جے شاہ کے سیاسی فیصلے ICC اور کرکٹ کو کیسے تباہ کر رہے ہیں؟

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور انڈین کرکٹ بورڈ کے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے عالمی کرکٹ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں کھیل پر سیاست کے سائے ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی کی قیادت بھارت سے تعلق رکھنے والے جے شاہ کے ہاتھوں میں آنے کے بعد سے عالمی سطح پر یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آیا کرکٹ کا سب سے بڑا عالمی ادارہ میرٹ پر چل رہا ہے یا سیاسی مفادات کے تابع ہو چکا ہے۔

ناقدین کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے صاحبزادے جے شاہ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو انڈین کرکٹ کونسل بنا کر رکھ دیا ہے۔ آئی سی سی کا چیئرمین بننے کے بعد سے جے شاہ نے کئی ایسے فیصلے کیے ہیں جو کہ متنازع قرار دیے جا رہے ہیں لہذا کرکٹ سے وابستہ حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ آئی سی سی کا پلیٹ فارم کھیل کے فروغ کے بجائے بھارت کے سیاسی و سفارتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، خصوصاً ہمسایہ ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں۔

یاد رہے کہ جے شاہ آئی سی سی کی سربراہی سنبھالنے سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ  کے سربراہ تھے، جہاں انکی جانب سے کیے گئے ماضی کے کئی فیصلے آج بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی سی سی کا سربراہ بننے کے باوجود جے شاہ آج بھی بھارتی کرکٹ بورڈ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک متنازع فیصلہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل میں حصہ لینے سے روکنا ہے کیونکہ آج کل بنگلہ دیش اور انڈیا کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں۔ مستفیض الرحمن کو بالی وڈ سپر سٹار شاہ رخ خان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپوں میں خریدا تھا، تاہم بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، شیو سینا اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کے دباؤ کے بعد بی سی سی آئی نے انہیں آئی پی ایل ٹورنامنٹ سے فارغ کر دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خالصتاً سیاسی تھا، جس کا کھیل یا پیشہ ورانہ میرٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے غیرمعمولی طور پر سخت موقف اختیار کیا اور ایک ہنگامی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کے لیے انڈیا نہیں بھیج سکتا۔ بورڈ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی تیسرے ملک میں منتقل کیے جائیں۔ اس سے پہلے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ پاکستانی ٹیم بھی بھارت نہیں جائے گی اور وہ اپنے حصے کے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی۔

یہ ورلڈ کپ 7 فروری 2026 سے شروع ہونا ہے جس کی میزبانی انڈیا اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش نے اپنے گروپ مرحلے کے تمام میچز انڈیا میں کھیلنے تھے اور پہلا میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف 7 فروری کو ہونا تھا۔ اب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی سلامتی اور محفوظ ماحول میں شرکت یقینی بنانا بورڈ کی اولین ترجیح ہے۔ بورڈ کے اعلامیے میں مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے فارغ کرنے کو بھی براہِ راست اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش نے نہ صرف انڈیا میں ہونے والے آئی سی سی ایونٹ میں شرکت سے انکار کیا ہے بلکہ اپنے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات دکھانے سے بھی روکنے کا اعلان کیا ہے، جسے کرکٹ کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر انڈین سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ معروف انڈین سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے کہا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اپنے فیصلے پر قائم رہا تو اسے ورلڈ کپ سے باہر بھی ہونا پڑ سکتا ہے۔ سابق کرکٹر آکاش چوپڑا نے بنگلہ دیشی موقف پر تنقید کرتے ہوئے 1971 کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیا اور کہا کہ اتنے کم وقت میں میچز کی منتقلی مشکل ہو گی۔ اس کے برعکس پاکستان اور بنگلہ دیش کے صارفین اور کئی سابق کھلاڑیوں نے اس فیصلے کو خودداری اور سلامتی سے جوڑتے ہوئے سراہا۔ پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے سوال اٹھایا کہ اگر انڈیا سیاسی رہنماؤں کو پناہ دے سکتا ہے تو ایک غیرسیاسی کرکٹر کو آئی پی ایل کھیلنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

انڈیا میں بنگلہ دیش کے خلاف بڑھتے منفی جذبات کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے ساتھ ہونے والے حالیہ واقعات بتائے جا رہے ہیں، جن پر انڈین حکومت اور انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل آیا۔ اسی تناظر میں مستفیض الرحمن اور شاہ رخ خان کو نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ شاہ رخ کو بعض رہنماؤں نے ’غدار‘ تک قرار دیا، جس کی کانگریس اور مسلم تنظیموں نے مذمت کی۔ معروف انڈین صحافی راجدیپ سردیسائی نے اس صورتحال کو دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی زوال قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ 1971 سے 2026 تک، یہ کہاں آ گئے ہم؟ مبصرین کے مطابق یہ بحران صرف ایک کھلاڑی یا ایک ٹورنامنٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے آئی سی سی کی غیرجانبداری، بی سی سی آئی کے اثر و رسوخ اور عالمی کرکٹ میں سیاست کے بڑھتے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر آئی سی سی واقعی عالمی ادارہ ہے تو اسے تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوگا، بصورت دیگر خدشہ ہے کہ کرکٹ ایک کھیل کے بجائے طاقتور ریاستوں کی سیاست کا میدان بن کر رہ جائے گی۔

Back to top button