عمران نے گنڈاپور کو ہٹا کر اپنی سیاست بچائی ہے یا خاندان؟

 

عمران خان نے اپنی اہلیہ اور ہمشیرہ پر الزامات لگانے والے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلی سے ہٹا کر دراصل اپنی سیاست نہیں بچائی بلکہ اپنا خاندان بچایا ہے جو مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

معروف صحافی اور تجزیہ کا روؤف کلاسرا نے ایک تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف زرداری‘ نواز شریف‘ شہباز شریف‘ مریم نواز… سب جیل میں رہے ہیں اور ان سب پر الزامات تھے۔ لیکن کہاں گئے وہ الزامات؟ یہ سب لوگ دوبارہ پاور میں ہیں۔ صدر اور وزیراعظم بن گئے ہیں۔
عمران پر بھی الزامات ہیں لیکن ان کیلئے عوامی ہمدردی میں کوئی کمی نہیں آئی ان کے لوگ ان پر لگائے گئے الزامات کو نہیں مانتے۔ ماضی میں بھی ایسا ہی تھا اور لوگ آصف زرداری اور نواز شریف پر لائے الزامات کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے تمام سیاستدان اچھے اور نیک ہیں جو اقتدار میں اتے ہیں تو ایک دوسرے کے منہ پر کالک ملنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کر سکیں لیکن فائدہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اٹھا لیتی ہے۔

رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ دراصل نواز شریف اور آصف زرداری کا جیل جانا عوام کیلئے کوئی بڑی خبر نہیں تھی۔ ان کیلئے بڑی خبر تب بنی جب عمران خان گرفتار ہوئے۔ ان کی گرفتاری اس لیے مختلف تھی کہ انہیں اب تک قوم کے لاڈلے اور دیوتا کا درجہ ملا ہوا تھا۔ خود خان کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ ان پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ عمران کے حمایتی ان کو نواز شریف اور آصف زرداری سے مختلف سمجھتے تھے لیکن خان کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو بدلنا پڑا۔ دھیرے دھیرے خان بھی دیگر لیڈران جیسا بن گیا اور وہ اخلاقی برتری کھو بیٹھا جو اس سے ماضی میں حاصل تھی۔ خان کی آخری برتری یہ رہ گئی تھی کہ وہ دیگر جماعتوں کے برعکس اپنے خاندان کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ وہ شریفوں اور زرداریوں کے برعکس میرٹ اور جمہوری انداز میں پارٹی چلانے پر یقین رکھتے ہیں۔ جب تک خان اقتدار میں نہیں آیا تھا تب تک سب باتیں ٹھیک لگتی تھیں لیکن جب پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کیلئے عثمان بزدار کا نام سامنے آیا تو پتہ چلا کہ اسکی سفارش تو بشری بی بی نے کی ہے ۔ پھر اس سفارش کا نتیجہ بھی نکل آیا۔ آج دور دور تک عثمان بزدار کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ اب علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلی بنانے کا فیصلہ بھی بشری بی بی کا ہی ہے؟ دیکھیے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ لوگ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ عمران اپنی فیملی کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی تاثر تھا کہ ریحام خان سے ان کی علیحدگی کی ایک وجہ یہ ٹھیک ہے وہ سیاسی کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔ جہانگیر ترین کو بھی ریحام سے یہی اختلاف تھا۔ میں خود اس کا عینی شاہد ہوں۔ میں کئی مرتبہ عمران خان سے ملنے ان کی بنی گالہ رہائش گاہ گیا۔ اس دوران عمران مجھ سے بات کر رہے ہوتے تو ریحام بار بار ٹوک کر سیاسی ایشوز پر لقمے دینے کی کوشش کرتیں۔ عمران کو برا لگتا تھا کہ ایک صحافی کے سامنے وہ نہ صرف سیاسی ایشوز پر بات کرتی تھیں بلکہ انہیں ٹوکتی بھی تھیں۔

روؤف کلاسرا کے بقول کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کو ریحام خان کا پارٹی کے اندر بڑھتا ہوا سیاسی کردار اچھا نہیں لگ رہا تھا لہذا جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔ ریحام کے بعد یہ کردار بشریٰ بی بی کے پاس گیا تو عثمان بزدار برآمد ہوئے۔ لیکن عمران نے تاثر یہی دیا کہ وہ ایک غیر سیاسی خاتون ہیں۔ حتیٰ کہ عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہی تاثر ملا کہ عمران ہر فیصلہ بشریٰ کے حساب کتاب کے بعد کرتے ہیں اور یوں فوج اور خان کے مابین مسائل پیدا ہوئے۔ عثمان بزدار کو نہ ہٹانے کے پیچھے بھی بشریٰ ہی تھیں۔ ہجر جب علیمہ خان سامنے آئیں تو عمران کی جانب سے یہی کہا گیا کہ وہ غیرسیاسی ہیں؛ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علیمہ خان نے کبھی غیر سیاسی گفتگو نہیں کی۔

روؤف کلاسرا کہتے ہیں مجھ سمجھ نہیں آتی کہ جب دیگر جماعتوں کی خواتین سیاست میں ہیں تو پھر بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے سیاسی کردار میں کیا حرج ہے؟ شاید حرج وہی ہے کہ عمران خان نواز لیگ اور پیپلز پارٹی پر حملے کرتے آئے ہیں کہ وہ خاندانی پارٹیاں ہیں اور موروثی سیاست کرتی ہیں۔ عمران اس الزام سے بچنا چاہتے تھے‘ لیکن اب جس طرح علیمہ اور گنڈاپور کی لڑائی میں انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیاستدان بھی بالاخر اپنوں کا ہی انتخاب کرتا ہے۔ عمران خان نے گنڈاپور کو فارغ کر کے اپنی سیاست نہیں بچائی بلکہ اپنا خاندان بچایا ہے۔ گارڈ فادر نامی مشہور زمانہ ناول کی فلاسفی بھی یہی تھی کہ ہمیشہ فیملی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خان نے بھی فیملی کو ترجیح دی‘ لیکن وہ فیملی جسے انہوں نے ہمیشہ سیاست سے دور رکھنے کے دعوے کیے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر ایک دن بشریٰ اور علیمہ نے ہی عمران خان کے سارے سیاسی فیصلے کرنے تھے تو پھر ریحام خان سے جان چھڑانے کی کیا ضرورت تھی، وہ شاید بشری اور علیمہ سے بہت فیصلے کر لیتیں۔

Back to top button