جرنیل، ججز، حکومت اور اپوزیشن اپنی ہی جڑیں کیسے کاٹ رہے ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستانی سیاست کے گلشن کی ہر شاخ پر الوؤں کا بسیرا ہے جو ایک دوسرے کا گھونسلہ گرانے کی کوشش میں اپنی ہی شاخیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ مذید کہتے ہیں کہ بظاہر تو اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے درختوں کی شاخیں کاٹنے میں مصروف ہیں لیکن غور کیا جائے تو یہ سب ایک ہی شاخ پر بیٹھے ہیں جس کے کٹنے سے یہ سب دھڑام سے نیچے جا گریں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ایک ناول میں لکھا تھا کہ ’’اُلو ہمارے بھائی ہیں‘‘ مگر اس گنہگار کو اس رشتے پر اعتراض ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ہمارے مامے ہیں جو گلستان کو ریگستان بنانا چاہتے ہیں۔ یہ وہی اُلو ہیں جنہوں نے پاکستان کو 75 سال میں تضادستان بنا دیا ہے۔ یہ ملک بنا تو پاکستان کے نام سے تھا مگر پہلے گیارہ سال میں ہی چند بڑے ناموں کی وجہ سے فیوڈلستان بنا پھر طاقتور سول بیوروکریٹس نے اسے کٹھ پتلی بنا کر بیورو کریٹستان بنا ڈالا پھر ایوب خان نے اسے فوجستان کا رنگ دینے کی کوشش کی، درمیان میں ججز نے اپنی باری لگائی تو اسے ججستان بنا ڈالا، چیف جسٹس وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کا بھی باپ بن بیٹھا۔ وہ مذید لکھتے ہیں کہ حالیہ دس پندرہ برسوں میں ہائبرڈ نظام ہے پاکستان کو تضادستان بنا دیا ہے۔ ریاست کے اندر ان تبدیلیوں میں ہمارے مامے اُلوئوں کا بہت زیادہ کردار رہا ہے یہ اُلو مامے کبھی فوج کے ذریعے، کبھی عدلیہ کے ذریعے، کبھی اہل سیاست کے ذریعے اور کبھی نوکر شاہی کے ذریعے اور کبھی کبھی صحافت کے ذریعے فکری اور عملی تباہی لاتے رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مشرقی دنیا میں اُلو کو نحوست اور تباہی کی علامت سمجھا جاتا ہے ہم اسے بے وقوفی کا مترادف قرار دیتے ہیں جبکہ مغربی دنیا میں اُلو خوش بختی کی علامت ہے۔ اسی لیے ہم پاکستان میں اکثر یہ محاورہ سنتے ہیں کہ ‘ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا’۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسی مشرقی روایت کی پیروی میں مجھے آج کے اُلو مامے کی تلاش ہے جو ریاست کا بندوبست چلنے نہیں دے رہا۔ ایک طرف سیاسی، معاشی اور اعتماد کے بحران ہیں، دوسری طرف عجیب وغریب قسم کے کارنامے سرانجام دیئے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے جلسے میں جو رویہ اختیار کیا اسے صحافیوں، دانشوروں اور رائے عامہ نے سختی سے مسترد کر دیا گویا تحریک انصاف کے اندر اُلوئوں نے وہ کام کیا جو بیگانے اور دشمن برسوں نہیں کر پائے مگر اُلو صرف ایک طرف نہیں ہر طرف ہیں کیونکہ یہی تو ہمارے مامے ہیں انہوں نے تو ہمیں اس حال کو پہنچایا ہے۔ قومی اسمبلی کی بتیاں بجھا کر اراکین اسمبلی کی گرفتاریاں کروانے والا کون تھا؟ وہ بھی لازماً ہمارا کوئہ ماما ہی ہو گا۔ حالیہ برسوں میں مجھے اس سے بڑا احمقانہ اقدام کوئی اور نہیں لگتا، حکومت اس سے دبائو میں آ گئی، تحریک انصاف مظلوم بن گئی۔ اس اقدام کے بارے میں کم از کم یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ احمقانہ قدم حکومت اور فوج کے گلے میں پڑ گیا ہے۔ سہیل کہتے ہیں کہ ہمارے اُلو ماموں نظم وضبط کے معاملے میں تمام حدود عبور کر جاتے ہیں۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ آج کی فوج بھی ان تجاوزات کو روکے، اگر ماضی میں فوج کی تجاوزات غلط تھیں اور ان کا احتساب ضروری ہے تو آج کی فوج کی تجاوزات کا بھی حساب ہونا چاہئے ورنہ اُلو تضادستان کو وحشتستان بنا دیں گے۔
