کیا عمران نے بیٹوں کو پاکستان آنے سے منع کر دیا ہے؟ کنفیوژن برقرار

عمران خان کی رہائی کے لیے 5 اگست سے شروع ہونے والی ممکنہ احتجاجی تحریک میں انکے دونوں بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کی شرکت کے حوالے سے کنفیوژن کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔
29 جولائی کو عمران نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انکے دونوں بیٹے احتجاجی تحریک میں حصہ لینے پاکستان نہیں آئیں گے۔ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے موقع عمران خان نے کہا کہ قاسم اور سلیمان نہ تو کسی احتجاجی تحریک میں شریک ہوں گے اور نہ ہی کسی تحریک کی قیادت کریں گے۔ تاہم عمران کے اس واضح بیان کے چند گھنٹے بعد ہی پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے یہ ٹوئیٹ کر دی کہ خان کے دونوں بیٹے آئیں گے بھی اور احتجاجی تحریک میں بھی حصہ بھی لیں گے‘ اس حوالے سے کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیخ وقاص اکرم نے عمران خان کی جانب سے اپنے دونوں بیٹوں کو پاکستان آنے سے روکنے اور اپنی رہائی کیلئے کسی سرگرمی میں حصہ لینے سے روکنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ایسی کوئی گفتگو نہیں کی۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران کے بیٹے پاکستان نہیں آئیں گے تو احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی جیسا کہ ماضی قریب میں ہوتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے شیخ وقاص نے یہ وضاحت کی ہے کہ بانی کے بیٹے تحریک میں ضرور حصہ لیں گے۔ تاہم دوسری طرف پارٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ قاسم اور سلیمان کے احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے کا امکان بہت کم ہو چکا ہے۔
دراصل عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے چند ہفتے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ قاسم اور سلیمان باپ کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے پاکستان آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ دونوں بیٹے پہلے امریکہ جا کر عمران کی رہائی کے لیے راہ ہموار کریں گے اور پھر پاکستان پہنچ کر تحریک کی قیادت کریں گے۔ اس کے بعد عمران کے دونوں بیٹے امریکہ پہنچے جہاں انہوں نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو پائے۔ دونوں کو ٹرمپ کے مشیر رچرڈ گرینیل سے ملاقات پر اکتفا کرنا پڑا جس نے انہیں اپنے حوصلے بلند رکھنے کا مشورہ دے کر فارغ کر دیا۔ چنانچہ دونوں مایوس ہو کر پاکستان آنے کی بجائے لندن واپس لوٹ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ قاسم اور سلیمان کی والدہ جمائمہ بھی اپنے بیٹوں کو کسی مشکل میں ڈالنے کو تیار نہیں ۔
کیا PTI کے 75 اراکین قومی، صوبائی اسمبلی نااہل ہونے والے ہیں؟
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ بات عمران خان کو بھی پتہ چل چکی تھی لہذا انہوں نے اڈیالہ جیل میں گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو پاکستان آنے سے منع کر دیا ہے۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ چند گھنٹوں بعد علیمہ خان نے شیخ وقاص اکرم کو ہدایت کی کہ وہ تحریک کا ٹیمپو برقرار رکھنے کے لیے اعلان کریں کہ عمران کے بیٹے پاکستان آئیں گے اور احتجاجی تحریک میں بھی حصہ لیں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ عمران کے بیٹوں کے پاکستان آنے کا امکان صرف ایک فیصد ہے۔
