کیا UAE نے اپنے پیسے واپس مانگ کر ناراضی ظاہر کی ہے؟

متحدہ عرب امارات کی جانب سے اچانک پاکستان کو دیے گئے 2 ارب ڈالرز واپس مانگنے کو سفارتی حلقوں میں ناراضی کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ پاکستانی حکام نے اسے ایک معمول کا مالیاتی لین دین قرار دیا ہے، تاہم سفارتی ذرائع اسے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر تک متحدہ عرب امارات کے دو ارب ڈالرز کے ڈپازٹس واپس کر دے گا، جیسا کہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ رقم دوطرفہ معاہدے کے تحت دی گئی تھی اور اس کی واپسی معاہدے کی شرائط کے مطابق معمول کی کارروائی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ رقم کی واپسی کے مطالبے سے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
تاہم پس منظر میں سامنے آنے والی اطلاعات اس معاملے کو زیادہ پیچیدہ بناتی ہیں۔ سفارتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ پیش رفت محض مالیاتی نہیں بلکہ سیاسی اور جیو پولیٹیکل عوامل سے جڑی ہوئی ہے، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران پر حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس بحران کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جسے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے خوشگوار نظر سے نہیں دیکھا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران رد عمل میں خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر رہا ہے جن میں متحدہ عرب امارات سر فہرست ہے۔ لہذا دشمن کا دوست ہونے کے ناطے پاکستان سے اچانک دو ارب ڈالرز واپس مانگ کر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علاقائی صف بندی بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ بھارت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکہ کو ایک غیر رسمی اتحاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران کے حق میں سفارتی توازن قائم کرنے کی کوشش اس بلاک کے لیے حساس معاملہ بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے ردعمل میں متحدہ عرب امارات نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا تھا۔ اس پیش رفت نے خطے میں ایک نئی سٹریٹیجک تقسیم کو جنم دیا، جس کے اثرات اب مالیاتی فیصلوں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔
جہاں تک پاکستان کی معاشی حالت کا تعلق ہے تو اس کے کل زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21 ارب ڈالرز ہیں، جن میں سے 16 ارب ڈالرز سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ہیں۔ ان میں سے 12 ارب ڈالرز چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس پر مشتمل ہیں، جو پاکستان کے مالیاتی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے 2018 میں پاکستان کو دو ارب ڈالرز کے ڈپازٹس فراہم کیے تھے، جو کئی بار رول اوور ہوتے رہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان ڈپازٹس کو طویل مدت کے بجائے مختصر مدت کے لیے بڑھایا گیا، جس سے یہ اشارہ ملا کہ یو اے ای کے حکمرانوں کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔
فروری 2026 میں ان ڈپازٹس کو صرف دو ماہ کے لیے بڑھایا گیا تھا۔ تاہم اب اس مدت میں مزید اضافے کی بجائے یو اے ای نے پاکستان کو حتمی طور رقم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کچھ معاشی تجزیہ کار متحدہ عرب امارات کے اس مطالبے کو پاکستان کے حق میں بہتر قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بلند شرح سود، جو کہ 6 فیصد تھی، اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ انکے مطابق پاکستان اس مہنگے قرض کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے واپس کر کے مالی بوجھ کم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا ماننا ہے کہ جیو پولیٹیکل عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسے فیصلے عموماً بیک وقت کئی عوامل کے زیر اثر ہوتے ہیں، جن میں سفارتی تعلقات، علاقائی کشیدگی اور سٹریٹیجک مفادات شامل ہوتے ہیں۔ انکے مطابق اس فیصلے کے فوری اثرات پاکستان کے مالیاتی منظرنامے پر پڑ سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دو ارب ڈالرز کی واپسی سے زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوگی، جس سے بیرونی مالیاتی خلا بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ خلا 2.46 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کی نظریں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر مرکوز ہیں، جہاں سے 1.2 ارب ڈالرز کی قسط متوقع ہے۔ اس کے علاوہ حکومت دیگر دوست ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔
ایران کا جواب نہ صرف مؤثر بلکہ خوف ناک ہوگا: ایرانی وزارت خارجہ
کچھ غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں، خاص طور پر شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان خبروں کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگرچہ حکومت پاکستان کا سرکاری بیانیہ اس پیش رفت کو معمول کی مالیاتی سرگرمی قرار دیتا ہے، لیکن بدلتی ہوئی علاقائی سیاست، سفارتی تناؤ اور سٹریٹیجک مفادات اس معاملے کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ فیصلہ محض ایک مالیاتی لین دین تھا یا خطے میں ایک بڑی سفارتی تبدیلی کا پیش خیمہ تھا۔
