کیا عمران خان نے خطرناک ہو کر آرمی چیف کو دھمکی دی ہے؟

تحریک عدم اعتماد میں اپنی یقینی شکست کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے خطرناک ہوتے ہوئے یہ دھمکی لگا دی ہے کہ ان کے پاس ترپ کا ایک پتہ اب بھی موجود ہے جسے وہ آخری دن استعمال کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی صورت مستعفی نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری گیند تک اپوزیشن کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا اور ووٹنگ سے ایک روز قبل ایک بڑا سرپرائز دوں گا جو سارے کھیل کا نقشہ پلٹ دے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دراصل فوجی اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دی ہے کیونکہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد وہ اسمبلی توڑنے کے اختیار سے تو محروم ہو چکے ہیں لیکن ان کے پاس اب بھی آرمی چیف کی تقرری کا اختیار موجود ہے۔ عمران خان تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے مسلسل فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی غیرجانبداری ختم کرے اور بدی کی قوتوں کے خلاف ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہو جائے۔

وزیراعظم فوج کی غیرجانب داری ختم کروانے کے لیے اس حد تک آگے چلے گئے کہ انہوں نے ایک تقریر میں یہ بھی کہہ دیا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے جب کہ انسان غلط اور صحیح میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا وقت جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے، توں توں وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان خلیج بھی بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ 23 مارچ کے روز جب وزیراعظم اور آرمی چیف اسلام آباد میں اکٹھے ہوئے تو دونوں نے سلامی کے چبوترے پر بھی ایکدوسرے سے دوری اختیار کیے رکھی۔

حالانکہ ماضی میں دونوں سٹیج پر ساتھ ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ دوسری جانب 23 مارچ کی تقریب کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن اپنے سارے کارڈز شو کر چکی ہے لیکن میرے پاس اب بھی ایک ایسا کارڈ موجود ہے جو سارا کھیل الٹا کر رکھ دے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی تو لڑائی شروع ہی نہیں ہوئی،

لڑائی ہونے تو دیں، پھر دیکھتے ہیں کون استعفیٰ دے گا، انہون نے کہا کیا میں لڑائی سے پہلے ہی اپنے ہاتھ کھڑے کردوں، انکا کہنا تھا کہجب تک زندہ ہوں چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔ انشاءاللہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دو چار ہو گی اور میں اپنے اقتدار کی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔

وزیراعظم سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے انکی توجہ کامران خان کے ایک تازہ ویڈیو پیغام کی طرف مبذول کروائی جس میں انکا کہنا تھا کہ موجودہ تباہ کن صورتحال کی بنیادی وجہ عمران خان کی یہ شدید غیر اعلانیہ خواہش ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ جرنیل کو وقت سے پہلے جنرل باجوہ کے جانشین کی حیثیت سے تعینات کر دیں۔

کامران کا کہنا تھا کہ عمران کی اس خواہش پر فوج کا ادارہ بھی مضطرب ہے، لیکن اس مسئلہ کا حل مفاہمت کی بنیاد بن سکتا ہے۔کامران نے کہا کہ دراصل یہ معاملہ ہمارے وطن عزیز میں جاری بحران کی اصل وجہ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کہا کہ کامران خان کو کون بتاتا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے اس فقرے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ واقعی کوئی تعیناتی کرنے جا رہے ہیں اور یہی ان کا ٹرمپ کارڈ ہو سکتا یے۔ تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ نیوٹرل والی بات کا غلط مطلب لیا گیا، میں نے نیوٹرل والی بات اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے تناظر میں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست چوری کرنا اور چوری چھپانا ہے، کسی کی غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ اگر میں فارغ ہو گیا تو چپ کر کے گھر بیٹھ جاؤں گا، انکا کہنا تھا کہ میں کسی صورت استعفی نہیں دوں گا، کیا میں چوروں کے دباؤ پر استفعیٰ دے دوں؟ ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد والا میچ ہم جیتیں گے کیونکہ عوام میرے ساتھ ہیں، انکا دعوی تھا کہ ملک کے 60 سے 65 فیصد باعزت عوام میرے ساتھ ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 27 مارچ کے بعد میری سپورٹ 90 فیصد سے اوپر چلی جائے گی، میرا ٹرمپ کارڈ یہ ہے کہ میں نے ابھی تک کوئی کارڈ شو ہی نہیں کیا، میں کرپشن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کروں گا، این آر و نہیں دے سکتا، میں اپنے اللہ سے اور ملک سے غداری نہیں کر سکتا۔

قائد حزب اختلاف سے ہاتھ ملانے سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ میں کرپشن میں ڈوبے شخص کےساتھ ہاتھ نہیں ملاسکتا، ان کا کہنا تھا کہ شریفوں کی سیاست ان کی تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ہی ختم ہو چکی ہے، یہ کس آئین میں ہے کہ پیسے خرچ کرکے حکومت گرا دی جائے۔

دوسری جانب بنی گالا میں عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، پرویز خٹک، شیخ رشید اور فواد چوہدری نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کو اتحادی جماعتوں سے ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی اور انہیں آگاہ کیا کہ اتحادی ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔

حکومتی کمیٹی کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ اب ہم مزید لڑائی عوام اور عدالتوں کے ذریعے ہی لڑ سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں منحرف اراکین قومی اسمبلی سے بھی دوبارہ رابطہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ عدالت کے ذریعے تمام منحرف اراکین قومی اسمبلی کو تاحیات نااہل کروانے پر زور دیا جائے۔

Has Imran become dangerous & threatened the Army Chief?

Back to top button