پاکستان اور امریکا میں تاریخی تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع

پاکستان اور امریکا کے مابین اہم تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے جس کے تحت دو طرفہ تجارت کو فروغ، منڈیوں تک بہتر رسائی، سرمایہ کاری میں اضافے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت باہمی ٹیرف میں کمی بھی آئے گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ پیش رفت وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کے دوران ہوئی۔ ملاقات میں سیکریٹری کامرس جواد پال اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی شریک تھے۔
اس معاہدے کا باضابطہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا۔
وزارت خزانہ کےمطابق اس معاہدے کے تحت باہمی ٹیرف میں کمی آئے گی، خاص طور پر پاکستانی مصنوعات پر امریکا میں عائد محصولات کم ہوں گے۔اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو توانائی، معدنیات، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر اہم شعبوں پر محیط ہوگا۔
یہ معاہدہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے اور ان تعلقات کو امریکی ریاستوں تک پھیلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرےکی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کریں گے جب کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے اضافے کی بھی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کےمطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی قیادت کے اس عزم کا عکاس ہے کہ دوطرفہ تعلقات کو گہرا اور سرمایہ کاری و تجارتی روابط کو مضبوط تر بنایا جائے۔
قبل ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا: "امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل طے پا گئی ہے، الحمدللہ۔”
