کیا فیض حمید 9 مئی کی سازش کے الزام سے بچ گئے ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کی طویل کارروائی کے باوجود ان پر تاحال 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش تیار کرنے کا الزام شامل نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ ان کے خلاف چارج شیٹ میں فوجی بغاوت کی سازش کا الزام شامل ہونے کے باعث کیس کی کارروائی طویل ہو گئی ہے، مگر جاوید چوہدری کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جاوید چوہدری کے مطابق فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل 11 ماہ تک جاری رہا، اور یہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا کسی اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف طویل ترین کورٹ مارشل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کے قریبی ساتھی جنرل آصف یاسین نے آغاز میں ہی ریاست سے مکمل تعاون کر لیا تھا، اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جاوید چوہدری کے مطابق فیض حمید کے دیگر مبینہ جرائم اتنے زیادہ اور سنگین نوعیت کے تھے کہ 9 مئی کے واقعات کی تفتیش کی باری ہی نہیں آئی۔ ان کے مطابق 13 نومبر 2025 کی رات چودہ گھنٹے تک مسلسل سماعت کے بعد کیس کی کارروائی مکمل ہو گئی۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس کورٹ مارشل کا ریکارڈ ساڑھے آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے اور اسے تین میجر جنرلز نے مکمل کیا۔ فیصلے کو اب ایڈجوٹنٹ جنرل آف پاکستان، جو ایک لیفٹیننٹ جنرل ہیں، کے پاس بھیجا جائے گا اور پھر حتمی منظوری کے لیے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھجوایا جائے گا، جس کے بعد جنرل فیض حمید کی سزا کا تعین ہو جائے گا۔
ان کے مطابق جنرل فیض حمید گزشتہ 445 دنوں سے حراست میں ہیں اور مقدمہ پاک بھارت جنگ کے دوران دو مرتبہ تعطل کا شکار ہوا کیونکہ مئی اور جون 2025 میں کورٹ مارشل کی کارروائی کرنے والے دو جنرلز جنگی ذمہ داریوں پر روانہ ہو گئے تھے۔ مزید یہ کہ 27 نومبر 2025 کو جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کے بعد جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوا اور اس کی جگہ نیا منصب چیف آف ڈیفنس فورسز قائم ہوا، جس کا چارج اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس ہے۔ ان تبدیلیوں نے جنرل فیض کو مزید 15 دن کا ریلیف دیا، جبکہ ان کی قسمت کا فیصلہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے آغاز میں متوقع ہے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر فوجی قیادت 9 مئی کے واقعات کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے بعد عمران خان اور ان کے چھ ساتھیوں کے خلاف بھی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جو کہ آرٹیکل 6 یعنی غداری کے مقدمے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو وسعت دینا نہیں چاہتی کیونکہ بغاوت کا مقدمہ چند افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں 25 سے 30 مزید لوگ شامل ہو جائیں گے، جس سے یہ ایک نہ رکنے والی روایت بن جائے گی۔ اس لیے ادارہ اس باب کو یہیں بند کر دینا چاہتا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران کئی افسوس ناک پہلو بھی سامنے آئے۔ جاوید چوہدری کے مطابق سب سے بڑا المیہ تحریک انصاف اور عمران خان کا رویہ تھا۔ ان کے مطابق فیض حمید وہ شخص تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کے لیے اپنی کریئر، شہرت اور حتیٰ کہ زندگی تک داؤ پر لگا دی تھی، مگر مشکل وقت میں پی ٹی آئی نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ عمران خان مبینہ طور پر 9 مئی کی ناکام بغاوت کے بعد فیض حمید سے ناراض ہیں، جس کے باعث پی ٹی آئی نے ان کی حمایت میں ایک بیان تک جاری نہیں کیا، یہاں تک کہ پارٹی کے کسی وکیل نے بھی ان کا مقدمہ لڑنے کے لیے خود کو پیش نہیں کیا اور ان کے اہلخانہ کو اپنی مدد آپ کے تحت وکیل کرنا پڑا۔
جاوید چوہدری نے انکشاف کیا کہ جنرل فیض حمید نے اپنی صفائی میں 90 گواہوں کی فہرست دی تھی، جن میں دو سابق وزرائے اعظم عمران خان اور شاہد خاقان عباسی، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار اور جنرل ندیم انجم سمیت 35 سرکردہ سیاست دان شامل تھے۔ تاہم ان 90 میں سے 50 افراد ان کی بیگم اور صاحبزادی سے ملاقات کے لیے بھی راضی نہ ہوئے۔ صرف 40 نے ملاقات کی اور ان میں سے 37 نے گواہی دینے سے انکار کر دیا۔ یوں ان کے سینکڑوں ساتھیوں اور دوستوں میں سے صرف تین افراد نے ان کے حق میں گواہی دی، جن میں ان کے سمدھی بریگیڈیئر حامد ڈار بھی شامل تھے۔
جاوید چوہدری نے جنرل فیض حمید کے سیاسی اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک کے بڑے بڑے سرمایہ کار ان سے ملاقات کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے تھے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ عمران خان کے اعتماد کے ووٹ کے دوران پوری حکومتی صف بندی فیض حمید نے 24 گھنٹے میں مکمل کروائی تھی۔ انہوں نے کئی ایم این ایز کو کنٹینرز میں بند رکھا، بعض رہنماؤں کو زبردستی اسلام آباد لایا گیا، جبکہ بعض شخصیات کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، کیپٹن صفدر، فریال تالپور اور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ جو شخص کل تک پورے ملک کی سیاست اور طاقت کا محور تھا، آج خود جیل میں بیٹھ کر فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، جو عبرت کا مقام ہے۔
اپنی تحریر کے اختتام پر جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اقتدار ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے جو ہمیشہ اپنا سوار تبدیل کرتا رہتا ہے۔ کل اس پر فیض حمید سوار تھے، آج کوئی اور ہے، اور کل پھر کوئی اور ہو گا۔ یہ دنیا عبرت کی جگہ ہے؛ لہٰذا حکمرانوں کو چاہیے کہ عاجزی اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں، کیونکہ انجام کسی کا بھی یکساں نہیں رہتا۔
