رانا ثنا اللہ کی جگہ حمزہ شہباز پنجاب نون لیگ کے صدر

 

 

 

مسلم لیگ (ن) میں بڑی تبدیلیوں کی تیز ہوتی ہوئی بازگشت نے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے۔ پنجاب سے رانا ثناء اللہ کی چھٹی کروا کر حمزہ شہباز کو نون لیگ کی کپتانی دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق حمزہ شہباز کو جلد مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صوبائی صدر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی کے مضبوط اور متحرک رہنما رانا ثنا اللہ کو جنرل سیکرٹری کی اہم ذمہ داری سونپنے کا امکان ہے۔ مبصرین کے مطابق نون لیگ کی جانب سے اگر یہ فیصلے حقیقت کا روپ دھارتے ہیں تو پنجاب کی سیاست میں ایک نیا پاور اسٹرکچر سامنے آسکتا ہے۔ یہ تقرریاں جہاں مسلم لیگ (ن) کو ازسرنو منظم کرنے اور آئندہ سیاسی چیلنجز کے لیے تیار کرنے کی ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتی ہیں۔وہیں یہ کمبی نیشن آنے والے سیاسی معرکوں میں گیم چینجر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پارٹی کو ایک بار پھر پنجاب میں متحرک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کیلئے تنظیمی سطح پر بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ حمزہ شہباز اور راناثناء اللہ کی نئے عہدوں پر تقرری کے حوالے سے مشاورت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی صدر نواز شریف کی مشاورت سے کیا جائے گا، جو ان دنوں تنظیمی معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ تبدیلی عمل میں آتی ہے تو نون لیگ کے موجودہ مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال سے یہ ذمہ داری واپس لے لی جائے گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ممکنہ ردوبدل دراصل پارٹی کو ازسرنو منظم کرنے اور آئندہ سیاسی چیلنجز کے لیے زیادہ مؤثر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ نواز شریف چاہتے ہیں کہ احسن اقبال اپنی وزارت اور ترقیاتی منصوبوں پر مکمل توجہ دیں، جبکہ رانا ثنا اللہ کو مرکزی سطح پر فعال کردار دیا جائے۔

 

خیال رہے کہ رانا ثنا اللہ کو مسلم لیگ ن کے اندر ایک تجربہ کار، سخت گیر اور متحرک رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے 1993 میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد سے مسلسل پارٹی کے وفادار ساتھی رہے ہیں۔ وہ متعدد بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 2018 میں قومی اسمبلی پہنچے اور بعد ازاں سینیٹ کے رکن بھی بنے۔ شہباز شریف کے ساتھ ان کا طویل سیاسی ساتھ رہا ہے، خصوصاً پنجاب میں بطور وزیر قانون ان کی کارکردگی کو خاصا مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ 2019 میں ایک منشیات کیس میں گرفتاری کے باوجود پارٹی قیادت نے ان پر اعتماد برقرار رکھا اور انہیں مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صدر مقرر کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قیادت کے قریب اور قابلِ اعتماد رہنما تصور کیے جاتے ہیں۔ انہیں مریم نواز سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ دوسری جانب گزشتہ لمبے عرصے سے گوشہ نشینی اختیار کرنے والے حمزہ شہباز کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انھوں نے سیاسی طور پر دوبارہ متحرک ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے پارٹی قیادت کو اپنی آمادگی سے آگاہ بھی کیا ہے۔ حمزہ شہباز کے قریبی ذرائع کے مطابق اگر انہیں صوبائی صدارت سونپی جاتی ہے تو وہ اس ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے نبھانے کے لیے تیار ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق اگر یہ فیصلے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک نیا اور مضبوط پاور اسٹرکچر ابھر کر سامنے آئے گا۔ حمزہ شہباز کو ایک منظم اور انتظامی صلاحیتوں کے حامل رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو پارٹی کو نچلی سطح تک فعال بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب رانا ثنا اللہ اپنی جارحانہ سیاسی حکمت عملی اور تنظیمی گرفت کے باعث پارٹی کے لیے ایک مؤثر جنرل سیکرٹری ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حمزہ شہباز اور رانا ثنا اللہ کا یہ ممکنہ کمبی نیشن پارٹی کے لیے ایک متوازن قیادت فراہم کر سکتا ہے، جہاں ایک طرف تنظیمی نظم و ضبط اور انتظامی صلاحیت موجود ہوگی، تو دوسری جانب سیاسی حکمت عملی اور جارحانہ انداز بھی شامل ہوگا۔ یہ جوڑی پنجاب میں پارٹی کو مزید مستحکم کرنے اور کارکنوں کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق حتمی فیصلے سے قبل پارٹی کا ایک اہم اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے، جس میں ان تمام تنظیمی تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔ اگر یہ فیصلے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف پارٹی کے اندر ایک نیا پاور اسٹرکچر سامنے آئے گا بلکہ پنجاب کی سیاست میں بھی ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ مبصرین کے بقول مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے سیاسی معرکوں کے لیے خود کو تیار کرنے کے عمل میں ہے، اور یہ متوقع تبدیلیاں اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔

 

 

پاکستان نے امریکی سیٹلائٹ کمپنی کو سکیورٹی خطرہ قرار دے دیا

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت پنجاب میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے اور آئندہ انتخابات کے لیے خود کو بہتر انداز میں تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں قیادت کی سطح پر یہ تبدیلیاں پارٹی کو ازسرنو منظم کرنے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور مخالف سیاسی قوتوں کا مؤثر مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ مبصرین کے بقول اگر یہ کمبی نیشن اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف پارٹی کے اندر ایک نئی جان ڈالی جا سکتی ہے بلکہ پنجاب کی سیاست میں بھی ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جو آنے والے سیاسی معرکوں میں واقعی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button