کیا پاکستان میں پولیو پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے؟

حکومت پاکستان دعویٰ کر رہی ہے کہ پاکستانیوں نے کرونا کے ساتھ بالآخر پولیو کو بھی مسترد دے دی ہے اور رواں برس اب تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آ سکا۔ اسکے برعکس سال 2019 کی بات جائے تو پاکستان میں پولیو کے 97 کیسز درج ہوئے تھے جبکہ 2020 میں یہ تعداد 84 تھی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت نے ایسے کونسے اقدامات اُٹھائے کہ ہم کرونا پولیو جیسی اہم بیماری کو ہرانے میں کامیاب ہوئے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان نے چند سالوں میں اپنی پلاننگ اور پولیو کی ٹیم پر خاصی توجہ دی، کرونا کے چند ماہ گزرنے کے بعد ہی پاکستان نے اپنی پولیو مہم کو دوبارہ شروع کر دیا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان محدود آمدورفت سے بھی پولیو مہم کو کافی مدد ملی۔ پولیو ٹیموں پر حملوں کی روک تھام کیلئے پولیو مہم انتظامیہ اور پولیس نے روابط کو بہتر بنایا، ٹیکنیکل، آپریشنل اور سماجی عناصر نے مل کر مہم کو کامیاب بنایا، پولیو مہم کے دوران اکثر علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں مل پاتے تھے،
انتظامیہ کے تفتیش کرنے پر پتا چلا کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلانا چاہتے تھے، اسی لیے وہ پہلے سے ان کی انگلی پر نیلے مارکر سے نشان لگا دیا کرتے تھے، اسی طرح پشاور سے بہت سے بچے اپنے والدین کے ساتھ سرحد پار افغانستان چلے جاتے تھے اور مہم کے دوران ‘موجود نہیں’ کا نشان ان کے گھر کے سامنے لگا دیا جاتا تھا۔
حکومت نے ایسے بچوں کو پبلک بسوں میں پولیو کے قطرے پلانے کا پلان بنایا جوکہ کامیاب ثابت ہوا، کراچی کا اتحاد ٹائون جوکہ پولیو ٹیم کے لیے نوگو ایریا بن گیا تھا کو علما، مذہبی نمائندوں کو پولیو ٹیم کا حصہ بنا کر کلیئر کیا گیا، مقامی مولویوں اور مذہبی جماعتوں کے ذریعہ لوگوں کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
جامعہ بنوریہ کے مفتی نعیم 5 ارب روپے کے مالک نکلے
2019 میں شرپسند عناصر نے ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کیلئے امریکا کے جعلی ویکسین مہم کی کہانی سنا کر لوگوں کو یوٹیوب پر ورغلانے کی کوشش کی، حکومت کے پولیو پروگرام سے منسلک ڈاکٹر شہزاد بیگ نے بتایا کہ سب سے پہلے ضروری تھا کہ لوگوں تک پہنچنے والی ٹیموں میں سرمایہ لگائیں، ہم نے نہ صرف خطرات کا جائزہ لیا بلکہ گھر گھر جانے والی ٹیم اور ان کو بھیجنے والوں کا احتساب بھی لازمی بنایا۔
کوئٹہ اور کراچی میں اب بھی ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ پولیو مہم کے خلاف ہیں لیکن اب ان کی تعداد کم ہو چکی ہے، پاکستان میں اس وقت انوائرمنٹ ٹیسٹنگ بہت زیادہ کی جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پانی اور گٹر سے سیمپل لیے جاتے ہیں جس سے پولیو وائرس کی موجودگی کے بارے میں پتا لگایا جاتا ہے۔
2021 کے اوآخر میں خیبر پختونخوا کے جنوب میں واقع اضلاع سے وائلڈ پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور جنوبی وزیرستان بھی شامل تھے، جس سے انتظامیہ کو یہ پتا چلا کہ وائرس اب بھی موجود ہے اور پنپ رہا ہے، وائلڈ پولیو تین قسم کا ہوتا ہے جس کی اب تک پہلی اور دوسری قسم کو دنیا سے ختم کیا جا چکا ہے، اب اس کی پہلی قسم کا خاتمہ باقی رہتا ہے، اور یہی وہ قسم ہے جو اس وقت پاکستان اور افغانستان میں پائی جاتی ہے۔
حال ہی میں افریقہ کے جنوب مشرق کے ملک مالاوی میں پانچ سال بعد پولیو کا نیا کیس آیا، اس کیس کی قسم وہ ہی ہے جو پاکستان میں پائی جاتی ہے، جیسے جیسے دنیا دوبارہ سے کھل رہی ہے، اس کے لیے قومی سطح پر پھر سے پولیو مہم کو جاری رکھنا ہوگا، افریقہ میں جہاں اس کی ضرورت آج بھی وہیں. پاکستان کو بھی اپنے ملک میں اس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنا ہوگا، پاکستان مکمل طور پر وائرس کا خاتمہ کر سکے گا یا نہیں یہ تو وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن اگر اسی طرح سے پولیو مہم جاری رہی، تو بیشک یہ دن بھی آ سکتا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر پولیو سے پاک ہو جائے۔
