کیا نواز شریف PTI کے بیانیے کا جواب دینے کیلئے متحرک ہوئے ہیں؟

 

 

 

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا اچانک سیاسی طور پر متحرک ہونا تحریک انصاف کے اس بیانیے کا جواب ہے جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، اسی لیے مسلم لیگ (ن) جیت گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پہلے ہی ضمنی انتخابات کو عوامی ریفرنڈم قرار دے چکی تھیں جس پر مختلف حلقوں میں تنقید ہو رہی تھی۔ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے نواز شریف نے خود نو منتخب اراکین سے ملاقات کی اور انہیں بیانیہ تشکیل دینے کا طریقہ سمجھایا۔

 

یاد رہے کہ کافی عرصے کی خاموشی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف اچانک سرگرم دکھائی دیے ہیں۔ انہوں نے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نئے منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز سے ملاقات کی، انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کی کامیابی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ نواز شریف نے خطاب میں کہا کہ عوام نے ضمنی انتخابات میں کارکردگی کو ووٹ دیا جبکہ نفرت اور انتشار کو شکست ہوئی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں شدید تباہی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اکیلے ذمہ دار نہیں بلکہ انہیں لانے والے اس سے بھی بڑے مجرم ہیں اور ان سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ وہ دوسروں کو چور ڈاکو کہتے رہے لیکن خود سب سے آگے تھے۔

 

نون لیگی ذرائع کے مطابق اب نواز شریف دوبارہ پارٹی اراکین سے باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں تاکہ مختلف حلقوں کے مسائل سن کر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ وہ اس سے قبل پنجاب کی تمام ڈویژنوں سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ اگلے روز اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے نواز شریف نے ایک بار پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس بار ان کا ہدف موجودہ نہیں بلکہ سابقہ عسکری قیادت تھی جس پر 2018 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لانے کا الزام لگتا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق انہوں نے نام لیے بغیر سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی طرف اشارہ کیا۔ چونکہ فیض حمید پہلے ہی کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں، اسی لیے خیال ہے کہ نواز شریف کا اصل مطالبہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے احتساب سے متعلق تھا۔ انہوں نے اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ 2018 میں پراجیکٹ عمران خان کھڑا کرنے کا تجربہ نہ صرف ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑے کیونکہ بعد میں عمران خان کا ٹکراؤ انہی سے ہوا جنہوں نے انہیں اقتدار تک پہنچایا تھا۔ یہی ٹکراؤ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران کی برطرفی کا باعث بنا، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

 

لاہور میں ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے ارکانِ اسمبلی سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والے بھی ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اور انہیں بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عمران خان اکیلا مجرم نہیں بلکہ اسے لانے والے زیادہ بڑے ذمہ دار ہیں اور ان کا احتساب بھی ضروری ہے۔ مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ 2017 میں نواز شریف کی نااہلی، نیب مقدمات کی رفتار اور 2018 کے انتخابات کی مبینہ انجینیئرنگ اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے کہ اس وقت کی عسکری قیادت سیاسی منظرنامے کو کنٹرول کر رہی تھی۔ جنرل فیض حمید نہ صرف سیاسی فیصلوں پر اثر انداز تھے بلکہ اپوزیشن کے خلاف عدالتی کارروائیوں میں بھی مبینہ کردار رکھتے تھے۔ عمران خان کے دباؤ پر جنرل باجوہ نے فیض حمید کو آئی ایس آئی چیف مقرر کیا اور جنرل عاصم منیر کو ہٹا دیا۔

اڈیالہ جیل میں عمران کی موت کی افواہوں کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟

اب طویل عرصے بعد نواز شریف دوبارہ اسی لب و لہجے میں واپس آئے ہیں مگر اس بار انہوں نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کے نام لینے کی بجائے ان سابقہ فوجی عہدیداروں کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل اور جنرل قمر باجوہ کی خاموشی، دونوں سابقہ اسٹیبلشمنٹ کے حالات کی پوری کہانی بیان کر رہے ہیں۔

 

 

Back to top button