کیا وزیراعظم نے گورنر سندھ ٹیسوری سے استعفی مانگ لیا ہے؟

پیپلز پارٹی کی مرضی کے خلاف ایم کیو ایم کے کھاتے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے گورنر سندھ لگنے والے کامران خان ٹیسوری کو انکے عہدے سے ہٹانے کی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، اس حوالے سے تازہ خبر یہ ہے کہ پچھلے ہفتے ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کی پاداش میں وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے استعفی مانگ لیا ہے، لیکن ابھی تک باضابطہ طور پر اس خبر کی تصدیق نہیں ہو پائی۔ اطلاعات ہیں کہ اگر انہوں نے استعفی نہ دیا تو انہیں ڈی نوٹیفائی کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں مصدقہ ذرائع یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کو ٹیسوری کے بارے میں کیے گے فیصلے پر اعتماد میں لے لیا گیا ہے اور نئے گورنر کے طور پر نہال ہاشمی اور بشیر میمن کے نام زیر غور ہیں-
دوسری جانب یہ اطلاع بھی ہے کہ کامران خان ٹیسوری نے اپنی سیٹ بچانے کے لیے آئی ایس آئی میں موجود اپنے طاقتور دوست سے رجوع کر لیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود ممکنہ طور پر ترقی پا کر خفیہ ایجنسی سے رخصت ہونے والے ہیں۔ اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ کامران خان ٹیسوری گھر جائیں گے یا پھر سے بچ جائیں گے۔
یاد رہے کہ کامران ٹیسوری کو اکتوبر 2022 میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کوٹے سے گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے تقرر کے بعد سے ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی تنازعے سامنے آتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم میں ان کی شمولیت اور فوراً بعد گورنر بننے کے معاملے پر ایم کیو ایم کے اندر بھی شدید اختلافات پائے جاتے تھے، جس کی وجہ سے یہ خبریں زور پکڑتی تھیں کہ پارٹی کے ناراض دھڑے انہیں ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس دوران گورنر نے پیپلزپارٹی کی ایم کیو ایم سے روایتی مخاصمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ایم کیو ایم کے قریب کر لیا اور باقاعدہ پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کے خلاف عوامی اجتماعات میں بولنا شروع کر دیا۔ پیپلز پارٹی نے بھی جوابی طور پر گورنر سندھ کے الزامات پر سخت رد عمل دینا شروع کر دیا۔ 2022 سے سال 2025 کے نومبر تک درجنوں بار ایسی خبریں سامنے آئیں کہ گورنر سندھ کو ہٹایا جا رہا ہے، اب دوبارہ یہ خبر سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر سندھ سے استعفی مانگ لیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ گورنر کو لگانے اور ہٹانے کا آئینی اختیار کس کے پاس ہے؟
قانونی ماہرین بتاتے ہیں کہ آئین کے تحت کسی بھی صوبے کے گورنر کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدرِ مملکت کے پاس ہے، جو وزیراعظم کے مشورے پر یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ یعنی اصل فیصلہ وزیراعظم کرے گا اور پھر گورنر کی تبدیلی کا حکم نامہ صدر سائن کرے گا۔ 2024 میں حکومت سازی کے وقت گورنر سندھ کا عہدہ مسلم لیگ ن کے حصے میں آیا تھا لیکن چونکہ ایم کیو ایم نے شہباز شریف کو اپنی سپورٹ کے بدلے میں سندھ کی گورنرشپ مانگی تھی اس لیے انہیں کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ لگانا پڑا۔ یعنی بظاہر گورنر سندھ کو ایم کیو ایم کی مرضی کے بغیر انکے عہدے سے ہٹانا ناممکن تو نہیں، لیکن جب سب ٹھیک چل رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کو اپنے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کی کیا ضرورت ہے خصوصا جب اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا۔
عمران کے ورکرز انکے مستقبل سے مایوس کیوں ہونے لگے؟
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا یے کہ گورنر سندھ کو ہٹانے کی خبر مستند ہو گی تو ہی اس پر مؤقف دیا جا سکتا ہے، ورنہ ان فضول باتوں میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کامران خان ٹیسوری اچھا کام کرنے والا گورنر ہے۔ انہوں نے محرومیوں کے شکار سندھ کے عوام کے لیے اپنی جیب سے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں، لہذا وہ نہیں سمجھتے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گورنر سندھ کو مستعفی ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ ویسے بھی ابھی تک کسی نے گورنر صاحب سے استعفیٰ نہیں مانگا۔ دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت مصطفیٰ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر گورنر سندھ تبدیل ہوتے ہیں تو یہ جمہوریت کا حصہ ہے اور وزیراعظم کسی بھی گورنر کو ہٹانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ہمیشہ گورنر کا احترام کیا ہے لیکن انہیں عزت راس آتی دکھائی نہیں دیتی۔
