تاریخ مسخ کی گئی،تعلیمی نظام کو بہترکرنےکی ضرورت ہے،خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نےکہاہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کوبہترکرنےکی ضرورت ہے،80 کےعشرے میں ہماری تاریخ مسخ کی گئی،مرڈر آف ہسٹری نامی کتاب میں درج ہےکہ نصابی کتابوں میں تاریخ کتنی غلط لکھی گئی۔
سیالکوٹ کےگورنمنٹ خواجہ صفدر میڈیکل کالج کےسالانہ کانووکیشن سے خطاب میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ تعلیمی درس گاہ میں سیاسی تقریر کرنا مناسب نہیں، آج جو گریجویٹ ہوئے ہیں، ان کیلئےدعا گو ہوں،یہ اسپتال اس شہر کے لیےکافی نہیں،آج بھی لوگوں کو لاہورجانا پڑتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پورے شہر میں ڈاکٹروں کے اشتہارلگے ہیں جس پر مجھے اعتراض ہے، کسی زمانے میں پنجابی فلموں کے اشتہار لگتے تھے، اشتہاری لوگ توہم سیاستدان ہیں، اپنی پبلسٹی کرنا ہمارا کام ہے، اللہ کرے سیاست میں بھی کوئی عزت آبرو کاخیال کیا جائے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ میری کوشش ہے کہ سیالکوٹ میں ایک اور اسپتال بنے، یہ شہر ایک میڈیکل آماجگاہ بنے، ڈاکٹرزیہاں اپنی خدمات دینےآئیں، یہاں کے صنعتکاروں نےایسےایسےکام کیے ہیں جوبڑے شہروں میں نہیں ہوئے۔وکلا اورسیاستدان کمپرومائز کر جاتے ہیں لیکن ڈاکٹرز نہیں کرسکتے،کتنی بڑی عظمت ہے کہ ڈاکٹر لوگوں کو موت کےمنہ سےنکال لاتےہیں، میں پھرگزارش کرتا ہوں ڈاکٹر اشتہاری نہ بنیں، سیالکوٹ شہرمیں صحت کی بہترسہولتوں کی فراہمی ترجیح ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ ہمارےتعلیمی نظام کو بہترکرنےکی ضرورت ہے،80 کے عشرے میں ہماری تاریخ مسخ کی گئی، مرڈرآف ہسٹری نامی کتاب میں درج ہے کہ نصابی کتابوں میں تاریخ کتنی غلط لکھی گئی، جس ملک کا دانشور طبقہ بددیانت ہو اس ملک کا کیا مستقبل ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ ہم بطور قوم خستہ پتنگ میں چیپیاں لگا کرگزارہ کررہےہیں۔
