اعلیٰ عدالتوں نے اپنے ماضی کے غلط فیصلوں کی تصحیح کی،عطا تارڑ

وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کاکہناہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے اپنے ماضی کے غلط فیصلوں کی تصحیح کی اور نواز شریف کے ساتھ جو عدالتی زیادتیاں ہوئی تھیں، ان پر انہیں ہائیکورٹس سے ریلیف ملا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو پاک فوج اور فیلڈ مارشل کو ٹارگٹ کرتے ہیں، ان کو انڈیا اور افغانستان میں لائیکس ملتے ہیں، یہ یہاں کہیں گے کہ ان کا ان اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں، یہ گڈ کاپ بیڈ کاپ مل کے کھیلتے ہیں، ان کی پوری اشیرباد ہے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
عطاتارڑ نے کہا کہ یہی ہاؤس تھا اور اسی ہاؤس کے اندر اسپیکر کی کرسی پر اسد قیصر براجماں تھے، اس وقت اپوزیشن کی آدھی فرنٹ لائن جیلوں میں تھی۔
عطاتارڑ نے کہا کہ اس وقت عمران خان کی چیرہ دستیاں جاری تھی، ان کی فسطائیت عروج پر تھی، اس کے باوجود ہم مذاکرات کی بات کرتے تھے، اس وقت کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ تھا وہ میثاق معیشت کرنے پر تیار ہیں، آؤ ہم سے بات کرو۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ لوگ ہمیں برا بھلا کہتے تھے، ہم تو اس ملک کی بات کر رہے تھے، اب بھی اسپیکر نے کئی بار مذاکرات کی کال دی، جس کے لیے کمیٹی بھی بنی، اپوزیشن نے اس عمل کو سبوتاژ کیا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سیلیکٹو میموری ہے جو کہتی ہے ’میرا سب اچھا ہے تمہارا سب برا ہے‘، یہ اس ملک میں نہیں چلے گا، ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا، جو میدان سے باہر تھا اس کو تنقید کا بھی کوئی حق نہیں ہے کہ ضمنی الیکشن پر بات کرے۔
وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ نے بابر نواز خان کو ہری پور سے الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ بابر نواز کے سامنے ایک بہت بڑا سیاسی خاندان تھا اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے تمام وسائل ان کے ساتھ تھے، جس میں حکومت، پولیس اور انتظامیہ شامل تھی، اس کے باوجود بابر نواز نے ان سب پر کامیابی حاصل کی اور آج قومی اسمبلی میں حلف اٹھایا۔
