ہری پور ضمنی الیکشن: خیبر پختونخوا حکومت کا مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے ہری پور میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ہری پور ضمنی الیکشن کی انکوائری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ کار کلاس فور ملازمین سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک پھیلا ہوگا، اور اگر کوئی شخص ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
شفیع جان نے کہا کہ اگرچہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے زیر انتظام افسران دھاندلی میں شامل نہیں، تاہم مکمل شفافیت کے لیے انکوائری کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول سہیل آفریدی نے انتخابات کے انعقاد میں جس طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ہری پور کے ضمنی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھی بھجوا رہی ہے، جبکہ پریزائیڈنگ افسران کے بیانات اور ان کے حلف نامے بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے-18 ہری پور کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان کی اہلیہ کو شکست دی تھی۔
پی ٹی آئی کا الزام تھا کہ ان کا حمایت یافتہ امیدوار 25 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیت رہا تھا لیکن فارم 47 میں نتائج تبدیل کر کے اسے ہرا دیا گیا۔
