کیا ریحام خان کی جماعت فوجی اسٹیبلشمنٹ نے لانچ کروائی ہے؟

ریحام خان کی جانب سے اپنی سیاسی جماعت کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر دعوے سامنے آ رہے تھے کہ ’پاکستان رپبلک پارٹی‘ کو مقتدر حلقوں نے پی ٹی آئی کو قابو کرنے کیلئے لانچ کیا ہے تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کاان تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ فوج کا کام سیاست نہیں سرحدوں کی حفاظت ہے، طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں اس لئے وہ اپنی کامیابی کیلئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نگاہِ کرم کی جانب نہیں دیکھ رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ریحام خان کا یہ جملہ محض ایک انٹرویو کا اقتباس نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی روایت سے انحراف کا ایک علامتی اعلان ہے۔ ریحام خان کی جماعت کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان میں سیاسی جماعتیں یا تو اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے پروان چڑھ رہی ہیں یا پھر عوامی اعتماد کھو چکی ہیں۔ اس تناظر میں ریحام کا یہ کہنا کہ "مجھے عسکری اداروں سے کوئی لینا دینا نہیں میری طاقت لوگوں سے آئے گی”, محض دعویٰ نہیں بلکہ مروجہ اشرافیہ کے خلاف بغاوت اور عوامی سیاست شروع کرنے کا بڑا اعلان ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول خود ساختہ شناخت اور تنقیدی بصیرت کے ساتھ صحافت سے سیاست تک کا سفر طے کرنے والی ریحام خان اب پاکستان کی نئی سیاسی جماعت "پاکستان رپبلک پارٹی” کی سربراہ کے طور پر اسٹیبلشمنٹ پر انحصار سے انکار کا بیانیہ لے کر سامنے آئی ہیں۔ یہ بیانیہ نہ صرف پاکستان کی سیاست میں طاقت کے مراکز کی ازسرنو تعریف کا مطالبہ کرتا ہے، بلکہ موجودہ نظامِ سیاست پر ایک غیرروایتی اور نپی تلی تنقید بھی ہے۔ انڈیپینڈنٹ اردو کو دئیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار بارے سوال کے جواب میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ سیاست میں عسکری اداروں کی مداخلت کے اصل ذمہ دار سیاستدان ہیں جو اپنے کردار سے سیاسی خلا پیدا کر کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ریحام خان کا مزید کہنا ہے کہ ان کا مسئلہ عسکری اداروں کی طاقت یا ان کی مدد سے نہیں، وہ جانتی ہیں کہ ملک کی اصل طاقت عوام میں ہے۔‘ وہ اداروں کی طرف دیکھ ہی نہیں رہیں۔ ’انھیں پتہ ہے کہ ان کو طاقت عوام سے ہی ملے گی۔ریحام خان کا مزید کہنا تھا کہ ’عسکری اداروں کا بنیادی مقصد قومی دفاع اور سرحد کی حفاظت ہے اور ان کے مفادات ملک کے داخلی اور خارجی استحکام کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ سیاست دانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قومی مفادات کو ترجیح دیں۔
انٹرویو کے دوران ریحام خان نے اصرار کیا کہ وہ سیاست میں ایک بار پھر ’90 دن کی صفائی کی مہم‘ سمجھ کر نہیں آئی ہیں، اس میں وقت لگے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعاون کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد ذاتی مفاد کی بجائے عوامی مسائل کے حل کے لیے ہو گا۔تحریک انصاف سے سیاسی اتحادبارے سوال کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ ’اگر مستقبل میں تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اتحاد کی ضرورت پڑی، تو میرا موقف یہ ہے کہ جو تحریک انصاف آج ہے، وہ اصل تحریک انصاف نہیں رہی۔ پارٹی تحلیل یعنی منتشر ہو گئی ہے۔ ’2013 میں لوگوں نے گمراہ ہو کر تحریک انصاف کو ووٹ دیے، مگر وہاں بھی موروثیت نے جنم لیا۔ انھیں نہیں لگتا کہ جو تحریک انصاف آج ہے، اس کا کوئی مستقبل ہے۔ وہ اس ایم کیو ایم کی طرح ہو گی جو پہچانی نہیں جائے گی۔‘
ریحام خان نے موجودہ سیاسی ڈھانچے پر گہری تنقید کرتے ہوئے اسے "ایلیٹ کلچر” اور "حقیقی نمائندگی سے کٹا ہوا” قرار دیا۔ ان کے مطابق، پاکستان میں 24 کروڑ عوام کی نمائندگی صرف اشرافیہ اور حلقہ وار سیاست کے تحت ہو رہی ہے، جو زمینی حقیقتوں سے لا تعلق ہے۔یہ تنقید اس بات کا غماز ہے کہ وہ محض سیاست کا حصہ بننے نہیں آئیں بلکہ اس کے ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ریحام خان کے بقول ان کی جماعت کے بنیادی نکات میں متوسط طبقے کی بحالی، خواتین کی معاشی خودمختاری، اور مقامی حکومتوں کو طاقت دینا شامل ہیں اسی لئے وہ اسٹیبلشمنٹ یا کسی سیاسی خاندان کی چھتری تلے نہیں آئیں، بلکہ وہ اپنی پارٹی کو ایک الگ شناخت اور تنقیدی سماجی شعور کے ساتھ سامنے لائی ہیں۔
خیال رہے کہ کراچی میں 16 جولائی کو ریحام خان نے ایک اخباری کانفرنس میں اپنی نئی سیاسی جماعت ’پاکستان رپبلک پارٹی‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ اس طرح وہ پاکستان کی تاریخ میں چند گنی چنی خواتین میں شامل ہو گئی ہیں جو کسی سیاسی جماعت کی سربراہ ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق ریحام خان کی سیاست ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ان کے بیانات بلاشبہ ایک بلند سوچ کا اظہار ہیں، مگر پاکستان کے زمینی حقائق، جماعتی ڈھانچے، ووٹ بینک، انتخابی سرمایہ، میڈیا کی کوریج اور بیوروکریسی کی مزاحمت ، ریحام خان کے لیے بڑا چیلنج ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے بقول سیاسی جماعت بنانا ایک بات ہے، مگر اسے عوامی سطح پر مقبول بنانا ایک بالکل مختلف جدوجہد ہے۔ پاکستانی سیاست میں وہی جماعتیں کامیاب ہوئیں جو یا تو اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہیں یا مقامی دھڑوں سے جڑی ہوئیں۔ ریحام خان کے بیانات، منشور اور وژن میں ایک صاف گوئی اور بے باکی ضرور ہے، لیکن وہ اپنے خیالات کو ایک مربوط سیاسی حکمتِ عملی، تنظیمی ڈھانچے اور عوامی سطح پر موثر رابطوں سے عملی جامہ پہنا پاتی ہیں یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم اگر وہ اپنے وعدوں کو تنظیمی قوت، عوامی رابطے اور مستقل مزاجی سے ہم آہنگ رکھنے میں کامیاب رہیں تو وہ پاکستان کی سیاست میں ایک سنجیدہ متبادل بن کر ابھرسکتی ہیں،
