اداکار حسن علی کواغوا کاروں نے گھر واپس کیسے بھجوایا؟

 

معروف اداکار حسن احمد نے انکشاف کیا ہے کہ 2012 میں ان کو اغوا کر لیا گیا تھا، 35 روز اغوا کاروں کی قید میں رہنے کے بعد وہ باحفاظت جان چھڑانے میں کامیاب ہوگئے تھے جبکہ اغوا کاروں نے ان کو ٹیکسی بک کروا کر دی اور 500 کرایہ بھی دیا۔حسن احمد نے تابش ہاشمی کے ’’ پروگرام ہنسنا منع ہے‘‘ میں شرکت کی جہاں انہوں نے 2012 میں ہونیوالے اپنے ساتھ اغوا کے واقعے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اغواکار کسی اور کو اغوا کرنا چاہ رہے تھے لیکن انہوں نے سمجھا کہ اتنی محنت کرلی ہے تو مجھے اغوا کر لیا، اغواکاروں نے تاوان کے لیے ابتدائی طور پر 10 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا، اغواکار اچھے اور خاندانی لوگ تھے، اغوا ہونے کے بعد شروع کے 10 دن بہت بُرے گزرے، پاؤں میں زنجیریں، آنکھوں میں پٹی اور دونوں ہاتھ باندھ کر کمرے کے کونے میں بٹھادیا تھا، اتنا ڈر چکا تھا کہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔اس دوران اغواکاروں نے مجھے دھمکی دی کہ وہ لکڑی کاٹنے والا آرے سے میری ہڈیاں توڑ کر گٹر میں ڈال دیں گے، اس وقت ڈر لگتا تھا لیکن بعد میں ہنسی بھی آتی تھی کہ شاید مذاق کر رہے ہیں اور صرف ڈرانے کے لیے ایسا کررہے ہیں، انہوں نےمجھے اچھے برینڈ کی سگریٹ بھی لا کر دی، اغوا کاروں کا مقصد تھا کہ میں بیمار نہ ہوں اور انہیں تاوان کے پیسے پورے ملیں لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اغواکار میری اہلیہ سنیتا سے ہی فون پر بات کرتے تھے، انہوں نے سنیتا کو کہا کہ آپ ہی پیسے دینے آئیں گی لیکن اہلیہ نے بہانہ بنایا کہ وہ نقاب کرتی ہیں، اغواکاروں کو نہیں معلوم تھا کہ ہم دونوں میاں بیوی اداکار ہیں۔ حسن احمد نے بتایا کہ میرے دوست دانش خواجہ تاوان دینے کے لیےاغوا کاروں کے مخصوص مقام پر جانے کیلئے راضی ہوگئے، اس دوران ایجنسی کے لوگ بھی سادہ کپڑوں میں موجود تھے، جیسے ہی دوست نے اغواکاروں کے ساتھ تاوان کا تبادلہ کیا تو وہاں فائرنگ شروع ہوگئی، اس دوران ایک لڑکے کو ٹانگ پر گولی لگی اور اغوا کا ماسٹر مائنڈ فرار ہوگیا۔حسن احمد نے بتایا کہ اس تمام صورتحال میں وہ خود فائرنگ کی جگہ پر نہیں بلکہ اغواکاروں نے انہیں کسی اور مقام پر چھپا دیا تھا، جب اغوا کا ماسٹر مائنڈ فرار ہوا تو ایجنسی والوں نے سمجھا کہ اب میں زندہ نہیں بچ پاؤں گا چونکہ اغواکار کی فیملی پولیس کی حراست میں تھی اس لیے اس نے مجھے ایک سوسائٹی میں چھوڑا اور گھر واپس جانے کے لیے ٹیکسی بُک کروائی اور 500 روپے کرایہ ادا کیا اور 4 سگریٹ بھی دیں، اداکار نے کہا کہ گھر پہنچنے کے بعد میں ’اسٹاک ہوم سینڈرم‘ کا شکار ہو گیا تھا۔ اپنے دوست سے کہا کہ وہ اغواکار جو مجھے چائے پانی دیتا تھا اسے پولیس کی حراست سے آزاد کروا لیں، کئی دنوں میں انہیں درخواست کرتا رہا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اغواکار آزاد ہونے کے قابل نہیں اور مجھے ’’اسٹاک ہوم سینڈرم‘‘ ہوچکا ہے۔

Back to top button