کیا ایران نے امریکہ کے سپر پاور ہونے کا غرور توڑ دیا ہے؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابقہ سفیر ڈاکٹر ملیحہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا جو بھی نتیجہ نکلے، لیکن اس نے بطور سپر پاور امریکہ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے پچھلے ایک ماہ کے دوران جس طرح امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف مزاحمت دکھائی ہے ، اس نے پوری دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اس جنگ کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے اپنی اتحادی عرب ریاستوں کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
معروف انگریزی روزنامہ ڈان میں اپنے سیاسی تجزیے میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ مشرق وسطی میں جاری جنگ نے خطے کی سٹریٹجک صورت حال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کریں۔ امریکہ کی جانب سے بیک وقت مذاکرات اور عسکری دباؤ کی حکمت عملی کو ماہرین ایک پیچیدہ اور غیر یقینی سفارتکاری قرار دے رہے ہیں۔ ایک طرف صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ جیت جانے اور ایران میں ریجیم چینج کے دعوے روایتی سیاسی بڑھک بازی دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب انہیں جنگ سے باعزت طریقے سے نکلنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی یاد دلاتی ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھی بھجوایا اور اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر بھی تجویز کیا۔ تاہم ایرانی حکام نے اس منصوبے کو یکطرفہ مطالبات کی فہرست قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور اپنی خود مختاری کے خلاف قرار دے دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بندوق ہاتھ میں لے کر مذاکرات کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم کچھ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی باتیں ماضی کی طرح ایک ڈھکوسلہ بھی ہو سکتی ہیں تاکہ ایران کے خلاف کویت کے راستے زمینی دستے داخل کرنے کی تیاری مکمل کی جا سکے۔
سابق سفارت کار کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث ایرانی قیادت مذاکرات پر اعتماد کھو چکی ہے۔ ایران نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنے پانچ نکات پیش کیے ہیں، جن میں جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت اور ایرانی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ اسکے علاوہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر اس کی خودمختاری تسلیم کرنے کے علاوہ جنگی نقصانات کا ازالہ بھی مانگا گیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ موجودہ صورت حال میں خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتا ہے اور جنگ سے پہلے کی حالت پر واپس جانے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب واضح ہے کہ صدر ٹرمپ اب اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے مذاکرات کا راستہ کھول رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے سخت مؤقف اپنانے کے باوجود مذاکرات کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم باہمی اعتماد کی کمی اور غیر متوقع امریکی پالیسی ثالثی کی کوششیں کرنے والے ممالک کے لیے اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے آئندہ صورتحال کے حوالے سے تین ممکنہ منظرنامے پیش کیے ہیں۔ پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فیصلہ کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایران میں حکومت تبدیل کر دیں، تاہم سچ یہ ہے کہ ماضی میں افغانستان اور عراق کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آپشن خطے میں بدامنی اور طویل تنازعات کا باعث بنیں گی۔
امریکا، ایران جنگ: پاکستان صرف رابطہ کار ہے، ضامن نہیں
دوسرا منظرنامہ ایک طویل اور غیر یقینی جنگ کا ہے، جس میں وقفے وقفے سے لڑائی جاری رہے گی۔ اس دوران ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھتے ہوئے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کی صلاحیت رکھے گا، جس سے عالمی تیل مارکیٹ شدید متاثر ہوگی اور عالمی معیشت بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ تیسرا اور نسبتاً مثبت منظرنامہ امریکہ اور ایران کے درمیان جامع معاہدے کا ہے، جس میں ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر کچھ رعایتیں اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ راستہ سب سے مشکل تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ کوئی بھی فریق مذاکرات میں کمزور نظر نہیں آنا چاہتا۔
ملیحہ لودھی کے مطابق اگرچہ تیسرا آپشن خطے میں امن اور استحکام لا سکتا ہے، لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی ہو بھی جائے تو بھی مشرقِ وسطیٰ میں پہلے جیسے حالات نہیں رہیں گے چونکہ خلیجی ریاستوں کو پتہ چل چکا ہے کہ انکے ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے کسی کام کے نہیں۔
