کیا گنڈاپور وزارت اعلی واپس لینے کے لیے متحرک ہوئے ہیں؟

سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے حالیہ ہفتے میں جس تیزی سے اپنے سیاسی موقف تبدیل کرتے ہوئے پہلے پارٹی کی قیادت پر کھلے عام تنقید اور پھر عمران سے اظہار یکجہتی کے لیے دیے گئے دھرنے میں شرکت کی، اس نے ان پرانے دنوں کی یاد تازہ کروا دی جب وہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کرتے ہوئے روزانہ اپنا موقف تبدیل کیا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ گنڈاپور نے حال ہی میں عمران خان کی رہائی کے لیے موئثر تحریک چلانے میں ناکامی پر پارٹی قیادت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کی تعریف کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے زیادہ محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کی کوششیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے وزارت اعلی سے ہٹنے کے بعد سے پارٹی کے حالات اب اتنے برے ہو چکے ہیں کہ عمران کی رہائی کے لیے تحریک چلانا تو دور کی بات اب تو ان سے ملاقات بھی ناممکن ہو گئی ہے۔
ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ گنڈاپور نے اچانک منظر عام پر آ کر پہلے پارٹی قیادت پر تنقید کیوں کی اور پھر عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دیے گئے دھرنے میں کیوں شریک ہو گئے۔ پارٹی حلقوں میں بھی یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا گنڈا پور کسی نئے ایجنڈے کے تحت پارٹی میں دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں؟
یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پی ٹی آئی کی ہنگامہ خیز سیاست سے گنڈاپور کی اچانک علیحدگی نے صوبائی بساط بدل دی تھی۔ ایک لحاظ سے ان کا انجام سابق وزرائے اعلیٰ محمود خان اور پرویز خٹک جیسا تھا، جو اقتدار سے ہٹنے کے بعد پس منظر میں چلے گئے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ برطرفی عمران خان اور علیمہ خان کے درمیان انتخاب کا نتیجہ تھی، جہاں خون پانی سے گاڑھا ثابت ہوا۔ تقریباً پانچ ماہ تک میڈیا سے دور رہنے والے گنڈاپور حال ہی میں پر جوش انداز میں واپس آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب پارٹی عمران خان کی صحت کے مسائل اٹھا رہی ہے، گنڈاپور کی پی ٹی آئی قیادت پر تنقید اور وزیر داخلہ کی تعریف نے پارٹی کے اندر تقسیم کے تائثر کو ہوا دی، کہا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے گنڈاپور نے عمران کی ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی نشانہ بنایا، جو ان کی سابقہ شکایتوں کا تسلسل ہے کیونکہ وہ انہیں اپنی برطرفی کا سبب قرار دیتے رہے۔
علیمہ خان نے گنڈاپور کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دراصل گنڈا پور عمران پر براہ راست تنقید نہیں کر سکتے لہٰذا ان کے خاندان کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ علیمہ نے گنڈاپور کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سب سے زیادہ کوشش محسن نقوی نے کی ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کی بھی تردید کی کہ وہ ’عمران خان کی صحت پر سیاست کر رہی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ جو پی ٹی آئی رہنما لڑنا نہیں چاہتے وہ براہ کرم سائیڈ پر ہو جائیں۔ عمران کو ڈیل کی آفر بارے سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ ’ہم سے آج تک کسی نے اس حوالے سے بات نہیں کی،۔
ادھر گنڈا پور نے علیمہ خان اور پارٹی قیادت کی ناکامی پر تنقید کے بعد ایک ویڈیو جاری کی اور ہچکچاتے ہوئے معذرت کی۔ انکا کہنا تھا کہ اگر میری باتوں سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو میں فی الحال معذرت طلب کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے غصے کا جواز یہ بتایا کہ وہ عمران خان کو طبی سہولیات مہیا کرنے کی خاطر حکومت پر دباؤ نہ ڈالنے کی وجہ سے پارٹی سے ناراض تھے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر اس بات پر مجھے غصہ نہ آئے تو یہ انسانیت نہیں۔
کیا عمران کا مزاحمتی بیانیہ مفاہمت کا راستہ ہموار کر پائے گا؟
ادھر گنڈاپور مخالف تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلی کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پارٹی کے اندر متحرک ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ ایک رہنما نے خبردار کیا کہ ان کی واپسی پی ٹی آئی کو مزید تقسیم کر سکتی ہے، خاص طور پر عمران خان کی قید کے تناظر میں۔سیاسی حلقوں میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ گنڈاپور کی پارٹی میں حتمی واپسی ہے یا کسی منصوبے کے تحت عارضی پالیسی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب تک عمران خان قید میں ہیں، علی امین گنڈاپور کی سیاسی قلا بازیاں جاری رہیں گی چونکہ ان کا اصل مقصد خیبر پختون خواہ کی وزارت اعلی دوبارہ حاصل کرنا ہے۔
