کیاوفاقی حکومت نے عملاًPIA کوفروخت کردیاہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے بعد یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ قومی ایئر لائن کو عملا مفت میں فروخت کر دیا گیا ہے۔ تاہم معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کا سودا برا نہیں، کیونکہ اس سے حکومت کو ہونے والا کروڑوں روپے روزانہ کا خسارہ رک گیا ہے۔ ان کے بقول پی آئی اے کی نجکاری اس لیے پہلے ممکن نہ ہو سکی کیونکہ ہر دور کی حکومتوں نے اسے سیاسی کارکنوں کو نوازنے کے لیے استعمال کیا، اور یوں ایک عالمی معیار کی ایئرلائن تنخواہوں اور بدانتظامی کے بوجھ تلے دب کر تباہ ہو گئی۔
جاوید چوہدری اپنے تجزیے میں اس نجکاری کے طریقۂ کار اور نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ بظاہر یہ سودا متنازع دکھائی دیتا ہے، تاہم پی آئی اے کے مسلسل خسارے اور بدانتظامی کو دیکھتے ہوئے اس کی نجکاری کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔ جاوید کے مطابق موجودہ وفاقی حکومت بھی درحقیقت پی آئی اے کی نجکاری کو ٹالنا چاہتی تھی، تاہم یہ فیصلہ بالآخر سختی کے ساتھ کروایا گیا۔ ان کے بقول قومی ائیر لائن کی نجکاری کا فیصلہ ستمبر 2024 میں کراچی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بڑے بزنس مینوں کی ملاقات کے دوران ہوا، جہاں فیلڈ مارشل نے کاروباری طبقے کو مشورہ دیا کہ وہ کنسورشیم بنا کر پی آئی اے خرید لیں۔ اسی نشست میں عارف حبیب نے آمادگی ظاہر کی اور یوں یہ عمل شروع ہوا، لیکن اس کے باوجود اس سودے کو حتمی شکل دینے میں تقریباً 15 ماہ لگ گئے۔
جاوید چوہدری کے مطابق اس تاخیر کی بنیادی وجہ ہماری طاقتور بیوروکریسی کی مزاحمت تھی، جو نجکاری کے پورے عمل میں رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود بالآخر یہ فیصلہ ہو گیا، اب حکومت کو چاہیے کہ وہ پی آئی اے تک محدود نہ رہے بلکہ ملک کے باقی 20 بڑے خسارے میں چلنے والے اداروں سے بھی جان چھڑائے اور یہ اصولی فیصلہ کرے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنانا ہے۔ جاوید چوہدری اس تناظر میں عالمی مثالیں بھی پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکا، چین اور یورپ میں ایف 35 اور جے 35 جیسے جدید جنگی طیارے، میزائل، آبدوزیں اور حتیٰ کہ نیوکلیئر پلانٹس بھی نجی کمپنیاں بناتی ہیں، جبکہ پاکستان میں حکومتیں ریلوے اور ایئر لائن کے ٹکٹ بیچنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ان کے بقول اگر حکومت واقعی دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے کاروبار سے نکلنا ہوگا، ورنہ حکومت کو چاہیئے کہ گائے اور بھینسیں رکھ کر ان کا دودھ بیچنا شروع کر دینا چاہیے۔
نجکاری کے حامی معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق کاروبار حکومتوں کا کام نہیں ہوتا بلکہ یہ کام عارف حبیب اور گوہر اعجاز جیسے صنعتکاروں کو ہی زیب دیتا ہے، اور ان پر اعتماد کرنا چاہیے کیونکہ وہ نتائج دے سکتے ہیں۔ جاوید چوہدری پی آئی اے کی شاندار تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انڈیا نے 1953 میں ٹاٹا ایئرلائنز کو قومی تحویل میں لے کر ایئر انڈیا بنایا، جبکہ پاکستان میں 1955 میں وزیراعظم محمد علی بوگرا نے اورینٹ ایئرلائنز کو قومی تحویل میں لے کر پی آئی اے قائم کی۔
ابتدا میں پی آئی اے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی صفِ اول کی ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔ یہ چین کا بیرونی دنیا سے پہلا فضائی رابطہ بنی، اس نے امریکا اور یورپ کو مشرقی ممالک سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1980 کی دہائی تک کراچی کو دبئی جیسی اہمیت حاصل تھی۔ جاوید کے مطابق پی آئی اے نے فضائی سفر میں میوزک اور ویڈیو انٹرٹینمنٹ متعارف کروایا، مالٹا میں ایئر مالٹا کی بنیاد رکھی اور ایمریٹس ایئرلائن کے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ ایمریٹس کو 1985 میں پی آئی اے نے جہاز اور عملہ فراہم کیا۔ ابتدا میں اسکی پروازیں کراچی سے دبئی کے لیے چلتی تھیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیوں، یونین بازی اور کرپشن نے پی آئی اے کو زوال کی طرف دھکیل دیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ پی آئی اے کے 30 طیاروں میں سے صرف 18 ہی قابلِ پرواز رہ گئے، جبکہ انجینئر ایک جہاز کے پرزے نکال کر دوسرے میں لگا کر عارضی طور پر پروازیں چلانے پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران 2021 اور 2023 میں ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں بوئنگ 777 طیاروں کا قرضوں کے باعث ضبط ہونا عالمی سطح پر پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔ ان کے مطابق پی آئی اے کا یومیہ خسارہ 15 سے 24 کروڑ روپے تک پہنچ چکا تھا اور 2018 کے بعد سے ایئرلائن 3.3 ارب ڈالر کی مقروض ہو چکی تھی، جس کے باعث یہ ادارہ ملکی معیشت کے لیے ایک بوجھ بن گیا تھا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ بالآخر 23 دسمبر 2025 کو پی آئی اے کو عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں خرید لیا، جس میں فاطمہ گروپ، لیک سٹی، فیروز لیب اور سٹی سکول گروپ شامل ہیں، جبکہ فوجی فرٹیلائزر کے شامل ہونے کا امکان بھی ہے۔ معاہدے کے تحت کنسورشیم 75 فیصد حصص کا مالک ہوگا اور 25 فیصد حکومت کے پاس رہیں گے۔ تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ حکومت کو اس سودے میں پوری 135 ارب روپے کی رقم نہیں ملے گی بلکہ صرف 7.5 فیصد یعنی تقریباً 10 ارب 12 کروڑ روپے براہِ راست وصول ہوں گے، جبکہ باقی رقم پی آئی اے کی بحالی اور سرمایہ کاری پر خرچ کی جائے گی۔ اسی بنیاد پر ناقدین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ پی آئی اے عملاً 10 ارب روپے میں فروخت ہوئی، جو اکتوبر 2024 میں بلیو ورلڈ سٹی کی جانب سے دی گئی بولی کے برابر ہے۔ اس کے باوجود یہ سودا برا نہیں، کیونکہ اس سے حکومت کا روزانہ کروڑوں روپے کا خسارہ رک گیا ہے۔
