حسنین لہری، نمرہ جیکب کے درمیان کس بات پر جھگڑا ہوا؟

ماڈل و اداکارہ انوشے اشرف رواں ماہ مئی کے دوران ماڈل حسنین لہری، نمرہ جیکب کے درمیان جھگڑے سے لاعلم نکلیں، جھگڑے کے معاملے پر مبہم انداز میں بات کرتے ہوئے ماڈلز کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ دونوں کے درمیان کس بات پر جھگڑا ہوا۔
انوشے اشرف حال ہی میں سما ٹی وی کے شو ’’حد کر دی‘‘ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر باتیں کیں، اے لیول کرنے کے بعد ’انڈس وژن‘ نامی ایک ٹی وی چینل سے انٹرنشپ کرنے سے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور وہ صحافی بننے کی خواہش مند تھیں۔
اداکارہ کے مطابق انٹرنشپ کے چند دن بعد ان کی ملاقات ٹی وی چینل کے مالک سے ہوئیں، جنہوں نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ وہ لڑکیوں کی تلاش میں ہیں، کیوں کہ وہ میوزک پروگرام شروع کر رہے ہیں، جس کی میزبانی کے لیے انہیں نئی لڑکی کی ضرورت ہے۔
ماڈل اور میزبان نے بتایا کہ چینل کے مالک نے انہیں اسی وقت ہی آڈیشن دینے کا کہا، جس کے بعد انہیں میزبان کی پیش کش کی گئی اور یوں ہی ان کا بطور میزبان کیریئر شروع ہوا۔ ماہرہ خان سمیت کئی اداکاراؤں نے ان کے ساتھ ہی بطور ویڈیو جوکی (وی جے) کیریئر شروع کیا تھا لیکن بعد میں سب اداکاری میں چلی گئیں۔ انہیں شروع سے ہی اداکاری کرنے کا زیادہ شوق نہیں تھا، اس لیے انہوں نے میزبانی پر ہی توجہ دی۔
انوشے اشرف نے اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ انہیں شروع سے ہی اسٹار بننے کا زیادہ شوق نہیں تھا اور بعد میں انہیں اس بات کا بھی احساس ہوچکا تھا کہ اسٹار بننے کے لیے شوبز میں آنا لازمی نہیں ہے۔
ان کے مطابق اب سیاست سے لے کر کھیل تک اور دوسرے شعبے میں بھی خدمات دینے سے لوگ اسٹار بن جاتے ہیں لیکن حالیہ دور میں اسٹار بننا مزید آسان ہوگیا ہے، اب جس کے سوشل میڈیا پر زیادہ فالوورز ہوتے ہیں، وہ بھی اسٹار ہوتے ہیں اور اسٹار ہونے کے لیے لازمی نہیں ہے کہ اداکاری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد پوری زندگی محنت کرتے ہیں لیکن انہیں زیادہ شہرت نہیں ملتی لیکن بعض افراد راتوں و رات مشہور ہو جاتے ہیں، اسی طرح بعض بڑے اسٹارز اچھے اداکار نہیں ہوتے لیکن ان کی شہرت برقرار رہتی ہے جس قدر ثانیہ سعید بہترین اداکارہ ہیں، اس کے مقابلے ان کے فالوورز کم ہیں۔
انوشے اشرف نے پروگرام کے دوران حال ہی میں ماڈل حسنین لہری اور نمرہ جیکب کے درمیان فیشن شو کے دوران ہونے والے معاملے پر بھی مبہم انداز میں بات کی اور بتایا کہ انہیں اصل حقیقت کا علم نہیں کہ دونوں کے درمیان جھگڑا کیسے شروع ہوا؟ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت معاملے کا علم ہوا جب وہاں زیادہ شور ہو چکا تھا اور لوگ جمع ہوچکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی دوسرے شخص کو دھمکیاں نہیں دینی چاہئیے تھیں اور خصوصی طور پر خاتون کو ایسے الفاظ میں دھمکیاں نہیں دینی چاہئیے تھیں کہ آپ کےساتھ یہ کر سکتا ہوں۔جھگڑے کے بعد ہر کوئی خوف زدہ ہوگیا تھا اور ہر کوئی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا تھا، اس لیے وہاں تک بات جانی ہی نہیں چاہئیے تھی۔
انوشے اشرف نے مذکورہ معاملے میں کسی کو قصور وار قرار دینے کے بجائے کسی کا نام لیے بغیر ہی تجویز دی کہ ہر انسان کو اپنی زبان کو لغام دینا چاہئے، ہر کسی کو اپنے غصے پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ جب
جسٹس فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری
غصے میں کہی گئی باتیں آگ کی طرح نکلتی ہیں تو بڑا مسئلہ بنتا ہے۔
