پیشاب کو دیر تک روکے رکھنا نقصان دہ تو نہیں ہوتا؟

ایسے افراد کی کمی نہیں جو پیشاب کو بہت دیر تک روکے رکھتے ہیں، سستی، کسی دلچسپ پروگرام کو دیکھنا یا ایسی ہی متعدد وجوہات لوگوں کو ٹوائلٹ کا رخ کرنے سے روکتی ہیں۔مگر کیا یہ عادت کسی نقصان کا باعث تو نہیں بنتی؟اس سوال کا جواب سادہ نہیں بلکہ کافی پیچیدہ ہے۔

اگر آپ کا مثانے کا نظام صحت مند ہے تو پیشاب کو روکنا خطرناک نہیں ہوتا ہے، البتہ بے چینی کا سامنا ضرور ہو سکتا ہے۔مگر اس کو عادت بنانے سے ضرور چند مضر اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ایسی کوئی گائیڈ لائنز موجود نہیں جن سے معلوم ہوتا ہو کہ پیشاب کو کتنی دیر تک روکنا محفوظ ہوتا ہے، درحقیقت مختلف افراد پر اس عادت کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔

اس عادت کے چند ممکنہ منفی اثرات درج ذیل ہیں۔جو افراد پیشاب کو روکنا عادت بنا لیتے ہیں انہیں مثانے یا گردے میں تکلیف کی شکایت ہو سکتی ہے۔اسی طرح ٹوائلٹ جانے کے بعد بھی تکلیف کا احساس ہو سکتا ہے۔کئی بار زیادہ وقت تک پیشاب روکنے سے مثانے میں جراثیموں کی تعداد بڑھتی ہے، جس سے پیشاب کی نالی کی سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔

زیادہ تر طبی ماہرین کی جانب سے زیادہ وقت پیشاب کو روکنے کی مخالفت

خون چوسنے کیلئے مشہور ‘ڈریکولا’ اصل میں سبزی خور تھا

کی جاتی ہے کیونکہ اس سے پیشاب کی نالی کی سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Back to top button