تربیلا ڈیم میں سیلابی ریلے کے خدشے پر ہائی الرٹ، راول ڈیم کے اسپل ویز کھولنے کا فیصلہ

ملک کے سب سے بڑے آبی ذخیرے تربیلا ڈیم میں شدید سیلابی ریلے کے داخل ہونے کے خدشے کے باعث خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے، جس پر ڈیم انتظامیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ترجمان تربیلا ڈیم کے مطابق، اس وقت ڈیم میں پانی کی سطح 1530 فٹ ہے جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 1550 فٹ ہے۔ ممکنہ سیلابی ریلہ آنے کی صورت میں تربیلا ڈیم سے پانی کا اخراج بڑھا کر 4 لاکھ کیوسک تک کر دیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیم سے اس وقت 3500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ دریائے کابل سے 30 ہزار 900 کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔
دوسری جانب گڈو بیراج پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بیراج کنٹرول روم کے مطابق، اس وقت پانی کی آمد 3 لاکھ 92 ہزار کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 75 ہزار 422 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سطحِ آب میں 72 ہزار کیوسک سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
گلگت بلتستان : کلاؤڈ برسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ سے سیاح محصور، ریسکیو آپریشن جاری
حکام کے مطابق، گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے اور کچے کے علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ انتظامیہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاہم مقامی سطح پر سرگرمی کم نظر آ رہی ہے۔
کشمور کے علاقے میں آئندہ 4 سے 5 روز میں پانی کی سطح بڑھ کر 5 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے، تاہم فی الحال کسی شدید سیلاب کا خطرہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
ادھر راول ڈیم میں بھی پانی کی سطح 1750.10 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ مقررہ حد عبور ہونے کے بعد حکام نے آج صبح 11 بجے ڈیم کے اسپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پانی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
