبح شام آئینی ٹچ دے رہے ہیں، جنرل ضیاالحق اور جنرل ایوب خان کے پیرو کار بھی 90 دن کے ترانے گا رہے ہیں ۔کمال ہو گیا۔ آئین کا بُھرکس نکالنے والوں کو آئین کی ایک شق سے عشق ہو گیا ہے۔آئین کی 280 شقیں ہیںاور ہمارے لئے سب محترم ہیں، ہم اُس شق کا بھی احترام کرتے ہیں جو انتخابات عبوری حکومتوں کے تحت کرانے کا حکم دیتی ہے۔کیا عدلیہ اکتوبر میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر آئین توڑنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ جج صاحب، کچھ تو فرمائیں ۔
