پاک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل بننے والے ہندو افسران کون ہیں؟

پاک فوج میں تب ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی جب دو ہندو افسران کو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افسران کے نام لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر کیلاش کمار اور ڈاکٹر انیل کمار ہیں۔ دونوں ہندو افسران میڈیکل کور سے تعلق رکھتے ہیں اور انکی ترقی کو پاکستان میں اقلیتوں کے لیے اچھی خبر قرار دیا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کیلاش کمار اور ڈاکٹر انیل کمار پاک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پانے والے پہلے ہندو آفیسرز ہیں۔ دونوں ہندو فوجی افسران کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ تھرپارکر سندھ کے رہائشی لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر کیلاش کمار 1981 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے فوج میں 2008 میں کمیشن حاصل کیا جبکہ بدین سندھ کے رہائشی لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر انیل کمار 1982ء میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پاک فوج میں 2007 میں کمیشن حاصل کیا۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کپل دیو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ خبر شیئر کرتے ہوئے اسے تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’تاریخ بن رہی ہے۔

کیلاش کمار پہلے ہندو افسر بن گئے جنہیں پاکستان آرمی میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ مبارک ہو کیلاش۔
کپل دیو کی ٹویٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور اسے چند گھنٹوں میں ہزاروں لائکس اور ری ٹویٹ مل گئے۔ پاکستانی سینیٹ کی رکن کرشنا کماری نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان آرمی میری آرمی ہے۔ پاکستان زندہ باد۔‘ اسی دوران دل کی دھڑکن پاکستان نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اسی طرح پاکستان ترقی کرے گا۔ مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ۔ پارسی سمیت سب پاکستانی زندہ باد۔

تاہم عسکری ذرائع کے مطابق میجر کیلاش سعر انیل پاک فوج کے پہلے ہندو افسران نہیں بلکہ دو دہائیوں میں پاکستان فوج میں مقرر کیے جانے والے چھ ہندو افسران میں شا افسر ہیں۔ انکا۔کہنا یے کہ سال 2000 سے پہلے پاک فوج میں بڑے عہدے پر ہندو افسر نہیں آتے تھے مگر جنرل مشرف نے ایک حکم نامے کے تحت فوج میں ہندو جوانوں کی بڑے عہدوں پر تقرری کے احکامات دیے جس کے بعد پاکستانی فوج میں بڑے عہدوں پر ہندو افسران کی تقرری کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بعد اب تک میجر کے عہدے پر چھ ہندو مقرر ہو چکے ہیں۔ ان سب کا تعلق سندھ کے میرپور خاص ڈویژن کے مختلف اضلاع سے ہے اور چھ ہی افسر میجر ڈاکٹر کے طور پر مقرر ہوئے ہیں۔

قاف لیگ اپوزیشن سے تعاون کے لیے وزارت اعلیٰ پر اڑ گئی

عسکری ذرائع کے مطابق سال 2014 میں تھرپارکر کے رہائشی دانش دھنانی میگھواڑ کی پاک فوج میں پہلے ہندو افسر کے طور پر تقرری ہوئی تھی۔ جس کے بعد سندھ کے شہر ٹنڈوباگو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر انیل کمار کی تقرری میجر کی حیثیت سے ہوئی۔ بعد میں ڈاکٹر کیلاش میگھواڑ کی تقرری ہوئی جنھیں ان کے دوست کیلاش گرویدہ کے نام سے پکارتے ہیں۔

ان کے بعد تھرپارکر ضلع سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جیوراج پرمار، پانچویں نمبر پر میرپور خاص ضلع کے میر جی لانڈھی نامی گاؤں کے راجا نند اور تھرپارکار کے سلام کوٹ شہر کے رہائشی ڈاکٹر رمیش سوٹھار کی میجر ڈاکٹر کی حیثیت سے پاک فوج میں تقرری ہوئی۔ اس کے علاعہ اس وقت پاک فوج میں میجر سے کم عہدوں پر چار سو سے زائد ہندو کام کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 55 لاکھ آبادی کے ساتھ ہندو ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے جبکہ پاکستانی ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں اکثریت ہندوؤں کا قومی شناختی کارڈ نہ بننے کے وجہ سے انکی اصل آبادی کا تخمینہ نہیں لگایا گیا۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کی کُل آبادی ’80 لاکھ‘ افراد سے زائد ہے۔ ان کی اکثریت سندھ میں مقیم ہے اور سندھ بھی زیادہ تر ہندو زیریں سندھ کے میرپور خاص ڈویژن کے مختلف اضلاع میں آباد ہیں۔

یاد رہے کہ میجر ڈاکٹر کیلاش میگھواڑ کا تعلق عمرکوٹ ضلع کے ایک گاؤں نوہنٹو سے ہے مگر بعد میں ان کا خاندان تھرپارکار کے چیلھار شہر میں منتقل ہو گیا تھا۔ انھوں نے 2006 لیاقت میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلٹھ سائنسز جامشورو سے ایم بی بی ایس پاس کیا اور بعد میں پاکستان فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ میجر ڈاکٹر کیلاش نے 2012 میں پاکستان فوج کی جانب سے شمالی سوڈان کی ایک ہسپتال میں سینیئر ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد میں انھوں نے وزیرستان کی اورکزئی ایجنسی میں آپریشن المیزان اور سوات میں چلنے والے آپریشن راہ راست میں بھی حصہ لیا۔

انھیں تمغہ دفاع سے نوازا گیا، جو سیاچن گلیشیئر پر ڈیوٹی کرنے والے فوجی افسران کو دیا جاتا ہے کیوں کہ انھوں نے 22 ہزار فٹ کی بلندی پر کے ٹو کے نزدیک بالتورو سیکٹر کی سیڈل چوکی پر 36 دن ڈیوٹی سرانجام دی جو خود ایک ریکارڈ ہے۔

Back to top button