پاکستانی یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز پر بھی بھاری ٹیکس عائد؟

وفاقی حکومت نے بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانیوں سے پیسہ کمانے والے نان فائلر سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایف بی آر نے 50 ہزار پاکستانی سبسکرائبرز رکھنے والے سوشل میڈیا کرئیٹرز Social Media Creators پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔ ان تجاویز کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو نہ صرف ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا بلکہ انہیں اپنی ڈیجیٹل آمدن انکم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنا بھی لازمی ہوگا۔حکام کے مطابق قوانین کی منظوری کے بعد اگر کوئی بڑا یوٹیوبر یا انفلوئنسر اپنی آمدن چھپائے گا تو اس کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس اور اثاثے ضبط کیے جا سکیں گے بلکہ ٹیکس چوری ثابت ہونے کی صورت میں گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی۔ یوں لگتا ہے کہ آنے والا وقت بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان سے کمائی کرنے والے ٹیکس نادہندہ سوشل میڈیا کریئیٹرز کے لیے خاصا مشکل ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ حکومت نے اب اس شعبے کو مکمل طور پر دستاویزی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے پاکستان میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے حوالے سےجاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002 میں نئی ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں جن کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا مواد سے منافع کمانے والے غیر رہائشی افراد سے ٹیکس وصول کرنا ہے۔ ان قواعد کے مطابق ایسے تمام افراد جو انٹرنیٹ پر مبنی پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانی صارفین سے رابطے میں ہیں اور وہاں سے معاوضہ حاصل کر رہے ہیں، اب باقاعدہ ٹیکس نیٹ کا حصہ بنیں گے۔
ایف بی آر کے نئے ضوابط کے تحت وہ تمام ڈیجیٹل کریئیٹرز ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے جن کے ایک ٹیکس سال کے دوران صارفین کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر جائے یا کسی ایک سہ ماہی میں ان کے 12 ہزار 250 سے زائد صارفین ہوں۔ ماہرین کے مطابق ایف بی آر کےاس اقدام کا مقصد خاص طور پر ان بڑے انفلوئنسرز کو ہدف بنانا ہے جو بیرون ملک بیٹھ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھاری آمدن حاصل کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔
ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کرئیٹرز کی آمدن کا درست تخمینہ لگانے کے لیے ایف بی آر نے ایک فارمولا بھی وضع کیا ہے جس کے تحت یوٹیوب ویڈیوز پر فی ایک ہزار ویوز کے لیے فی الوقت 195 روپے کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ کریئیٹرز کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کل آمدن میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کے اخراجات منہا کر سکیں گے جس کے بعد باقی رقم پر وہ ٹیکس کی ادائیگی کے پابند ہو نگے۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس کی وصولی کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ کریئیٹر کی اصل موصول شدہ رقم یا سرکاری فارمولے سے نکلنے والی رقم میں سے جو بھی زیادہ ہو گی، اسے ہی بنیاد بنا کر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے متعارف کردہ قواعد کے تحت تمام متعلقہ افراد کو سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں کے ایک مخصوص حصے میں اپنی ڈیجیٹل آمدن کا باقاعدہ اعلان کرنا ہو گا جبکہ سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والوں کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس ٹیکس جمع کروانے کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی کریئیٹر کی ظاہر کردہ آمدن ان کے وضع کردہ معیار سے کم پائی گئی تو متعلقہ کمشنر کو اس غلطی کی تصحیح کرنے اور واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہو گا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ایف بی آر کا نان فائلر سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف سخت ایکشن کا فیصلہ یقیناً ایک بڑا قدم ہے۔ یہ اقدام اگر مناسب حدوں اور منصفانہ اصولوں کے تحت نافذ کیا جائے تو ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ ٹیکس نظام کو مستحکم کرنے، مالی شفافیت بڑھانے اور اقتصادی منصفانہ مواقع فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق پاکستانی یوٹیوبرز، انسٹاگرامرز، ٹک ٹاکرز، اور دیگر انفلوئنسرز لاکھوں کی اسپانسرشپ، اشتہارات، اور یوٹیوب کی کمائی کی وجہ سے نہ صرف قیمتی گاڑیوں، برانڈڈ کپڑوں اور لگژری رہائش گاہوں کے مالک ہیں بلکہ دبئی اور ترکی کے تفریحی دوروں کے ساتھ ساتھ بھرپور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں مگر جب بات آتی ہے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی، تو اکثر حضرات غائب ہو جاتے ہیں، جیسے وہ ریاست پاکستان کو جانتے ہی نہیں۔ ناقدین کے بقول یہی وہ دوغلا پن ہے جس کے خلاف اب حکومت نے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ویسے بھی اگر ایک تنخواہ دار شخص ہر ماہ اپنی آمدنی سے ٹیکس کٹواتا ہے، تو کروڑوں کمانے والے یوٹیوبرز کو رعایت دینا کہاں کا انصاف ہے۔
