سہیل آفریدی نے اسلام آباد پر چڑھائی کا حتمی منصوبہ بنا لیا؟

پشاور کے سرکاری حلقوں میں یہ افواہ گرم ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بالاخر مارو یا مر جاؤ کی پالیسی اپناتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد پر یلغار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اتوار کو پشاور میں ایک بڑا سیاسی جلسہ کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ مستقبل کے احتجاجی منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنوانے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ وہ انکی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاجی تحریک کا آغاز کریں، کیونکہ علی امین گنڈاپور اسلام آباد پر دوبارہ یلغار کرنے کے حق میں نہیں تھے اور عمران کے اس مطالبے کو قبول کرنے سے مسلسل انکار کر رہے تھے۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو سیاسی اور انتظامی سطح پر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر سکے، اور سہیل آفریدی اس کردار کے لیے زیادہ موزوں سمجھے گئے۔
اسی پس منظر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جمعرات کے روز اڈیالہ جیل پہنچے مگر عمران خان سے ملاقات کیے بغیر نویں مرتبہ واپس لوٹ آئے۔ ان کے مطابق وہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد نو دفعہ اڈیالہ جا چکے ہیں مگر ہر بار انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ’’ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ جیل آ رہا ہے لیکن اسے ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی‘‘—سہیل آفریدی نے اس صورتحال پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت مستقل رہنے والی نہیں اور اس کی یہ حرکتیں یاد رکھی جائیں گی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاق سے شدید اختلافات کے باوجود سہیل آفریدی جمعرات ہی کے روز محکمہ خزانہ بھی گئے جہاں انہوں نے این ایف سی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے فوراً بعد وہ اپنی کابینہ کے ارکان اور پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچے تاہم وہاں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔ پی ٹی آئی کے ترجمان کے مطابق یہ صورت حال نہ صرف پارٹی کے لیے ناقابلِ قبول ہے بلکہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا رہی ہے۔
سہیل آفریدی کا دعویٰ ہے کہ ان کی مسلسل بے دخلی کے باعث وفاق اور صوبے کے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اب وفاق کی جانب سے گورنر راج کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی مکمل تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بننے کے بعد صوبے میں احتجاج اور جلسوں کی رفتار بھی نمایاں طور پر تیز ہو چکی ہے۔
پارٹی کے مطابق 7 دسمبر کو پشاور میں سہیل آفریدی کا پہلا بڑا سیاسی جلسہ ہونے جا رہا ہے جس میں وہ آئندہ کی حکمتِ عملی کا اعلان کریں گے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ اتوار کے جلسے میں بھرپور شرکت کریں۔ ان کے مطابق یہ جلسہ تاریخی ہو گا اور اس میں مرکزی و صوبائی قیادت بھی خطاب کرے گی۔ جلسے کا مقام حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس رکھا گیا ہے اور آغاز دوپہر بارہ بجے ہوگا۔
تحریک انصاف کے مطابق سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد عوامی رابطہ مہم بھی شروع کر چکے ہیں۔ وہ چارسدہ اور کرک میں جلسے کر چکے ہیں جبکہ اپنے آبائی ضلع خیبر میں جرگہ بھی کیا ہے۔ تاہم پشاور کا جلسہ ان کا پہلا بڑا عوامی شو ہو گا جس میں ممکنہ طور پر احتجاجی تحریک کے خدوخال سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی پر پُرجوش ہیں لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کے سبب وہ لانگ مارچ کے حوالے سے ابہام کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے احتجاجی تحریک سے متعلق ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے سپرد کر رکھی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی جا سکی۔ سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ وہ عمران خان سے براہِ راست مل کر آئندہ کے فیصلوں کو حتمی شکل دے سکیں۔
تحریک انصاف پر پابندی اور KPK میں گورنر راج کا امکان
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی انتہائی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک طرف عوامی رابطہ مہم جاری ہے اور کارکنان پہلے سے زیادہ فعال ہیں، لیکن دوسری طرف یہ سوال شدید تشویش کا باعث ہے کہ اگر اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی گئی تو کیا لوگ اس پر لبیک کہیں گے، خصوصاً اس صورت حال میں کہ جب فوجی ترجمان نے ایک سخت پریس کانفرنس میں عمران خان کو پاگل اور ذہنی مریض تک قرار دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی ترجمان کی اس غیر معمولی سخت پوزیشن کے بعد یہ امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے کہ فیصلہ ساز سہیل آفریدی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت دیں گے۔
