میٹھی غذاؤں سے اجتناب کیوں ممکن نہیں؟

جرمنی کے میکس پلانک اِنسٹیٹیوٹ اور امریکا کی ییل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر ہم مستقل بنیادوں پر اس قسم کے کھانے کھاتے رہیں چاہے چھوٹی مقدار میں کیوں نہ ہوں، ہمارا دماغ مستقبل میں ان ہی کھانوں کی طلب کرتاہے۔
تحقیق کے مطابق صحت مند، درمیانے وزن کے شرکاء میں انٹروینشنل اسٹڈی(جس میں شرکاء پر کسی دوا، طبی آلے، سرگرمی یا عمل کا استعمال کیا جائے) کا استعمال کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ چکنائی اور زیادہ چینی والی غذائیں وزن میں اضافے اور تحولی عوامل میں تبدیلی کے علاوہ کم چکنائی والے کھانے کی طلب میں کمی کر دیتی ہیں۔
یہ چیز دماغ کے انتہائی کثیف غذا کی طلب میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور نیورنل انکوڈنگ(ایک نظام جس میں نیورونز برقی سرگرمی کے ذریعے خلیوں تک پیغام رسانی کرتے ہیں) عمومی طور ہر اثر انداز ہوتی ہے۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ گروپ جس کو زیادہ چکنائی اور مٹھاس والی پوڈنگ کھلائی گئی ان کے دماغ کے ردِ عمل میں بڑی حد تک اضافہ ہوا تھا۔ ان شرکاء میں اس غذا نے ڈوپیمِنرجک نظام کو فعال کر دیا تھا۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہوتا ہے جو تحرک اور بدلے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
