ایران، عراق اور شام جانے والے 40ہزار زائرین کیسے اور کہاں غائب ہوئے؟

پاکستان سے زیارت کے ویزے پر ایران، عراق اور شام جانے والے 40 ہزار پاکستانی زائرین غائب ہو گئے۔ ناقدین کے مطابق چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے پاکستان سے زیارات کیلئے ایران، عراق اور شام جانے کی دیرینہ روایت انسانی سمگلنگ اور منشیات فروشی جیسے گھناؤنے کاروبار میں بدل چکی ہے۔ زیارت کے مقدس ویزے پر عراق اور ایران جانے والے ہزاروں پاکستانی اب یا تو بغداد کی گلیوں میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، یا غیر قانونی مزدور بن کر زیرزمین زندگی گزارتے دکھائی دیتےہیں اور کچھ انسانی سمگلرز کے ہاتھوں یورپ کی راہ پر نکل چکے ہیں۔ تاہم ایران ،عراق اور شام جانے والے 40 ہزار پاکستانی زائرین کہاں غائب ہوئے اس حوالے سے کسی بھی ادارے میں پاس ان افراد سے متعلق مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں

ناقدین کے بقول یہ صرف افراد کی گمشدگی نہیں، بلکہ ریاستی غفلت، سفارتی ذلت، اور قومی عزت کی بے حرمتی کی مکمل تصویر ہے۔ جس راستے سے کربلا جانا تھا، وہ اب انسانی بحران، منشیات، اور بھکاریوں کے قافلوں کا راستہ بن چکا ہے۔ زیارت کے نام پر جو سفر عقیدت سے شروع ہوتا ہے، وہ اب مایوسی، جرم اور غلامی کی منزل پر ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ریاستی ادارے خواب خرگوش کے مزے لیتے نظر آتے ہیں۔

ایف آئی اے اور وزارت خارجہ کی رپورٹس کے مطابق ہزاروں پاکستانی شہری، بالخصوص جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد، زیارت ویزہ کے نام پر عراق جا کر غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ ان میں ایک قابلِ ذکر تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جو بغداد، نجف اور کربلا جیسے مقدس شہروں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔

یہ رپورٹ اس وقت منظرِ عام پر آئی جب ایف آئی اے کوئٹہ کے ایک آفیسر کو اعلیٰ سطح کا خط موصول ہوا جس میں 66 خواتین اور بچوں کے بغداد میں بھیک مانگنے کی تصدیق کی گئی۔ ان افراد کا تعلق پاکستان کے پسماندہ اضلاع سے ہے، جیسے رحیم یار خان، راجن پور، صادق آباد، اور کشمور۔ ان خواتین کو ان کے مرد رشتہ دار چھوڑ کر واپس آ گئے، جبکہ وہ خود "زائر” بن کر گلیوں میں ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو گئیں۔ اس حوالے سے جولائی 2024 میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن کوئٹہ کی جانب سے تافتان بارڈر پر تعینات ایف آئی اے کے آفیسر انچارج کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ عموما زیارات پر جانے والی فیملیز کے مرد حضرات خواتین اور بچوں کو وہیں چھوڑ کر واپس آ جاتے ہیں جو وہاں بھیک مانگتے ہیں۔خط میں مزید بتایا گیا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی اکثریت جن کا تعلق منڈی بہاؤ الدین ، گجرانوالہ، گجرات ، حافظ آباد، وزیر آباد،شیخوپورہ اور پارا چنار سے ہے انھوں نے ایجنٹوں کو بڑی رقوم دی ہیں جو انھیں نہ صرف زیارت ویزہ کے ذریعے ایران بھیجتے ہیں بلکہ عراق میں ان کے غیر قانونی داخلے کے لیے سہولت کاری بھی کرتے ہیں۔خط میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاکستانی سفارت خانے کے کمیونٹی ویلفئر اتاشی نے عراقی حکام سے ہونے والی میٹنگ کے بعد بتایا ہے کہ عراقی حکام نے بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہریوں کی عراق میں موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ حکومت پاکستان زائرین اور ان کے ٹور آپریٹرز سے گارنٹی لے کہ وہ زیارت کے بعد پاکستان واپس جائیں گے اور خلاف ورزی کرنے کی صورت میں انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔اگر اس ٹرینڈ پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستانی شہریوں کو عراق میں بلیک لسٹ ہونے کے بھی امکانات موجود ہیں۔

خط کے مطابق بغداد میں تعینات پاکستانی سفیر نے بھی عراق میں موجود غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی سفیر کے مطابق عراق میں 40 سے 50 ہزار کے قریب پاکستانی بغداد، نجف ، کربلا ، بصرہ اور کردستان ریجن کے کچھ حصوں میں موجود ہیں اور ان میں سے بہت کم قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ کنسٹرکشن کمپنیوں ،یو این ایجنسیوں، ہیلتھ کئیر ،آئل ،ٹیلی کمیونیکیشن اور ائیر لائنز میں ملازمت کرتے ہیں جبکہ باقی افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔مشن کو خواتین بھکاریوں کی بڑی تعداد کے بارے میں معلوم ہوا تھا جن میں 30 خواتین اور 36 بچے شامل تھے جن میں نومولود بچوں سے لیکر دس سے بارہ برس کے بچے شامل ہیں اور جو رحیم یار خان،راجن پور اور شیخو پورہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان خواتین نے مشن کو بتایا کہ وہ اربعین کے دوران عراق آئی تھیں اور اس کے بعد عراق کے مختلف شہروں میں بھیک مانگ رہی تھیں۔یہ خواتین کوئٹہ سے زاہدان بذریعہ سڑک آئی تھیں۔

عراق میں موجود پاکستانی مشن کے مطابق عراق میں 18 سے 25 سال کے پاکستانی نوجوان بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو کہ ضلع حافظ آباد ،وزیر آباد ،منڈی بہاؤ الدین ، گجرانوالہ اور گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔مشن نے مزید بتایا تھا کہ عراقی حکام کے ساتھ ہونی والی ملاقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی شہری بذریعہ سڑک ایران سے عراق آتے ہوئے منشیات بھی لے کر آ رہے ہیں۔غیرقانونی طور پر عراق میں آنے والے زیادہ تر پاکستانی عاشورہ اور اربعین کے دوران ویلڈ زیارت ویزہ پر ایران آئے اور غیر قانونی طور پر عراق میں داخل ہوئے جبکہ عراق میں 21 پاکستانی شہریوں کو منشیات سے جڑے کیسز میں سزا بھی ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے امیگریشن ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران اور عراق جا کر بھیک مانگنے کے علاوہ بہت سے پاکستانی زائرین ویزہ کا استعمال کر کے تافتان بارڈر کراس کر کے ایران کی طرف آتے ہیں اور وہاں سے عراق اور ترکی چلے جاتے ہیں۔ ترکی پہنچنے کے بعد یہ پاکستانی افراد انسانی اسمگلرز کی مدد سے یونان اور اٹلی جانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یونان کشتی حادثات کے بعد اب سختیاں بہت بڑھ گئی ہیں اور اس روٹ سے جانے والے افراد کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ تاہم پھر بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتی نظر آتی ہے۔

Back to top button