کیا اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنوا کر عمران نے سیاسی بلنڈر کیا ہے؟

 

 

 

پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کی صرف ایک نشست ہونے کے باوجود اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی فیصلہ سازی عمران خان کی جماعت کے ہاتھ سے نکل کر اچکزئی کے ہاتھ میں چلی جائے گی جس سے عمران سیاسی طور پر مضبوط ہونے کی بجائے مزید کمزور ہو جائیں گے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن حکومت کی رضامندی سے جاری ہوا، جس سے قبل اچکزئی سے یہ یقین دہانی بھی حاصل کی گئی کہ وہ قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف تحریک انصاف کی لائن پر چلتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کوئی ریڈ لائن کراس نہیں کریں گے۔ دوسری جانب اچکزئی نے تحریک انصاف کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ عمران خان کی رہائی یقینی بنانے کے لیے اگر سیاسی مصلحت اور مفاہمت کی ضرورت پڑی تو وہ بطور اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ میں نسبتاً نرم اور مفاہمانہ رویہ اختیار کریں گے تاکہ اس مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔

 

اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے میں پہل حکومت کی جانب سے کی گئی۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ سے قائد حزب اختلاف کی نشست خالی تھی اور تحریک انصاف کی طرف سے حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا تھا۔ سیٹھی کے مطابق حکومت یہ سمجھتی تھی کہ اگر تحریک انصاف بات چیت کے لیے آمادہ ہے اور حکومت نے دروازے بند رکھے تو عوامی سطح پر اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ سیاستدان کبھی بھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرتے۔

 

نجم سیٹھی کے مطابق اصل رکاوٹ یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے مسلسل فوج مخالف بیانیے کے باعث حکومت کو تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ اسی تناظر میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کا معاملہ بھی تعطل کا شکار رہا۔ ان کے بقول اسٹیبلشمنٹ کو اس بات پر تحفظات تھے کہ محمود خان اچکزئی عمران کے قریب ہیں اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ رکھتے ہیں۔ سیٹھی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ مؤقف اپنایا کہ تحریک انصاف کے کسی رہنما کو قائد حزب اختلاف بنانے کے بجائے اچکزئی کے نام پر اتفاق رائے زیادہ بہتر ہوگا۔ حکومت کے مسلسل اصرار کے بعد بالآخر اسٹیبلشمنٹ نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے کی اجازت دے دی۔

 

تاہم اس سے قبل بیرسٹر گوہر خان کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی اور یہ یقین دہانی حاصل کی گئی کہ وہ ریاست کے خلاف کسی ریڈ لائن کو عبور نہیں کریں گے، بصورت دیگر انکے نامزد کردہ شخص کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ ادھر اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بنتے ہی سیاسی منظرنامے میں مختلف خبریں اور چہ مگوئیاں تیزی سے پھیلنے لگی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کسی اہم ڈیل کے تحت میدان میں اترے ہیں، جس کے اثرات محض وقتی نہیں بلکہ دور رس ہو سکتے ہیں۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اچکزئی کے قائد حزب اختلاف بننے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اور کنٹرول سے متعلق معاملات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، اور یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا تحریک انصاف عمران کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تاثر کہ اپوزیشن کی فیصلہ سازی عمران کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے، خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق ملک بھر میں بالخصوص نوجوان طبقہ اور تحریک انصاف کے کارکنان بدستور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر پارٹی کی مضبوط موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی شناخت اب بھی براہِ راست عمران سے جڑی ہوئی ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ماضی میں عمران نے پارٹی کے اندر کئی اہم شخصیات کو الگ کیا، پہلے نظریاتی اختلافات اور بعد ازاں جہانگیر خان ترین سمیت دیگر بااثر رہنماؤں کو پارٹی سے نکالا گیا، لیکن ان فیصلوں سے نہ تو پارٹی کی عوامی حمایت متاثر ہوئی اور نہ ہی اس کے تنظیمی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان پہنچا، کیونکہ پارٹی کی اصل شناخت عمران خان ہی رہے ہیں۔

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید نے کہا کہ محمود خان اچکزئی عمران خان کی مرضی کے خلاف کوئی بیانیہ اختیار نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ تحریک انصاف کے عددی وزن سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان جو بھی بیانیہ دیتے ہیں، پارٹی کارکنان، سپورٹرز اور قیادت نہ صرف اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں بلکہ مکمل طور پر اس کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

احمد ولید کے مطابق یہ امکان ضرور موجود ہے کہ اگر محمود خان اچکزئی عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرتے ہیں اور اس کے بدلے عمران خان کو پیچھے ہٹنے یا ریاست مخالف بیانیہ ترک کرنے پر آمادہ کرتے ہیں تو شاید کوئی پیش رفت ہو سکے۔ تاہم ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوگی، کیونکہ اب عمران خان اپنی سٹریٹ پاور کھو چکے ہیں اور عوام ان کی کال پر بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

 

سہیل وڑائچ کا بھی کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے بات چیت کا آغاز کرنا ہے۔ ان کے مطابق نواز شریف سے بہتر تعلقات کے باعث اچکزئی کو آگے لایا گیا ہے تاکہ دونوں جانب سے بعض سیاسی معاملات طے پا سکیں اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی راہ ہموار ہو۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں فیصلہ سازی کا عمران خان کے ہاتھ سے نکل جانا موجودہ سیاسی حالات میں انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

ونڈر بوائے کے خوف نے شہباز شریف کو کس فیصلے پر مجبور کیا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان کا سخت اور غیر لچکدار سیاسی رویہ ہے۔ جب ایک جانب مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب جیل سے یہ پیغام آتا ہے کہ مذاکرات کے حامی غدار ہیں تو ایسی صورتحال میں کوئی بھی سنجیدہ سیاستدان سیاسی بدنامی کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو فری ہینڈ حاصل ہے اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے پلیٹ فارم کے تحت ملاقاتیں اور مشاورت جاری ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے مذاکرات مخالف بیانات کے تناظر میں کسی قومی اتفاقِ رائے کی امید کم ہی نظر آتی ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کا سب سے پہلا اور بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے اور وہ اس مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق محمود خان اچکزئی نہ صرف ایک ذمہ دار پارلیمنٹیرین کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ اپنے آئینی اختیارات کو مؤثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے اپوزیشن کو فعال بنائیں گے اور یوں جمہوری عمل کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Back to top button