کیا مجتبیٰ خامنہ ای واقعی علاج کے لیے روس پہنچ گئے ہیں؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں عالمی میڈیا میں یہ افواہیں زور پکڑ گئی ہیں کہ وہ اپنے والد پر ہونے والے حملے میں زخمی ہونے کے بعد علاج کی غرض سے روس منتقل ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ مجتبی کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک مہلک حملے میں شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد ایران میں قیادت کی تبدیلی عمل میں آئی۔ تاہم اب یہ اطلاعات سامنے ارہی ہیں کہ اس حملے میں مجتبی خامنہ ای بھی شدید زخمی ہو گئے تھے جنہیں علاج کی خاطر روس منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ تاہم ایران نے اس حوالے سے کوئی واضح اور تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور غیر سرکاری ذرائع پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مجتبی خامنہ ای کو خفیہ طور پر روس منتقل کیا گیا، جہاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ہدایت پر ان کا علاج جاری ہے۔ بعض دعووں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں روسی صدر کی صدارتی رہائش گاہ میں رکھا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔ ایران کے سرکاری میڈیا اور حکومتی ترجمانوں کی خاموشی بھی اس خبر کو مشکوک بناتی ہے۔
عام طور پر اس نوعیت کے بڑے واقعات میں ریاستی سطح پر وضاحت دی جاتی ہے، مگر اس معاملے میں معلومات کا خلا برقرار ہے۔ دوسری جانب، بعض بیانات اور تحریری پیغامات مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے منسوب کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایک آڈیو پیغام بھی زیرِ گردش ہے جس میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا اور امریکہ سے مذاکرات کی بجائے اس سے انتقام لینے کا اعلان کیا۔
امریکی سیاست میں بھی اس معاملے پر تبصرے دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا بتایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران پر حملے کے بعد امریکہ ایک دلدل میں پھنس چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے جس کا ذمہ دار امریکی صدر ٹرمپ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث دنیا بھر کے ممالک امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر ایران کے خلاف جنگ بند کرے اور جنگ کے خاتمے کی طرف جائے۔
چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے مغربی اتحادیوں کو تجویز دی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اپنے بحری بیڑے بھیج کر آبنائے ہرمز کھلوانے میں کردار ادا کریں، تاہم یہ تجویز تمام مغربی ممالک بشمول برطانیہ اور فرانس نے مسترد کر دی ہے، جس سے امریکہ کی سفارتی پوزیشن مزید کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ مغربی ممالک نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بلاوجہ ایران پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں پوری دنیا کی معیشت نقصان اٹھا رہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھلے عام کہا کہ وہ کسی بھی صورت ایران کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ ایران کے ساتھ ڈائیلاگ کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی حمایت کریں گے۔
کیا ایران کی جنگی مزاحمت کے پیچھے روس اور چین ہیں؟
ادھر تازہ ترین پیش رفت میں امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران پر حملے کے فیصلے پر اختلافات کے باعث اپنے عہدے استعفے دے دیا ہے۔ انہوں نے ایران پر حملے کو غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی ہی ایک جنگ میں اپنی اہلیہ کو کھو دیا تھا اور وہ نہیں چاہتے کہ امریکی ماؤں کے بچے بلا وجہ کی جنگوں میں لقمہ اجل بنیں۔ کینٹ کے استعفے نے امریکی پالیسی کے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
