8 مخصوص ججز نے سپریم کورٹ سے علیحدہ اپنی عدالت کیسے لگا لی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے قرار دیا ہے ہے کہ مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے کیس کا حتمی فیصلہ ہوا ہی نہیں اس لیے الیکشن کمیشن کے لیے اس پر عمل کرنا بھی لازمی نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے پر اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ 8 ججوں نے 13 ججوں سے الگ اپنی عدالت بنالی اور نہ صرف یہ کہ قانون کے خلاف درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دی بلکہ آئین ہی کو بدل دیا۔

مخصوص نشستوں کے کیس میں اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظر ثانی درخواست اس لیے سماعت کےلیے مقرر نہ ہوسکی کہ 8 ججز کا اکثریتی فیصلی لکھنے والے جسٹس منصور علی شاہ نے تین رکنی ججز کمیٹی کے اجلاس کے دوران چھٹیوں کا بہانہ بنا لیا اور کمیٹی کے تیسرے رکن جسٹس منیب اختر نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں پر اپنے 14 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ میں کہا کہ 8 ججز کے فیصلے میں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض تھا اور توقع ہے کہ اکثریتی ججز اپنی غلطیوں پر غور کر کے انہیں درست کریں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین تحریری ہے اور آسان زبان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے نظرثانی سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی کیوں کہ میرے ساتھی ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے اس کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے نظرثانی مقرر نہ کرنے کا مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اکثریتی فیصلہ دینے والے اپنی غلطیوں کا تدارک کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کے مطابق پاکستان کو چلائیں بجائے کہ اپنی مرضی چلائیں۔

13 ججز کے مختصر فیصلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور تحریک انصاف کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ فیصلے کی وضاحت کے لیے مجارٹی ججز کے سامنے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کہتے ہیں کہ یہ ایک انوکھا طریقہ کار وضع کیا گیا جس کی عدالتی طریقہ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

 8 ججوں کی اکثریت نے خود کو 13 رکنی فل کورٹ سے جدا کر لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کی درخواستیں صرف وہ اپنے چیمبرز میں بیٹھ کر سنیں گے۔ اس طرح سے انہوں نے خود سے ایک نیا قانون اختراع کیا کیونکہ اس عمل کی نہ تو آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی قانون۔

چیف جسٹس نے اضافی نوٹ میں تحریر کیا کہ 8 ججز کا 12 جولائی کا مختصر اور 23 ستمبر کا تفصیلی فیصلہ غلطیوں سے بھرپور ہے جب کہ ان اکثریتی ججز کی 14 ستمبر اور 18 اکتوبر کی وضاحتوں میں بھی آئینی غلطیاں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدمے کی شنوائی کے دوران کسی بھی فریق نے یہ طریقہ کار اختیار کرنے کے بارے میں ایسی کوئی تجویز نہیں دی اور اکثریتی مختصر اور تفصیلی فیصلے میں بھی اس عمل کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی گئی۔

حقیقت میں قانون سازی کرتے ہوئے اکثریتی ججوں نے اپنے ہی مؤقف کی نفی بھی کی۔ ان اکثریتی ججوں نے لکھا کہ پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کی درخواستیں صرف وہ سنیں گے۔

 جب کہ سپریم کورٹ کا متفقہ قانون یہ ہے کہ نظر ثانی وہی بینچ سنتا ہے جس نے اصل درخواست سنی ہو۔ چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ 8 ججوں نے 13 ججوں سے الگ اپنی عدالت بنالی اور نہ صرف یہ کہ قانون کے خلاف درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دی بلکہ آئین ہی کو بدل دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں اپیلوں کا حتمی فیصلہ ہوا ہی نہیں اور اکثریتی ججز نے وضاحتی درخواستوں کی گنجائش باقی رکھی۔ کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا اس پر عملدرآمد ’بائنڈنگ‘ نہیں، فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ آئینِ پاکستان کی دفعات بہت واضح اور غیر مبہم ہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آئین میں وہ مطالب و معانی تلاش نہ کیے جائیں جو اس میں موجود ہی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کا مقدمہ آرٹیکل 51 اور 106 سے متعلق تھا لیکن اکثریتی 8 ججوں کے فیصلے میں ان آرٹیکل پر سرسری غور کیا گیا۔ اکثریتی فیصلے کے پہلے 58 صفحات عام انتخابات کے خد و خال، سیاسی جماعتوں، آرٹیکل 17 اور 19 اور الیکشن ایکٹ کی بعض مخصوص دفعات سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثریتی ججز نے اپنے وضاحتی فیصلے میں تحریک انصاف کی ایک درخواست کا ذکر کیا ہے جس پر نہ تو پی ٹی آئی اور نہ ہی اس کے چیئرمین گوہر خان کے دستخط ہیں۔

مذکورہ درخواست پر اس عدالت کے ایک ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے دستخط تھے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ درخواست گزاروں کو اس معاملے میں عدالت کی معاونت کرنے کی اجازت دی جائے۔

 8 ججوں نے اپنے اکثریتی فیصلے میں 8 آرٹیکلز، 7 کتابوں کے 14 حوالے، غیر ملکی نظائر اور تقاریر کے حوالے دیے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس سب کا ہمارے آئین سے کیا تعلق ہے۔

8 ججز نے چیف جسٹس سمیت دیگر بینچ کے ممبران کو آگاہ کیے بغیر وضاحت جاری کی۔ چیف جسٹس پاکستان کی اجازت کے بغیر وضاحت ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی جب کہ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کی وضاحتی درخواستوں پر سماعت کہاں ہوئی کیوں کہ اکثریتی ججز میں سے متعدد دستیاب نہیں تھے تو چیمبر میں سماعت کیسے ہوئی۔

نوٹ میں کہا گیا کہ ججز کی عدم دستیابی کے باوجود وضاحتی فیصلہ جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ مخصوص نشتوں کے مقدمے کی پہلی سماعت سب سے پہلے ایک 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوئی جس پر پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو اسی روز معطل کرتے ہوئے سماعت کے لیے منظور کیا گیا۔

 اسی 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس مقدمے کی لارجر بینچ میں سماعت کے لیے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم 3 رکنی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بطور چیف جسٹس میں نے یہ تجویز دی کہ آئین میں مجوزہ ترمیم کی بات چل رہی ہے اس لیے اس مقدمے کی سماعت میں ان جج صاحبان کو شامل نہیں ہونا چاہیے جو ممکنہ طور پر آئینی ترمیم سے یا تو فائدہ اٹھائیں گے یا اس سے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے عہدے کی مدت 3 سال ہونے کی صورت میں چیف جسٹس کے ساتھ ساتھ 5 دیگر جج صاحبان بھی ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے تھے لیکن پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے اس بات کی مخالفت کی تو میں نے کہا کہ پھر یہ مقدمہ فل کورٹ سنے گی۔

مولانا نے پی ٹی آئی کا سیاسی امام بن کر عمران سے بدلہ کیسے لیا؟

چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے میں اپنے ایک سابقہ فیصلے سے انحراف کیا ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ان کے سامنے آیا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان، وزیر قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل چاہتے تھے کہ جنرل باجوہ بطور آرمی چیف برقرار رہیں۔ فروغ نسیم نے تو وفاقی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر جنرل باجوہ کی وکالت کی اور عابد زبیری نے ان کی معاونت کی اور 2 دن کے اندر مقدمے کا فیصلہ ہو گیا۔

 درخواست نہ منظور ہوئی نہ مسترد بلکہ جو فریقین کو مطلوب تھا وہ دے دیا گیا۔ یوں عدالت نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں اضافہ کردیا جو قانون سازی کے مترادف تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کر دی جو کہ قانون سازی کے مترادف تھا۔ آئین افراد کی خواہشات کے تابع نہیں ہونا چاہیے اور جو ایسا کریں یا اس میں اعانت کریں ان کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔

Back to top button