گنڈاپور کی فراغت فوجی اسٹیبلشمنٹ کیلئے کتنا بڑا جھٹکا ہے؟

 

 

 

تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کی بنیادی وجہ تو خیبر پختون خواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی بتائی گئی ہے، لیکن اصل وجہ یہ بنی کہ کپتان کی نظر میں گنڈاپور کی وفاداری مشکوک ہو گئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلی نامزد کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ انہیں اپنا وفادار ساتھی سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ خیبر پختون خواہ کی کابینہ میں سب سے جونیئر وزیر تھے۔ عمران کا خیال ہے کہ انہوں نے گنڈاپور کو وزارت اعلی سے ہٹا کر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

 

گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹائے جانے اور خیبر پختونخوا میں وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ لیکن پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس تبدیلی کی وجوہات بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں اس وقت دہشت گردی کی بدترین صورت حال نظر آتی ہے۔ اس سال ریکارڈ دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے مطابق عمران خان اس صورت حال پر بہت افسردہ تھے لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ صوبے میں تبدیلی لانا لازمی ہو گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔

 

سلمان اکرم راجہ نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کی بجائے خراب کر لیے ہیں جبکہ عمران دور میں ایسا نہیں تھا۔ اسی وجہ سے صوبے میں دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بلاول بھٹو وزیر خارجہ تھے تو وہ  ایک بار بھی کابل نہیں گئے۔ سلمان راجہ کے مطابق خان صاحب نے کہا کہ ہماری حکومت نے اشرف غنی کی حکومت کیساتھ کافی بہتر حکمت عملی اپنائی تھی جس کے باعث دہشت گردی کم ہو گئی تھی۔  تاہم عمران خان کے خیال میں خیبرپختونخوا میں گنڈاپور حکومت وفاق اور ایجنسیوں کی پالیسیوں سے خود کو دور نہیں کر پا رہی تھی لہذا وہاں تبدیلی ضروری تھی۔

سلمان راجہ کے مطابق عمران کو توقع ہے کہ خیبر پختونخوا میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد نئی شروعات ہو گی اور دہشت گردی کم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کی ہدایات کے مطابق اب جرگوں اور قبائل کی مدد سے امن و امان بحال کرنے کی کوشس کی جائے گی۔

 

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں ہونے والی دہشت گردی کا علی امین گنڈاپور کو ہٹانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے یہ چورن صرف اس لیے بیچا گیا ہے تاکہ گنڈاپور سے صلح صفائی کے ساتھ استعفی حاصل کر لیا جائے۔ اسی لیے ان پر فوج کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی عائد نہیں کیا گیا۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ گنڈاپور نے اس سال جولائی میں 90 دن کے اندر عمران کو رہا کروانے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کر پائے تو وہ وزارت اعلی سے مستعفی ہو جائیں گے، چنانچہ یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ گنڈاپور نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری اور 90 دن پورے ہونے پر ان سے استعفی مانگ لیا گیا۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق گنڈاپور نے سب سے بڑا بلنڈر یہ مارا کہ انہوں نے عمران کی ہمشیرہ علیمہ خان کو کھلے عام ملٹری انٹیلیجنس کا ٹاؤٹ ڈیکلیئر کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عمران کی مرضی کے بغیر اپنی کابینہ کے دو وزرا کو بھی برطرف کر دیا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے 28 ستمبر کو پشاور کے عوامی جلسے میں گنڈاپور پر ورکرز سے جوتیاں پھینکوائیں۔ تاہم گنڈاپور پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ وہ وکٹ کی دونوں طرف کھیل رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ دوسری جانب گنڈاپور کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعلی یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکومتی اور عسکری قیادت کے ساتھ رابطے میں رہتے، انکے مطابق خود عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے انہیں اہم ملاقاتوں کی اجازت دے رکھی تھی۔ یاد رہے کہ عمران خان کا یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ وہ حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جو کہ اس ملک میں اصل فیصلہ ساز ہے۔

 

عمران نے وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا ہے جو کہ تحریک انصاف کے چکنے لیکن مفرور رہنما مراد سعید کے بچپن کے دوست ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے جو عمران خان کے کہنے پر دن کو رات اور رات کو دن کہیں گے۔ دوسری جانب گنڈاپور نے اپنا استعفی گورنر خیبر پختون خواہ کو بھجواتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ عمران خان کے حکم کے مطابق انکی امانت ان کو واپس کرتے ہوئے استعفی پیش کر رہے ہیں۔

نامزد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی قابل نہیں صوبہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا : گورنر خیبرپختونخوا

سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کیے جانے پر تحریکِ انصاف کے سیاست دانوں اور کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ملاجلا ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آفریدی نے بی ایس سی اکنامکس کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ پی کے 70 ضلع خیبر سے پہلی بار ایم پی اے منتخب ہوئے اور زمانہ طالب علمی سے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ صحافی سیرل المیڈہ نے خیبر پختون خواہ میں تبدیلی بارے تبصرہ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’پی ٹی آئی دوسروں کو اقتدار سے ہٹانے نکلی تھی، مگر سب سے پہلے خود اقتدار سے باہر ہو گئی۔ اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے ایکس پر لکھا ’علی امین گنڈا پور نے عمران خان کا فیصلہ تسلیم کر لیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا سُہیل آفریدی کے لیے خیبر پختون خواہ کی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ممکن ہو گا کیونکہ آخری لمحات میں اپوزیشن اپنے کارڈز کھیل سکتی ہے؟

ادھر وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی رخصتی پر انکے سیاسی مخالفین سے زیادہ تحریک انصاف کے اپنے کارکنان جشن مناتے نظر آرہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی مشکوک وفاداری ہے۔ تاہم سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ گنڈاپور ایک باوقار شخص ثابت ہوئے جنہوں نے وعدے کے مطابق عمران کی خواہش پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے لکھا کہ پی ٹی آئی کے مخالفین ٹکراؤ کی امید کر رہے تھے مگر گنڈاپور نے عمران کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی لکھا کہ خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ہے۔ نئے وزیراعلی سہیل آفریدی کو نا صرف پارٹی کارکنان کو مطمئن کرنا ہوگا بلکہ وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات چلانے کے علاوہ عمران کے احکامات پر بھی عمل کرنا ہو گا، سہیل آفریدی جواں سال سیاسی کارکن ہیں لیکن یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ ان چیلنجز سے کس طرح نبرد آزما ہوں گے۔

Back to top button