فلم ’’کشمیر فائلز‘‘ پر ہندو پنڈت مسلمانوں کے دفاع میں آ گئے

حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’’کشمیر فائلز‘‘ کو کشمیری مسلمانوں کی جانب سے متنازعہ قرار دیے جانے کے بعد اب ہندو پنڈتوں نے بھی اس پر اعتراض کھڑے کر دئیے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی جنگ سے متاثر ہو کر وادی کشمیر چھوڑنے والے کشمیری پنڈتوں کی روداد پر مبنی بالی ووڈ فلم میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ انہیں مسلمانوں کے مظالم کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ فلم ریلیز ہونے کے بعد بھارتی مسلمانوں نے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے اور اسے مسلمانوں کی کردار کشی کی خاطر تاریخ مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

لیکن اب خود ہندو پنڈتوں نے بھی فلم کو تاریخ مسخ خرنے کے منافی قرار دے دیا ہے۔ کشمیر فائلز نامی فلم 1990 کے دوران مقبوضہ کشمیر کے ہندو پنڈتوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں پر مبنی ہے، تاہم سنگین ترین حالات میں بھی مقبوضہ کشمیر نہ چھوڑنے والے ہندو پنڈتوں کے رہنما سنجے تِکو نے کہا ہے کہ اس فلم میں جن واقعات کو دکھایا گیا ہے وہ رونما تو ہوئے لیکن اُن کی عکاسی نہایت مبالغے اور اشتعال کے ساتھ کی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ فلم سبھی کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پیش کرتی ہے جو ایک غلط بات ہے، مجھے یاد ہے جب حالات خراب تھے، مارا ماری تھی تو کتنے ہندو پنڈت خاندانوں کو کشمیر کے مسلما خاندانوں نے بچایا تھا۔

یاد رہے کہ 1990 میں جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر پر انڈین اقتدار کے خلاف مسلح شورش شروع ہوئی تو ہزاروں پنڈت خاندان کشمیر چھوڑ کر جموں اور دوسرے انڈین شہروں میں پناہ گزین ہوگئے، یہ سوال پنڈتوں اور مسلمانوں کی نئی نسل کے درمیان سوشل میڈیا پر بحث اور کشمکش کا موجب بنا ہوا ہے۔ ان مباحثوں میں غالب بیانیہ یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں نے صدیوں سے ساتھ رہنے والے پنڈتوں کے خلاف کشمیری عسکریت پسندوں کی زیادتیوں کی حمایت کی، اور انھیں اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں کشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا، ’’کشمیر فائلز‘‘ بھی اس گمراہ کن بیانے پر مبنی فلم ہے۔

سنجے تِکو پانچ ہزار ایسے کشمیری پنڈتوں میں سے ہیں جنھوں نے اپنا گھر یعنی کشمیر نہیں چھوڑا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سب کچھ ہونے کے باوجود یہیں رہے، ہمیں بھی مسلمانوں کے ساتھ فوجی محاصروں کے دوران میدانوں میں جمع کیا جاتا تھا، ہمارے گھروں میں بھی فوج تلاشی کے لیے آتی تھی، ہمارے بھی لوگ کراس فائرنگ اور بم دھماکوں میں مارے گئے، اگر فلم واقعی سچ دکھا رہی ہے تو ہھر ہماری کہانی کہاں ہے؟

سنجے کہتے ہیں کہ تاریخی حقائق کو خاص انداز دے کر ایک مخصوص سیاسی نظریہ کو اُبھارنے سے کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں فرقہ واریت کا زہر پھیل رہا ہے، سنجے تِکو کی انجمن ‘کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی’ نے پولیس تھانوں کے مقدموں، اخباری اطلاعات اور شواہد پر مبنی ایک سروے کیا ہے جس کے نتائج کے مطابق کل ملا کر اب تک کشمیر میں 667 ہندو پنڈت مارے گئے ہیں، ان میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے علاوہ پولیس، نیم فوجی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے اہلکار اور افسر بھی شامل تھے، سنجے تِکو کے مطابق یہ سروے ابھی مکمل نہیں، لہکن میرا خیال ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 800 کے قریب ہو گی۔ لیکن ان سب ہلاکتوں کو ’کشمیر فائلز‘ میں نسل کشی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

سنجے تِکو کہتے ہیں کہ ہاں کشمیری پنڈتوں کو مارا گیا، لیکن کیا مسلمانوں کو نہیں مارا گیا، پہلا قتل تو کشمیری مسلمان سیاست دان محمد یوسف حلوائی کا ہوا تھا، کوئی حقائق کو من پسند انداز میں دکھا کر من پسند نتائج برآمد کرنا چاہتا ہے تو تاریخ بھی مسخ ہوتی ہے اور نفرتیں بھی پھیلتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمرعبد اللہ نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سبھی واقعات کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں جو 1990 میں رونما ہوئے جس کے بعد ہندو پنڈت خاندانوں نے کشمیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

اداکار عاصم اظہر نے بہن جیسی میرب سے منگنی کر لی

واضح رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 32 سال قبل مسلح شورش شروع ہوتے ہی مسلح عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں عام شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا، ان میں کشمیری بولنے والے ہندووٴں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ بھارت نواز سیاسی گروہوں کو مضبوط کرنے یا انڈین فوج اور سیکیورٹی اداروں کی اعانت میں ملوث تھے، کشمیری بولنے والے ہندووٴں کو انڈین کشمیر میں پنڈت کہتے ہیں، مسلمانوں اور پنڈتوں کی زبان، فن و ادب، بعض سماجی اور ثقافتی روایات ایک جیسے تھے۔

یہاں تک کہ گھروں میں بچوں کے عرف بھی ایک جیسے ہوتے تھے، مسلمانوں کی لڑکی اور پنڈت کی لڑکی کا نام ڈیزی یا پنکی ہوتا تھا اور اسی طرح دونوں فرقوں کے لڑکے راجو، بیٹا، یا پرنس کہلاتے تھے، تاریخی طور پر کشمیری پنڈت سماج کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ رہا ہے، اسی لیے صدیوں سے اقتدار کے قریب بھی تھا۔

Hindu Pandits came to defense of Muslims in movie Kashmir Files

Back to top button