کیا عمران خان نے بیرسٹر گوہر کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے جارحانہ حکمت عملی کی بجائے مفاہمتی سیاست کو آگے بڑھانے کی پالیسی اپنانے کے بعد چئیرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کی چھٹی کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے نہ صرف بیرسٹر گوہر کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ عمران خان نے بیرسٹر گوہر کے متبادل کی تلاش بھی شروع کر دی ہے ۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر عمران خان کی ہدایات کے مطابق جارحانہ پالیسی کے تحت اداروں اور شخصیات کو ہدف تنقید بنانے سے انکاری تھے ان کا واضح موقف تھا کہ صرف پات چیت اور مذاکرات سے ہی نہ صرف تحریک انصاف بلکہ بانی پی ٹی آئی کیلئے ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم عمران خان کا مؤقف ہے کہ مقتدر حلقوں کو اپنے سخت بیانیے کے ذریعے دباؤ میں لا کر نہ صرف اپنے معاملات درست کئے جا سکتے ہیں بلکہ تحریک انساف کی اقتدار کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان اور بیرسٹر گوہر کے مابین پالیسی بارے اختلاف پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ہیں اب ان کی چھٹی کا فیصلہ ہو چکا ہے جس پر جلد یا بدیر  عمدرآمد ہو جائے گا۔

دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے اگلے چیئرمین کیلئے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر کو موسٹ فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان  نے اسد قیصر کو چیئرمین شپ سنبھالنے کیلئے پیغام بھی بھجوایا ہے لیکن فی الحال اسد قیصر نے یہ عہدہ سنبھالنے سے صاف انکار کر دیا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق چونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بیرسٹر گوہر کو ہٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اس لئے پارٹی کی زیادہ تر ذمہ داریاں سابق صدر عارف علوی اور سابق سپیکر اسد قیصر کو دینے کا امکان ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اگر چیئرمین شپ کیلئے کوئی موزوں امیدوار نا ملا تو بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل کے اندر سے  پارٹی معاملات   خود چلائیں  گے ۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل عمران خان کی جانب سے ریڈ سگنل ملنے کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے دیے گئے استعفے میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں اور کیسز میں عدالت پیشیاں سمیت دیگر وجوہات بیان کی گئی تھیں تاہم اصل وجوہات کو دبا دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 27 جون کو عمر ایوب نے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کے چیئرمین مرکزی فنانس بورڈ کے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا، انہوں نے عہدوں سے مستعفی ہونے کا خط ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا تھا۔عمر ایوب کے مطابق انہوں نے 22 جون کو اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین کو بھیجا تھا، وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھانا چاہتے ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور چیئرمین بیرسٹر گوہر کے نام اپنے خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ بطور سیکریٹری جنرل استعفیٰ منظور کرنے پر بانی پی ٹی آئی کا شکر گزار ہوں، اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے مکمل توجہ درکار ہے اس لیے سمجھتا ہوں کہ سیکریٹری جنرل کے عہدے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، تاہم تحریک انصاف کے لیے کارکن کے طور پر کام جاری رکھوں گا۔انہوں نے لکھا کہ سیکریٹری جنرل ایسی شخصیت کو بنایا جائے جو پارٹی کی تنظیم نو کرے، نیا سیکریٹری جنرل پارٹی کو جلد ہونے والے انتخابات کے لیے تیار کرے۔بعد ازاں، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے عمر ایوب کے بطور سیکریٹری جنرل استعفیٰ منظور نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران کو جیل میں تقریباً ایک برس ہو چکا ہے جس کے دوران تجزیہ کاروں اور پارٹی رہنماوں کے مطابق جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہونے، سیاسی قیادت میں تبدیلی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مزاکرات کے سوال سمیت کئی عوامل اختلافات کی وجہ بنے ہیں۔اس عرصے میں جہاں کئی سیاسی رہنما تحریک انصاف کو خیرباد کہہ گئے وہیں کئی اہم رہنما نو مئی کے واقعے کے بعد گرفتاریوں اور مقدمات سے بچنے کے لیے روپوش ہوئے اور ایک نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔ تاہم اب نئی قیادت کے بھی  پالیسی معاملات پر عمران خان سے اختلافات سامنے آ گئے ہیں اور سیکرٹری جنرل کے بعد اب چیئرمین پی ٹی آءی بیرسٹر گوہر کی چھٹی کا فیصلہ ہو گیا ہے۔

Back to top button