ایک جھوٹی خبر نے امریکی پائلٹ کو ایران سے زندہ کیسے نکالا

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایران میں تباہ ہونے والے اپنے جنگی طیارے کے پائلٹ کو زندہ بازیاب کروانے کے لیے نہ صرف ایک پیچیدہ عسکری آپریشن ترتیب دیا بلکہ ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے اس مشن کا رخ بدل دیا۔ بی بی سی کے مطابق اس خفیہ اور رسک سے بھرپور کارروائی کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ پائلٹ کی بازیابی سے پہلے ہی عالمی میڈیا میں اس کی محفوظ واپسی کی جھوٹی خبر چلوا دی گئی تاکہ ایرانی فورسز کو گمراہ کیا جا سکے اور وہ پائلٹ کی تلاش کا عمل روک دیں۔
یہ ڈرامائی سلسلہ تب شروع ہوا جب ایک امریکی ایف 15 سٹرائیک ایگل جنگی جہاز کو جمعے کے روز ایران کے جنوبی پہاڑی علاقے میں مار گرایا گیا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ تھا کہ اس جہاز کو ان کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔ بی بی سی کے مطابق اس طیارے کے گرنے کی درست جگہ کی تصدیق مکمل طور پر نہیں ہو سکی، تاہم ایرانی میڈیا نے اس علاقے کا ذکر کیا ہے، جو اپنی جغرافیائی اور سٹریٹیجیک اہمیت کی وجہ سے پہلے ہی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ طیارے میں دو اہلکار سوار تھے جنہوں نے موت سے بچنے کے لیے پیراشوٹ کا استعمال کیا، ان میں سے ایک پائلٹ کو امریکی فورسز نے فوری طور پر نکال لیا جبکہ دوسرا دشوار گزار ایرانی پہاڑوں میں لاپتہ ہو گیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں اس تک پہلے پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایران نے نہ صرف اس اہلکار کو زندہ پکڑنے کی خواہش ظاہر کی بلکہ اس کی تلاش میں مدد دینے والوں کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ انعام کا اعلان بھی کر دیا تھا جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔ ادھر امریکی حکام مسلسل اس کی لوکیشن کی نگرانی کر رہے تھے اور خفیہ ذرائع کے ذریعے اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق پائلٹ نے 24 گھنٹوں سے زائد عرصہ پہاڑوں میں تنہا گزارا، وہ پیراشوٹ کے ذریعے چٹانی زمین پر گرنے سے زخمی بھی ہو گیا تھا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پائلٹس کو ایسے حالات کے حوالے سے خصوصی تربیت دی جاتی ہے تا کہ وہ فوری طور پر حادثے کی جگہ سے دور ہو جاتے ہیں، اس کے بعد وہ دشمن سے چھپنے کے لیے قدرتی ماحول کا سہارا لیتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو پانی اور خوراک کے مقامی ذرائع تلاش کرتے ہیں۔ بازیاب ہونے والے امریکی پائلٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی پیراشوٹ چھپانے کے بعد پہاڑی چٹانوں میں بلند ترین چوٹی تک پہنچا اور پھر وہاں سے کر کے امریکی سی آئی اے کو خاص سگنل دیا تاکہ اس کی لوکیشن ٹریس ہو سکے۔ اس دوران وہ صرف ایک ہینڈگن سے مسلح تھا جبکہ ایرانی فورسز ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے قریب پہنچ رہی تھیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے نے اپنے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے مشن میں فیصلہ کن کردار ادا کیا حالانکہ اس دوران اس کے چار جہاز بھی تباہ ہوئے۔ بی بی سی اور دیگر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئی اے نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پائلٹ کا سگنل موصول ہونے کے بعد کو اسے پہاڑی دراڑ میں ٹریس کیا اور اس کی درست لوکیشن پینٹاگون کو فراہم کی۔ تاہم اس آپریشن کا سب سے اہم پہلو وہ خفیہ مہم تھی جس کے تحت عالمی میڈیا میں یہ تاثر دیا گیا کہ پائلٹ پہلے ہی بازیاب ہو چکا ہے۔ دانستہ طور پر پھیلائی گئی اس غلط انفارمیشن کا مقصد ایرانی فورسز کو گمراہ کرنا اور ان کے سرچ آپریشن کو کمزور کرنا تھا، یہی حکمت عملی بالآخر امریکی فورسز کے ہاتھوں پائلٹ کی بازیابی میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ریسکیو مشن کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا یے کہ امریکیی ریسکیو مشن کے دوران دو امریکی سی ون 30 جہاز اور دو ہیلی کاپٹر مار گرائے گئے۔ بی بی سی ویریفائی نے
ایک ویڈیو کی تصدیق کی جس میں مسلح افراد بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی ریسکیو مشن کو زمین سے بھی شدید ایرانی مزاحمت کا سامنا تھا۔۔
ایرانی مزاحمت نے صدر ٹرمپ کو شدید مشکل میں کیسے ڈال دیا؟
بی بی سی کے مطابق یہ ریسکیو آپریشن امریکی فوج کے لیے مشکل ترین مشن تھا جس کے دوران امریکی ہیلی کاپٹر دشمن کے علاقے میں انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے داخل ہوئے جبکہ دیگر طیارے فضائی نگرانی اور دفاع فراہم کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس مشن کے لیے درجنوں طیارے استعمال کیے گئے اور اسے غیر معمولی مہارت کے ساتھ انجام دیا گیا۔
آخرکار امریکی ریسکیو ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پہنچ کر پائلٹ کو نکالا اور فوری طور پر وہاں سے نکل گئی، یوں ایک ایسا مشن مکمل ہوا جس میں ہر لمحہ خطرے سے بھرپور تھا۔ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پائلٹ زخمی حالت میں واپس آ چکا ہے اور اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی مارا نہیں گیا۔
