کیا مولانا فضل الرحمن خلیل افغانستان صلح کروانے گئے ہیں؟

ایک طرف پاکستانی فضائیہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کے فوجی ٹھکانوں اور تحریک طالبان کے دہشت گرد مراکز پر مسلسل بمباری کر رہی ہے، تو دوسری جانب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ افغان جہاد کا پسِ منظر رکھنے والی چند اہم پاکستانی مذہبی و جہادی شخصیات اس وقت افغانستان میں موجود ہیں اور پاک افغان کشیدگی کم کروانے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان عسکری تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور سفارتی سطح پر روابط محدود دکھائی دیتے ہیں۔
یاد رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 اور 27 فروری کی شب شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے بمباری کا سلسلہ 14 روز گزرنے کے باوجود جاری ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے آنے والے حالیہ بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوری طور پر اس کشیدگی میں کمی کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں فائرنگ، جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات کے باعث خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
اسی تناظر میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی تین اہم مذہبی و جہادی شخصیات کا ایک وفد اس وقت کابل میں موجود ہے۔ اس وفد میں حرکت المجاہدین کے سابق سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل، عبداللہ شاہ مظہر المعروف پیر مظہر شاہ اور قاری ساجد عثمان شامل ہیں۔ افغانستان میں طالبان ذرائع اور پاکستان میں مولانا فضل الرحمان خلیل کے ایک قریبی ساتھی نے ان افراد کی کابل میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان میں قائم اسلامی امارت افغانستان کی عبوری حکومت کے ایک اہم رکن نے بھی بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمان خلیل سمیت تینوں افراد کی کابل میں موجودگی کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے معذرت کی۔
ان شخصیات کے افغانستان جانے کی وجوہات کے بارے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح بیان جاری کیا گیا ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی سے استفسار کیا کہ آیا پاکستانی حکومت افغان طالبان سے کسی سطح پر مذاکرات کر رہی ہے اور کیا مذہبی شخصیات کا یہ وفد سرکاری حمایت سے کابل گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ آزاد مذہبی اسکالرز کو دنیا میں کسی سے بھی روابط رکھنے کی آزادی حاصل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا پیغام اور پالیسی اس معاملے میں واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
بی بی سی اردو نے اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ سے بھی تحریری طور پر موقف طلب کیا، تاہم اس بارے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ پاکستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت تحریک طالبان کو پشت پناہی فراہم کر رہی ہے اور انہیں افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان کی جانب سے ماضی میں افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے مراکز پر کارروائیوں کے دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی و جہادی شخصیات کی کابل میں موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اسے ایک معنی خیز پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ماضی میں بھی پاکستانی مذہبی اور جہادی شخصیات افغان طالبان سے رابطوں کے لیے افغانستان جاتی رہی ہیں، جن میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں علما کا ایک وفد بھی شامل تھا۔ تاہم موجودہ وفد میں شامل شخصیات کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مختلف اور نسبتاً زیادہ گہری سمجھی جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان خلیل پاکستان کے جہادی حلقوں میں 1980 کی دہائی سے ایک نمایاں نام رہے ہیں۔ وہ ماضی میں عسکریت پسند تنظیم حرکت المجاہدین کے سربراہ رہ چکے ہیں، جس کا بعد میں دیگر گروہوں کے ساتھ انضمام بھی ہوا۔ ستمبر 2014 میں امریکہ کے محکمہ خزانہ نے مولانا فضل الرحمان خلیل کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ محققین کے مطابق ماضی میں ان کے روابط اسامہ بن لادن سمیت متعدد جہادی شخصیات کے ساتھ بھی رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے دوران پاکستانی اور افغان جہادی گروہوں کے درمیان جو روابط قائم ہوئے تھے، وہ آج بھی کئی سطحوں پر برقرار ہیں اور یہی روابط بعض اوقات غیر رسمی سفارتکاری میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح عبداللہ شاہ مظہر بھی ماضی میں جہادی حلقوں میں سرگرم رہے ہیں اور انہیں جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے عسکری سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کی اور سیاست میں بھی حصہ لیا۔
محققین کے مطابق عبداللہ شاہ مظہر بعد ازاں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاست میں بھی سرگرم رہے اور وہاں کی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور وزیر بھی بنے۔ وفد کے تیسرے رکن قاری ساجد عثمان بھی جہادی حلقوں میں معروف نام سمجھے جاتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ان کا تعلق رحیم یار خان سے ہے اور وہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں عسکری سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قاری ساجد عثمان کے مختلف ممالک میں بھی روابط رہے ہیں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد وہ کچھ عرصہ پاکستان سے باہر مقیم رہے۔
افغان طالبان اور پاکستان کی حکومت دونوں نے اس وفد کے کابل دورے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم طالبان ذرائع کے مطابق ان شخصیات کی افغان حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک عہدیدار کے مطابق اس دورے کو زیادہ تشہیر نہیں دی جا رہی۔
محقق و تجزیہ کار فیض اللہ خان اس پیش رفت کو ’جہادی سفارتکاری‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مرتبہ کابل جانے والے افراد سفارتکار یا سیاست دان نہیں بلکہ وہ شخصیات ہیں جن کی شناخت مذہبی اور عسکری پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان خلیل ماضی میں افغان طالبان کے انتہائی قریب رہے ہیں اور اسی وجہ سے ممکن ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کروانے کے لیے انہیں ایک رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو۔
مجتبی کے سپریم لیڈر بننے سے پاسداران انقلاب مضبوط تر ہو گئی
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان کے مطابق ایسے رابطے خواہ رسمی ہوں یا غیر رسمی، ان کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ عملی نتائج پیدا کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں جب وہ کابل میں سفیر تھے تو پاکستانی علما کا ایک وفد، جس کی قیادت مفتی تقی عثمانی کر رہے تھے، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے لیے افغانستان گیا تھا، تاہم اس وقت یہ کوشش پاکستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں کمی لانے کے حوالے سے زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکی تھی۔
سابق سفیر کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی مسئلہ باہمی اعتماد کی کمی ہے، جبکہ دہشت گردی اور سلامتی کے معاملات پر دونوں ممالک کا نقطہ نظر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی، تجارت اور عوامی روابط کے مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کو دوبارہ ریاستی سطح پر مؤثر سفارتی روابط بحال کرنا ہوں گے۔
