ورزش دماغی امراض کو روکنے میں موثر قرار

طبی ماہرین نے ورزش کو دماغی امراض کے خلاف پہلی دفاعی لائن قرار دے دیا ہے۔
اس ضمن میں یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے بین سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے پہلے سے کی گئی 100 تحقیقات اور مطالعوں کا دوبارہ جائزہ (میٹااینالِسس) لیا، وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ شیزو فرینیا، اینزائٹی، ڈپریشن اور دیگر دماغی امراض کے لیے ورزش کو اولین دفاعی لائن قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہرقسم کی ورزش دماغ کے لیے بہت مفید ہے یہاں تک کہ یہ نفسیاتی عوارض سے بھی بچاتی ہے، بین سنگھ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ورزش کے بیش بہا طبی فوائد کے باوجود اسے ضروری پذیرائی نہیں ملی ہے۔ انہوں نے ہرعورت و مرد پر زور دیا کہ وہ ورزش یا جسمانی سرگرمی کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھے۔
ایک ڈیٹا کے مطابق دنیا میں ہر آٹھ میں سے ایک فرد کسی نہ کسی ذہنی، دماغی یا نفسیاتی عارضے کا شکار ہے، اس میں ڈپریشن سرِ فہرست ہے اور ورزش اسے مؤثر انداز میں دور کرتی ہے۔
